جنگ بندی کے بعد روسی حملے پر امریکا یوکرین میں کثیرالملکی فورس کی تعینانی کی حمایت کرے گا
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
امریکا روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی معاہدہ طے پانے کی صورت میں یورپی شراکت کے ساتھ جنگ بندی کی نگرانی کا نظام قائم کرے گا، جبکہ روس کے دوبارہ حملے کی صورت میں یوکرین میں تعینات یورپی قیادت میں کثیرالملکی فورس کی حمایت بھی کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ پیوٹن ملاقات: امن معاہدے پر پیشرفت، روس یوکرین جنگ بندی کا اعلان نہ ہوسکا
اے ایف پی کے مطابق یہ مسودہ بیان پیرس میں ہونے والے اہم سربراہی اجلاس سے قبل سامنے آیا، جس میں یوکرین کے لیے جنگ بندی کے بعد سیکیورٹی ضمانتوں پر غور کیا جا رہا ہے۔
پیرس میں سیکیورٹی ضمانتوں پر اجلاسفرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کی میزبانی میں ہونے والے اس اجلاس میں یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی، یورپی رہنما اور امریکا کے اعلیٰ سطحی نمائندے شریک ہوئے، اجلاس میں روس کے ساتھ ممکنہ جنگ بندی کے بعد یوکرین کو درکار سیکیورٹی ضمانتوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
مسودہ بیان کے مطابق جنگ بندی کی نگرانی کے لیے ایک مسلسل اور قابل اعتماد نظام قائم کیا جائے گا، جس کی قیادت امریکا کرے گا اور اس میں بین الاقوامی شراکت شامل ہوگی۔
کثیرالملکی فورس اور امریکی کرداردستاویز میں کہا گیا ہے کہ یورپی قیادت میں کثیرالملکی فورس فضا، سمندر اور زمینی سطح پر اطمینان بخش اقدامات کرے گی اور یوکرین کی مسلح افواج کی بحالی میں معاونت کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: روس یوکرین جنگ بندی کا انحصار پیوٹن پر ہے، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا اس فورس کو انٹیلی جنس، لاجسٹک سہولتوں اور روسی حملے کی صورت میں مدد کی یقین دہانی کے ذریعے تعاون فراہم کرے گا۔ مسودے میں روس کے مستقبل میں کسی بھی مسلح حملے کی صورت میں یوکرین کی حمایت کے لیے پابند وعدوں پر بھی زور دیا گیا ہے۔
ممکنہ اقدامات میں عسکری صلاحیتوں کا استعمال، انٹیلیجنس اور سفارتی تعاون، لاجسٹک سپورٹ اور اضافی پابندیاں شامل ہوسکتی ہیں۔
عالمی رہنماؤں کی شرکتپیرس اجلاس میں 30 سے زائد ممالک کے رہنماؤں نے شرکت کی، جن میں برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر اور نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے بھی شامل تھے۔ امریکا کی جانب سے سینیئر مذاکرات کار اسٹیو وٹکوف اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر بھی موجود تھے۔
رپورٹ کے مطابق یوکرینی صدر زیلنسکی نے گزشتہ ماہ فلوریڈا میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کی تھی، جس کے بعد انہوں نے دعویٰ کیا کہ جنگ کے خاتمے سے متعلق امریکی حمایت یافتہ منصوبہ 90 فیصد تک طے پا چکا ہے، تاہم چند اہم نکات اب بھی حل طلب ہیں۔
علاقائی تنازع اور مذاکرات میں رکاوٹیںباقی 10 فیصد نکات میں مبینہ طور پر علاقائی رعایتیں شامل ہیں، جن پر کیف پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ اس وقت روس ڈونیٹسک کے تقریباً 75 فیصد اور پڑوسی لُہانسک کے تقریباً تمام علاقے پر قابض ہے، جو مجموعی طور پر صنعتی ڈونباس خطہ بنتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: روس یوکرین جنگ بندی کے لیے برطانیہ اور فرانس کی تجویز کیا ہے؟
روس نے عارضی جنگ بندی کی مسلسل مخالفت کی ہے اور مستقل امن کے لیے ٹھوس اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری جانب صدر زیلنسکی خبردار کر چکے ہیں کہ کسی بھی قسم کی علاقائی دستبرداری ماسکو کو مزید حوصلہ دے گی اور یوکرین کی خودمختاری کو نقصان پہنچائے گی۔
یوکرینی آئین کے تحت کسی بھی علاقے سے دستبرداری ممنوع ہے، جبکہ کیف کا مؤقف ہے کہ مستقبل میں روسی جارحیت روکنے کے لیے مضبوط سیکیورٹی ضمانتیں ناگزیر ہیں۔
پیرس میں ہونے والی یہ بات چیت ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب امریکا کو عالمی سطح پر مختلف معاملات پر تنقید کا سامنا ہے، تاہم فرانسیسی صدر نے واضح کیا ہے کہ اجلاس کی تمام تر توجہ یوکرین، جنگ بندی کے بعد سیکیورٹی انتظامات اور یوکرینی معیشت و مسلح افواج کی بحالی پر مرکوز رکھی گئی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news امریکا جنگ بندی روس کثیرالملکی فوج یورپی یونین یوکرین.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا کثیرالملکی فوج یورپی یونین یوکرین کثیرالملکی فورس یوکرین جنگ بندی جنگ بندی کے بعد کی صورت میں اور یوکرین میں یوکرین کی حمایت کے لیے کرے گا
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔