صوبائی حکومت کسی بھی ملٹری آپریشن کی اجازت نہیں دے گی،سہیل آفریدی
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
15 نکاتی ایجنڈے میں واضح کیا گیا کہ ملٹری آپریشن کسی بھی مسئلے کا حل نہیں،وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا
تمام فریق مل کر بیٹھیں گے تو مؤثر پالیسی بنے گی اور امن بحال ہوگا،صوبائی کابینہ اجلاس سے خطاب
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت کسی بھی ملٹری آپریشن کی اجازت نہیں دے گی۔صوبائی کابینہ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا اسمبلی میں تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں اور ہر مکتبہ فکر کے نمائندوں پر مشتمل گرینڈ امن جرگہ منعقد کیا گیا۔سہیل آفریدی نے کہا کہ امن جرگے میں متفقہ طور پر 15 نکاتی ایجنڈے کی منظوری دی گئی، 15 نکاتی ایجنڈے میں واضح کیا گیا کہ ملٹری آپریشن کسی بھی مسئلے کا حل نہیں۔وزیراعلیٰ کے پی نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت کا بھی یہی واضح موقف ہے کہ ملٹری آپریشن مسائل کا حل نہیں، بند کمروں میں کیے گئے فیصلے صوبے پر مسلط کیے گئے تو تمام سٹیک ہولڈرز میں تشویش پیدا ہوگی۔انہوں نے کہا کہ ایک فرد یا ایک ادارہ زور زبردستی صوبے پر فیصلے مسلط نہیں کر سکتا، زبردستی فیصلوں کے نتائج وہ نہیں ہوں گے جو فیصلہ کرنے والے چاہتے ہیں۔سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ امن خیبر پختونخوا اور پورے پاکستان کی مشترکہ ضرورت ہے، پائیدار اور مستقل امن کے لیے جامع اور ہمہ گیر پالیسی کی اشد ضرورت ہے۔وزیراعلیٰ کے پی نے کہا کہ پائیدار امن کے لیے تمام اداروں، سیاسی و مذہبی جماعتوں اور قبائلی مشران پر مشتمل جامع پالیسی ناگزیر ہے، تمام فریق مل کر بیٹھیں گے تو مؤثر پالیسی بنے گی اور امن بحال ہوگا۔انہوں نے کہا کہ بند کمروں کے فیصلوں سے نہ امن بحال ہوگا اور نہ ہی عوام کا اعتماد قائم ہوگا، صوبائی حکومت کسی بھی ملٹری آپریشن کی اجازت نہیں دے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا ملٹری ا پریشن سہیل ا فریدی نے کہا کہ کسی بھی
پڑھیں:
سپریم کورٹ نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ آف پاکستان نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ نیب سے متعلق تمام مقدمات آئینی عدالت سنے گی،نیب قانون میں ترمیم کے بعد سپریم کورٹ نیب مقدمات نہیں سن سکتی،نیب کے تمام مقدمات آئینی عدالت منتقل ہو گئے ہیں،جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سنایا۔
مزید :