چیئرمین سینیٹ، مخدوم سید احمد محمود ملاقات، باہمی امور پر تبادلہ خیال
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
لاہور:(نیوزڈیسک) چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ جنوبی پنجاب کے عوام کو درپیش سماجی و معاشی مسائل کا حل قومی ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے اور خطے کی متوازن ترقی کے لیے مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مخدوم سید احمد محمود کی رہائش گاہ پر ملاقات کے دوران کیا ۔ملاقات میں سید علی قاسم گیلانی اور مخدوم سید مرتضیٰ محمود، رکن قومی اسمبلی بھی موجود تھے۔ اس موقع پر ملکی مجموعی سیاسی صورتحال، جنوبی پنجاب کے عوام کو درپیش مسائل، علاقائی ترقیاتی ترجیحات، سیلاب کے بعد بحالی کے عمل، سموگ اور ماحولیاتی آلودگی سے پیدا ہونے والے چیلنجز پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران جنوبی پنجاب میں جاری اور مستقبل کے ترقیاتی منصوبوں کا بھی جائزہ لیا گیا، جن کا مقصد عوامی فلاح و بہبود، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور پائیدار ترقی کو یقینی بنانا ہے۔ اس امر پر اتفاق کیاگیا کہ جنوبی پنجاب کی ترقی کے لیے مربوط حکمتِ عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عوام کو درپیش مسائل کا دیرپا حل ممکن ہو سکے۔چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے اس موقع پر جنوبی پنجاب کے عوام کے لیے اپنی وابستگی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ خطے میں مساوی ترقی، معاشی بہتری اور سماجی انصاف کے فروغ کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔