پنجاب اسمبلی میں وفاقی افسران کی صوبوں میں تعیناتی کے خلاف تحریک التوا سے متعلق اسمبلی سیکرٹریٹ نے تحریک التواء کا جواب کے لئے متعلقہ محکمے کو ارسال کر دی۔

اسمبلی ذرائع نے کہا کہ  تحریک التواء کار محکمہ ایس اینڈ جی اے ڈی کو ارسال کی گئی، تحریک التواء کار پر اسمبلی سیکرٹریٹ نے حکومتی موقف مانگ لیا، جواب آنے پر تحریک التواء کار ایوان میں دوبارا زیر بحث لائی جائے گی، تحریک التواء کار مشترکہ طور پر 13 حکومتی ارکان کی جانب سے جمع کروائی گئی۔

تحریک التواء کار ایوان میں پیش ہو چکی، حکومتی جواب آنے تک مؤخر کی گئی، گزشتہ اجلاس میں تحریک التواء کار احمد اقبال چودھری نے پیش کی تھی، تحریک التواء کار کی حمایت ایوان میں اپوزیشن نے بھی کی تھی۔

متن  کے مطابق یہ ایوان اس امر پر غور و بحث کے لیے ملتوی ہو کہ پنجاب میں صوبائی آسامیوں پر مسلسل وفاقی افسران کی تعیناتی کے باعث ایک آئینی اور گورننس کا بحران جنم لے رہا ہے، جو اٹھارویں آئینی ترمیم کی روح کے منافی اور آئین اسلامی جمہوریہ ،پاکستان 1973 کے وفاقی ڈھانچے سے متصادم ہے۔

جبکہ آئین صوبہ پنجاب کو سیاسی اور مالی خود مختاری کی ضمانت دیتا ہے،  تاہم انتظامی خودمختاری اب تک نظر انداز کی جا رہی ہے، باوجود اس کے کہ آئین کے آرٹیکلز 97، 137، 240 اور اور پنجاب سول سرونٹس ایکٹ 1974 صوبائی سروس کے لیے واضح قانونی فریم ورک مہیا کرتے ہیں،  یہ قوانین 1974 سے قبل کے انتظامات کو غیر مؤثر قرار دیتے ہیں۔

متن  کے مطابق یہ غیر معمولی صورت حال صوبے کے چیف ایگزیکٹو وزیر اعلیٰ کے اختیار کو کمزور کرتی ہے، وفاقی افسران پر صوبائی پالیسی لاگو نہیں ہوتی، جس کے نتیجے میں احتساب تسلسل اور اصلاحات کی ملکیت متاثر ہوتی ہے، صوبہ نتائج کا ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے جبکہ انتظامی مشینری بر اس کا کنٹرول محدود رکھا جاتا ہے۔

 وفاقی افسران کو ترجیح دینا پنجاب کی اپنی صوبائی سول سروس پر ادارا جاتی عدم اعتماد کی عکاسی کرتا ہے، یہ تفویض اختیارات اور صوبائی خودمختاری کے اصولوں کے منافی ہے، ایوان فوری طور پر اس امر پر بحث کرے کہ صوبائی آسامیوں پر وفاقی تعیناتیوں کی بنیاد وسعت اور نتائج کیا ہیں، پنجاب کے آئینی مینڈیٹ اور انتظامی کنٹرول کے درمیان پائے جانے والے خلا کے آئینی مضمرات کیا ہیں؟

 یوان بحث کرے کہ جوابدہ صوبائی سول سروس کو مضبوط بنانے کی ضرورت کیا ہے، اس کے لئے وفاقی نظاموں میں انتظامی کارکردگی کے اصولوں اور مشترکہ ممالک کے تقابلی تجربات سے رہنمائی حاصل کی جائے، ایوان مزید قرارداد منظور کرتا ہے کہ صوبائی انتظامی خودمختاری اور سول سروس اصلاحات سے متعلق ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی جائے۔

متن  کے مطابق  کمیٹی 180 دن کے اندر اپنی رپورٹ پیش کرے، رپورٹ میں صوبائی آسامیوں پر وفاقی افسران کی تعیناتیوں کی نشاندھی اور ہر تعیناتی کی قانونی بنیاد شامل ہو، رپورٹ میں احتساب کے طریقہ کار کا جائزہ تقرری و تبادلے کا اختیار کارکردگی کا جائزہ اور کنٹرول شامل ہو، رپورٹ میں صوبائی سول سروس میں اصلاحات اور کیڈر کی مضبوطی سے متعلق سفارشات شامل ہوں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: وفاقی افسران کی سول سروس

پڑھیں:

تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی