کاراکاس آپریشن کے بعد عالمی سطح پر شدید ردِعمل
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260107-03-7
ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی
یونہی تاریخ کے صفحات پر کچھ واقعات یلغار کی مانند اُترتے ہیں وہ صرف عسکری کارروائیاں نہیں ہوتے بلکہ طاقت، عالمی سیاست، سفارتی جارحیت اور اخلاقی سوالات کا وہ گہرا مرقع ہوتے ہیں جسے آنے والی نسلیں عبرت یا انتباہ کے طور پر پڑھتی ہیں۔ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو امریکی اسپیشل یونٹ کی تحویل میں لیے جانے کے بعد پیدا ہونے والی صورتِ حال بھی محض ایک فوجی آپریشن نہیں بلکہ ایک وسیع تر سیاسی تجربے، طاقت کے بے خوف استعمال، اور عالمی توازنِ قوت کے متزلزل ہونے کی ایسی کہانی ہے جس کے اثرات خطوں اور براعظموں سے آگے ذہنوں اور ضمیروں تک جا پہنچتے ہیں۔ یہ کارروائی نہ صرف وینزویلا کی خودمختاری پر کاری ضرب کے مترادف قرار دی جا رہی ہے بلکہ اس نے دنیا بھر میں اس سوال کو بھی ازسرِ نو زندہ کر دیا ہے کہ کیا طاقتور ریاستیں اب بھی کمزور ملکوں کی سیاسی تقدیر کا فیصلہ طے شدہ میزوں پر کرنے کو اپنا حق سمجھتی ہیں؟
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کارروائی کو فخر اور کامیابی کے لہجے میں بیان کرنا دراصل اس ذہنیت کی نشاندہی کرتا ہے جس میں فوجی برتری کو اخلاقی جواز پر فوقیت حاصل ہے۔ رات کی تاریکی میں بجلی کی بندش، فضائی محاصرے، خصوصی یونٹوں کی پیش قدمی اور صدر کو ’’قلعے‘‘ سے نکالنے کی داستان کو ایک تکنیکی کرشمہ قرار دینا یہ بتاتا ہے کہ طاقت کے اس مظاہرے کو محض ایک مہم نہیں بلکہ ایک تماشا سمجھا گیا ایسا تماشا جسے بقول خود ٹرمپ ’’ٹیلی ویژن شو‘‘ کی طرح دیکھا اور دکھایا گیا۔ مگر جہاں ایک طرف اس منظر کو شاندار عسکری صلاحیت کا استعارہ بنایا گیا، وہیں دوسری جانب یہ واقعہ عالمی قانون، ریاستی وقار اور خودمختاری کے اصول پر ایک بڑا سوالیہ نشان بھی چھوڑ گیا ہے۔
وینزویلا کے وزیر دفاع کی جانب سے اس کارروائی کو ملکی تاریخ کی بدترین جارحیت قرار دینا محض جذباتی ردعمل نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی چیخ ہے جس کی سرزمین پر میزائل برسائے گئے، شہری آبادی دہل اٹھی، فوجی و سول تنصیبات نشانہ بنیں اور دارالحکومت کراکس کی فضا میں آگ اور دھویں کے سیاہ ستون اُٹھ کھڑے ہوئے۔ اس حملے کے بعد عالمی برادری کا ردعمل بھی غیر معمولی رہا چین نے اسے طاقت کے کھلے استعمال سے تعبیر کیا، روس نے منتخب صدر کی رہائی کا مطالبہ کیا، ایران اور لاطینی امریکی ممالک نے علاقائی سالمیت کی صریح خلاف ورزی قرار دیا، جب کہ یورپی یونین اور کئی مغربی ریاستوں نے قانونی اصولوں کے احترام پر زور دیا۔ گویا یہ کارروائی محض دو ملکوں کا معاملہ نہیں رہی، بلکہ عالمی سفارتی صف بندیوں کو ایک بار پھر پْر تناؤ محوروں میں تقسیم کرتی دکھائی دی۔
امریکی موقف کے مطابق مادورو پر سنگین جرائم، منشیات کے الزامات اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے مقدمات ہیں۔ ان کی اہلیہ سیلیا فلوریس کو بھی اقتدار کے پردے کے پیچھے طاقتور کردار، سیاسی اثرو رسوخ اور مبینہ روابط کے باعث نشانے پر رکھا گیا۔ مگر سوال یہ نہیں کہ الزامات کیا ہیں اصل سوال یہ ہے کہ کیا عالمی نظام میں کسی بھی الزام کو سرحدی خودمختاری سے بلند تر حیثیت حاصل ہو گئی ہے؟ کیا کسی ملک کی حکومت کو بدلنے یا اْس کے حاکم ِ وقت کو اغوا کرنے کا اختیار کسی ایک طاقت کو اخلاقی یا قانونی بنیاد پر حاصل ہو سکتا ہے؟ یا پھر یہ ماضی کے اْس دور کی واپسی ہے جب جنگل کا قانون سفارت کاری کی لغت پر غالب تھا؟
یہاں ایک اور تلخ پہلو بھی سامنے آتا ہے وہ یہ کہ اس آپریشن کو عبوری انتظام، تیل کے ڈھانچے کی بحالی اور امریکی کمپنیوں کی مداخلت کے ساتھ جوڑا گیا۔ گویا جنگی اقدام کے ساتھ معاشی مفاد، سیاسی ازسرِنو تشکیل اور وسائل پر کنٹرول کا پورا خاکہ بھی ساتھ رکھا گیا ہے۔ یہ طرزِ فکر اْس پرانے استعماری بیانیے کی بازگشت محسوس ہوتی ہے جس میں وسائل کی مرمت کے نام پر کنٹرول، تعمیر ِ نو کے پردے میں قبضہ اور سلامتی کے عنوان سے سیاسی ڈھانچے کو ازسرِ نو ترتیب دیا جاتا ہے۔ اگر مستقبل کا منظرنامہ یہی ہے تو پھر دنیا نئی صدی کے ساتھ پرانے سامراجی سایوں کی طرف لوٹتی دکھائی دے رہی ہے۔
دوسری طرف مادورو کی سیاسی شخصیت بھی تضادات سے خالی نہیں ایک طرف سخت گیر طرزِ حکمرانی، طاقت کی مرکزیت اور سیاسی اختلاف کے گرد گھیرا تنگ کرنے کے الزامات؛ دوسری طرف خود کو عوامی لیڈر کے طور پر پیش کرنے کا انداز، جلسوں میں رقص، نرم لہجے کی خطابت، اور اپنی عوامی سادگی کا بیانیہ۔ یہ وہ سیاسی اسلوب تھا جو شاید اْن کے لیے داخلی حمایت کا تاثر تو پیدا کرتا رہا، مگر عالمی سطح پر اْن کی پالیسیوں کے سخت نقاد بھی پیدا کرتا چلا گیا۔ اس کے باوجود، انہیں گرفتار کرنے کا طریقہ، انداز اور وقت یہ سب کچھ ایک ایسے بحران کو جنم دے سکتا ہے جو وینزویلا کی سرحدوں تک محدود نہیں رہے گا۔
امریکی تجزیاتی حلقوں کی یہ رائے بھی قابل ِ غور ہے کہ طاقت کے ذریعے حکومتوں کی تبدیلی ہمیشہ استحکام نہیں لاتی، بلکہ بیش تر مواقع پر مزید انتشار، ہجرت کے بڑے ریلے، معاشی تباہی اور علاقائی کشیدگی کو جنم دیتی ہے۔ اگر کیریبین خطے میں اس کارروائی کے بعد سیاسی محاذ آرائی بڑھی، مسلح مزاحمت نے جنم لیا، یا داخلی ادارے تصادم کا شکار ہوئے تو اس کے اثرات نہ صرف وینزویلا بلکہ خطے کے دیگر ممالک تک پھیل سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خود امریکی عوام کی ایک بڑی تعداد فوجی کارروائی سے ہچکچاہٹ رکھتی دکھائی جاتی ہے کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ طاقت سے کھولا گیا باب اکثر بند نہیں ہو پاتا۔
یہ معاملہ ایک اور سطح پر بھی غور طلب ہے وہ یہ کہ سلامتی کونسل میں اجلاس طلب کر کے وینزویلا نے جو سفارتی راستہ اختیار کیا، اْس سے واضح ہوتا ہے کہ عالمی ضابطوں کی مراجعت آج بھی کمزور ریاستوں کا آخری سہارا ہے۔ مگر جب طاقتور ملک انہی اداروں کی بالادستی کو چیلنج کرنے لگیں تو پھر عالمی نظم کی بنیادیں لرزنے لگتی ہیں۔ آج کا سوال یہ نہیں کہ کس کا موقف درست ہے اصل سوال یہ ہے کہ کیا دنیا طاقت اور قانون کی کشمکش میں ایک نئے بحران کے دہانے پر کھڑی ہے؟
یہ واقعہ محض ایک فوجی کامیابی یا سیاسی شکست کی کہانی نہیں یہ اس اخلاقی تلخی کا بیان بھی ہے جس میں طاقتور ریاستیں جب چاہیں حملہ کریں، مقدمہ کہیں اور چلائیں، اور پھر اْس عمل کو امن و استحکام کا لبادہ پہنائیں۔ اگر یہ چلن جاری رہا تو خودمختاری ایک علامتی اصطلاح بن کر رہ جائے گی، اور کمزور ریاستیں اپنے مستقبل کی ضمانت کے لیے کسی آئینی ڈھانچے نہیں بلکہ کسی بڑی طاقت کے موڈ کی محتاج ہو جائیں گی۔
وینزویلا کے لیے آنے والے دن بے حد کٹھن ہیں اس کے ادارے آزمائش سے گزر رہے ہیں، اس کے عوام خوف اور غیر یقینی کے حصار میں ہیں، اور اس کی سیاست ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں ہر قدم تاریخ کی طرف قلم بن کر اٹھ رہا ہے۔ مگر اس سے بھی بڑی آزمائش شاید عالمی برادری کے لیے ہے کہ کیا وہ قانون کو طاقت کے تابع دیکھنا چاہتی ہے یا طاقت کو قانون کے دائرے میں لانے کا حوصلہ رکھتی ہے؟ یہی سوال آنے والے وقت کے سیاسی اور اخلاقی مستقبل کا فیصلہ کرے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نہیں بلکہ ہے کہ کیا طاقت کے کہ طاقت سوال یہ کے لیے کے بعد
پڑھیں:
طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔