مادورو کی گرفتاری پر شرط لگانے والا جواری مالا مال ہوگیا؛ کتنے ڈالرز کمائے؟
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
امریکی فورسز کے ہاتھوں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی اہلیہ سمیت گرفتاری نے جہاں دنیا بھر میں ہلچل مچادی تھی وہیں کرپٹو کرنسی کا جواری مالدار آدمی بن گیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایک کرپٹو جواری نے 3 جنوری کے واقعے سے قبل شرط لگائی تھی کہ وینزویلا کے صدر گرفتار ہونے والے ہیں۔
کسی کو اس پر رتّی برابر بھی یقین نہیں تھا اس لیے آن لائن پر کافی جواریوں نے اس شرط پر پیسا لگایا کہ کامیابی حتمی تھی۔
یہ شرط کرپٹو کرنسی سے چلنے والے پلیٹ فارم پولی مارکیٹ پر لگائی گئی تھی، جہاں صارفین سیاسی اور عالمی واقعات پر داؤ لگا سکتے ہیں۔
حال ہی میں شامل ہونے والے ایک صارف نے ساڑھے بتیس ڈالر کے عوض شرط لگائی تھی کہ جنوری کے اختتام تک نکولس مادورو گرفتار ہوکر اقتدار سے باہر ہو جائیں گے۔
پولی مارکیٹ کے اعداد و شمار کے مطابق دیکھتے ہی دیکھتے جواریوں نے اس پر خوب پیسا لگایا اور حیران کن طور پر نیا صارف یہ شرط جیت گیا۔
وینزویلا کے صدر نہ صرف گرفتار ہوئے بلکہ نیویارک میں مقدمے کا سامنا کر رہے ہیں اور ان کی جگہ ملک کی صدارت نائب صدر کے ہاتھوں میں آئی ہے۔
جس پر شرط لگانے والے صارف نے 4 لاکھ 36 ہزار ڈالر سے زائد کا غیر معمولی منافع کمایا۔ اس اکاؤنٹ کی شناخت تاحال معلوم نہیں ہو سکی اور یہ صرف بلاک چین پر موجود حروف اور اعداد پر مشتمل شناخت کے ذریعے رجسٹرڈ تھا۔
تاہم اب اس بات پر سنگین سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں کہ آیا کسی نے امریکی فوج کی کارروائی سے متعلق خفیہ معلومات پیشگی کسی کو دی تو نہیں تھی جس کا فائدہ جواری نے اٹھایا۔
یاد رہے کہ جمعہ 2 جنوری کی دوپہر تک وینزویلا کے صدر مادورو کے اقتدار سے ہٹنے کے امکانات محض ساڑھے چھ فیصد سمجھے جا رہے تھے۔
تاہم آدھی رات سے کچھ پہلے یہ شرح گیارہ فیصد تک پہنچ گئی اور 3 جنوری کی علی الصبح اس میں اچانک اضافہ ہوا۔
کچھ ہی دیر بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اعلان کیا کہ نکولس مادورو امریکی تحویل میں ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ شرطوں میں اچانک اس اضافے سے یہ تاثر ملتا ہے کہ کسی کو پیشگی معلومات حاصل تھیں۔
مالیاتی اصلاحات کے لیے سرگرم غیر جانبدار ادارے بیٹر مارکیٹس کے چیف ایگزیکٹو ڈینس کیلہر نے کہا کہ اس شرط میں اندرونی معلومات کی بنیاد پر تجارت کی تمام نشانیاں موجود ہیں۔
اس کے علاوہ پولی مارکیٹ کے چند دیگر صارفین نے بھی مادورو کی گرفتاری سے متعلق شرطوں پر دسیوں ہزار ڈالر کمائے۔ اس معاملے نے امریکی قانون سازوں کی توجہ بھی حاصل کر لی ہے۔
نیویارک سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ رکن کانگریس رچی ٹوریس نے پیر کے روز ایک بل پیش کیا ہے جس کا مقصد سرکاری ملازمین کو ایسے پیشگوئی بازاروں میں شرط لگانے سے روکنا ہے جہاں ان کے پاس غیر عوامی اور اہم معلومات موجود ہوں۔
یاد رہے کہ پیشگوئی پر مبنی مارکیٹس حالیہ برسوں میں امریکا میں تیزی سے مقبول ہوئی ہیں۔ 2024 کے امریکی صدارتی انتخابات کے دوران ان پلیٹ فارمز پر سیکڑوں ملین ڈالر کی شرطیں لگائی گئیں۔
اگرچہ اسٹاک مارکیٹ میں اندرونی معلومات پر تجارت غیر قانونی ہے تاہم پیشگوئی بازاروں کے لیے قوانین نسبتاً کم سخت ہیں۔
بائیڈن انتظامیہ کے دور میں ان پلیٹ فارمز کو ریگولیٹری جانچ کا سامنا رہا جبکہ ٹرمپ دور میں اس صنعت کو نسبتاً زیادہ حمایت حاصل ہوئی۔
یہ بھی قابل ذکر ہے کہ صدر ٹرمپ کے صاحبزادے ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر کلشی اور پولی مارکیٹ دونوں میں مشاورتی کردار ادا کرتے ہیں۔
کلشی کے ترجمان نے کہا ہے کہ ان کا پلیٹ فارم ہر قسم کی اندرونی معلومات اور بشمول سرکاری ملازمین کی ایسی سرگرمیوں پر مبنی تجارت کی سختی سے ممانعت کرتا ہے۔
مادورو کی گرفتاری سے متعلق اس شرط نے نہ صرف مالیاتی شفافیت بلکہ قومی سلامتی اور اخلاقی سوالات کو بھی جنم دے دیا ہے، جن پر آئندہ دنوں میں مزید تحقیقات متوقع ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: وینزویلا کے صدر پولی مارکیٹ مادورو کی
پڑھیں:
امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ان کمپنیوں سے لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے اور افراد بھی پابندیوں کی زد میں آسکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی محکمہ خزانہ نے ایران سے متعلق نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں، چار ایرانی شہریوں اور چار کرپٹو ایکسچینجز پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ان کمپنیوں سے لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے اور افراد بھی پابندیوں کی زد میں آسکتے ہیں۔ دوسری طرف ایرانی خبر ایجنسی نے کہا ہے کہ ایران نے امریکا کے مجوزہ حتمی منصوبے پر اب تک کوئی جواب نہیں بھیجا ہے۔
مہر نیوز کی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی مجوزہ منصوبے پر ایران میں بات چیت جاری ہے، امریکی تجویز کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ایرانی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماضی کے تجربات کی بنیاد پر، ایران ٹھوس اور حقیقی فوائد حاصل کرنے کا خواہاں ہے۔