امریکا روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی معاہدہ طے پانے کی صورت میں یورپی شراکت کے ساتھ جنگ بندی کی نگرانی کا نظام قائم کرے گا، جبکہ روس کے دوبارہ حملے کی صورت میں یوکرین میں تعینات یورپی قیادت میں کثیرالملکی فورس کی حمایت بھی کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ پیوٹن ملاقات: امن معاہدے پر پیشرفت، روس یوکرین جنگ بندی کا اعلان نہ ہوسکا

اے ایف پی کے مطابق یہ مسودہ بیان پیرس میں ہونے والے اہم سربراہی اجلاس سے قبل سامنے آیا، جس میں یوکرین کے لیے جنگ بندی کے بعد سیکیورٹی ضمانتوں پر غور کیا جا رہا ہے۔

پیرس میں سیکیورٹی ضمانتوں پر اجلاس

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کی میزبانی میں ہونے والے اس اجلاس میں یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی، یورپی رہنما اور امریکا کے اعلیٰ سطحی نمائندے شریک ہوئے، اجلاس میں روس کے ساتھ ممکنہ جنگ بندی کے بعد یوکرین کو درکار سیکیورٹی ضمانتوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

مسودہ بیان کے مطابق جنگ بندی کی نگرانی کے لیے ایک مسلسل اور قابل اعتماد نظام قائم کیا جائے گا، جس کی قیادت امریکا کرے گا اور اس میں بین الاقوامی شراکت شامل ہوگی۔

کثیرالملکی فورس اور امریکی کردار

دستاویز میں کہا گیا ہے کہ یورپی قیادت میں کثیرالملکی فورس فضا، سمندر اور زمینی سطح پر اطمینان بخش اقدامات کرے گی اور یوکرین کی مسلح افواج کی بحالی میں معاونت کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں: روس یوکرین جنگ بندی کا انحصار پیوٹن پر ہے، ڈونلڈ ٹرمپ

امریکا اس فورس کو انٹیلی جنس، لاجسٹک سہولتوں اور روسی حملے کی صورت میں مدد کی یقین دہانی کے ذریعے تعاون فراہم کرے گا۔ مسودے میں روس کے مستقبل میں کسی بھی مسلح حملے کی صورت میں یوکرین کی حمایت کے لیے پابند وعدوں پر بھی زور دیا گیا ہے۔

ممکنہ اقدامات میں عسکری صلاحیتوں کا استعمال، انٹیلیجنس اور سفارتی تعاون، لاجسٹک سپورٹ اور اضافی پابندیاں شامل ہوسکتی ہیں۔

عالمی رہنماؤں کی شرکت

پیرس اجلاس میں 30 سے زائد ممالک کے رہنماؤں نے شرکت کی، جن میں برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر اور نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے بھی شامل تھے۔ امریکا کی جانب سے سینیئر مذاکرات کار اسٹیو وٹکوف اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر بھی موجود تھے۔

رپورٹ کے مطابق یوکرینی صدر زیلنسکی نے گزشتہ ماہ فلوریڈا میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کی تھی، جس کے بعد انہوں نے دعویٰ کیا کہ جنگ کے خاتمے سے متعلق امریکی حمایت یافتہ منصوبہ 90 فیصد تک طے پا چکا ہے، تاہم چند اہم نکات اب بھی حل طلب ہیں۔

علاقائی تنازع اور مذاکرات میں رکاوٹیں

باقی 10 فیصد نکات میں مبینہ طور پر علاقائی رعایتیں شامل ہیں، جن پر کیف پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ اس وقت روس ڈونیٹسک کے تقریباً 75 فیصد اور پڑوسی لُہانسک کے تقریباً تمام علاقے پر قابض ہے، جو مجموعی طور پر صنعتی ڈونباس خطہ بنتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: روس یوکرین جنگ بندی کے لیے برطانیہ اور فرانس کی تجویز کیا ہے؟

روس نے عارضی جنگ بندی کی مسلسل مخالفت کی ہے اور مستقل امن کے لیے ٹھوس اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری جانب صدر زیلنسکی خبردار کر چکے ہیں کہ کسی بھی قسم کی علاقائی دستبرداری ماسکو کو مزید حوصلہ دے گی اور یوکرین کی خودمختاری کو نقصان پہنچائے گی۔

یوکرینی آئین کے تحت کسی بھی علاقے سے دستبرداری ممنوع ہے، جبکہ کیف کا مؤقف ہے کہ مستقبل میں روسی جارحیت روکنے کے لیے مضبوط سیکیورٹی ضمانتیں ناگزیر ہیں۔

پیرس میں ہونے والی یہ بات چیت ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب امریکا کو عالمی سطح پر مختلف معاملات پر تنقید کا سامنا ہے، تاہم فرانسیسی صدر نے واضح کیا ہے کہ اجلاس کی تمام تر توجہ یوکرین، جنگ بندی کے بعد سیکیورٹی انتظامات اور یوکرینی معیشت و مسلح افواج کی بحالی پر مرکوز رکھی گئی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news امریکا جنگ بندی روس کثیرالملکی فوج یورپی یونین یوکرین.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا کثیرالملکی فوج یورپی یونین یوکرین کثیرالملکی فورس یوکرین جنگ بندی جنگ بندی کے بعد کی صورت میں اور یوکرین میں یوکرین کی حمایت کے لیے کرے گا

پڑھیں:

امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر

ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔

علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے  ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔

کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔

علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • جاپان میں جنگلی ریچھ نے حملے کر کے چار افراد کو زخمی کر دیا
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان