امریکی فورسز کے ہاتھوں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی اہلیہ سمیت گرفتاری نے جہاں دنیا بھر میں ہلچل مچادی تھی وہیں کرپٹو کرنسی کا جواری مالدار آدمی بن گیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایک کرپٹو جواری نے 3 جنوری کے واقعے سے قبل شرط لگائی تھی کہ وینزویلا کے صدر گرفتار ہونے والے ہیں۔

کسی کو اس پر رتّی برابر بھی یقین نہیں تھا اس لیے آن لائن پر کافی جواریوں نے اس شرط پر پیسا لگایا کہ کامیابی حتمی تھی۔

یہ شرط کرپٹو کرنسی سے چلنے والے پلیٹ فارم پولی مارکیٹ پر لگائی گئی تھی، جہاں صارفین سیاسی اور عالمی واقعات پر داؤ لگا سکتے ہیں۔

حال ہی میں شامل ہونے والے ایک صارف نے ساڑھے بتیس ڈالر کے عوض شرط لگائی تھی کہ جنوری کے اختتام تک نکولس مادورو گرفتار ہوکر اقتدار سے باہر ہو جائیں گے۔

پولی مارکیٹ کے اعداد و شمار کے مطابق دیکھتے ہی دیکھتے جواریوں نے اس پر خوب پیسا لگایا اور حیران کن طور پر نیا صارف یہ شرط جیت گیا۔

وینزویلا کے صدر نہ صرف گرفتار ہوئے بلکہ نیویارک میں مقدمے کا سامنا کر رہے ہیں اور ان کی جگہ ملک کی صدارت نائب صدر کے ہاتھوں میں آئی ہے۔

جس پر شرط لگانے والے صارف نے 4 لاکھ 36 ہزار ڈالر سے زائد کا غیر معمولی منافع کمایا۔ اس اکاؤنٹ کی شناخت تاحال معلوم نہیں ہو سکی اور یہ صرف بلاک چین پر موجود حروف اور اعداد پر مشتمل شناخت کے ذریعے رجسٹرڈ تھا۔

تاہم اب اس بات پر سنگین سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں کہ آیا کسی نے امریکی فوج کی کارروائی سے متعلق خفیہ معلومات پیشگی کسی کو دی تو نہیں تھی جس کا فائدہ جواری نے اٹھایا۔

یاد رہے کہ جمعہ 2 جنوری کی دوپہر تک وینزویلا کے صدر مادورو کے اقتدار سے ہٹنے کے امکانات محض ساڑھے چھ فیصد سمجھے جا رہے تھے۔

تاہم آدھی رات سے کچھ پہلے یہ شرح گیارہ فیصد تک پہنچ گئی اور 3 جنوری کی علی الصبح اس میں اچانک اضافہ ہوا۔

کچھ ہی دیر بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اعلان کیا کہ نکولس مادورو امریکی تحویل میں ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ شرطوں میں اچانک اس اضافے سے یہ تاثر ملتا ہے کہ کسی کو پیشگی معلومات حاصل تھیں۔

مالیاتی اصلاحات کے لیے سرگرم غیر جانبدار ادارے بیٹر مارکیٹس کے چیف ایگزیکٹو ڈینس کیلہر نے کہا کہ اس شرط میں اندرونی معلومات کی بنیاد پر تجارت کی تمام نشانیاں موجود ہیں۔

اس کے علاوہ پولی مارکیٹ کے چند دیگر صارفین نے بھی مادورو کی گرفتاری سے متعلق شرطوں پر دسیوں ہزار ڈالر کمائے۔ اس معاملے نے امریکی قانون سازوں کی توجہ بھی حاصل کر لی ہے۔

نیویارک سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ رکن کانگریس رچی ٹوریس نے پیر کے روز ایک بل پیش کیا ہے جس کا مقصد سرکاری ملازمین کو ایسے پیشگوئی بازاروں میں شرط لگانے سے روکنا ہے جہاں ان کے پاس غیر عوامی اور اہم معلومات موجود ہوں۔

یاد رہے کہ پیشگوئی پر مبنی مارکیٹس حالیہ برسوں میں امریکا میں تیزی سے مقبول ہوئی ہیں۔ 2024 کے امریکی صدارتی انتخابات کے دوران ان پلیٹ فارمز پر سیکڑوں ملین ڈالر کی شرطیں لگائی گئیں۔

اگرچہ اسٹاک مارکیٹ میں اندرونی معلومات پر تجارت غیر قانونی ہے تاہم پیشگوئی بازاروں کے لیے قوانین نسبتاً کم سخت ہیں۔

بائیڈن انتظامیہ کے دور میں ان پلیٹ فارمز کو ریگولیٹری جانچ کا سامنا رہا جبکہ ٹرمپ دور میں اس صنعت کو نسبتاً زیادہ حمایت حاصل ہوئی۔

یہ بھی قابل ذکر ہے کہ صدر ٹرمپ کے صاحبزادے ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر کلشی اور پولی مارکیٹ دونوں میں مشاورتی کردار ادا کرتے ہیں۔

کلشی کے ترجمان نے کہا ہے کہ ان کا پلیٹ فارم ہر قسم کی اندرونی معلومات اور بشمول سرکاری ملازمین کی ایسی سرگرمیوں پر مبنی تجارت کی سختی سے ممانعت کرتا ہے۔

مادورو کی گرفتاری سے متعلق اس شرط نے نہ صرف مالیاتی شفافیت بلکہ قومی سلامتی اور اخلاقی سوالات کو بھی جنم دے دیا ہے، جن پر آئندہ دنوں میں مزید تحقیقات متوقع ہیں۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: وینزویلا کے صدر پولی مارکیٹ مادورو کی

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
  • لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا
  • کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا