لکی مروت دھماکا؛ بس پر آئی ای ڈی نصب کرنے والا دہشتگرد مقابلے میں مارا گیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
لکی مروت:
لکی مروت میں بس کو آئی ای ڈی نصب کرکے دھماکے سے تباہ کرنے والا دہشت گرد مقابلے میں مارا گیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق لکی مروت میں فیکٹری جانے والی بس پر آئی ای ڈی حملے کے فوراً بعد پولیس کا دہشت گردوں کے ساتھ مقابلہ ہوا۔ اس آپریشن میں ڈی آئی جی بنوں ریجن سجاد خان خود موقع پر موجود رہے، جن کی قیادت میں سرچ اینڈ اسٹرائیک آپریشن کیا گیا۔
مقابلے کے دوران پولیس کی مؤثر کارروائی سے بس پر آئی ای ڈی نصب کرنے والا دہشت گرد مارا گیا۔
لکی مروت؛ امن کمیٹی کے سرکردہ رکن کا سولر ٹیوب ویل بارودی مواد سے اڑا دیا گیا
لکی مروت؛ سیمنٹ فیکٹری کی گاڑی کو بارود سے اُڑا دیا گیا، ایک جاں بحق، متعدد زخمی
لکی مروت میں پولیس کا کامیاب انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن، 3 خارجی جہنم واصل
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ عوام کی جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔ دہشت گردوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔
واضح رہے کہ لکی مروت میں سیمنٹ فیکٹری کی گاڑی کو دہشت گردوں نے بارود سے اڑا دیا، جس میں ایک شخص جاں بحق اور کئی زخمی ہو گئے۔ زخمیوں میں 2 خواتین بھی شامل تھیں۔
بیگوخیل سڑک پر ناورخیل موڑ کے قریب آئی ای ڈی دھماکے کے نتیجے میں گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل لکی مروت میں آئی ای ڈی
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔