قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی سمندر پار پاکستانی کا اجلاس، ویلفیئر اتاشی کی کارکردگی پر سوال
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
قومی اسمبلی میں قائمہ کمیٹی برائے سمندر پار پاکستانیوں کے اجلاس میں خلیجی ممالک میں ویلفیئر اتاشی کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں ممبر مہرین رزاق نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بیرون ملک تعینات ویلفیئر اتاشی پر کروڑوں روپے خرچ کر رہی ہے، آخر وہ کیا کر رہے ہیں؟
انہوں نے سوال کیا کہ بتایا جائے کہ ویلفیئر اتاشی کتنی ملازمتیں لے کر آئے؟ ویلفئیر اتاشی وائس رائے نہیں لگے ہوئے، وہ مراعات لے رہے ہیں لیکن کام نہیں کرتے، اکثر ویلفیر اتاشی سفارشی ہیں
مہرین رزاق کا کہنا تھا کہ ریاض میں 2 ویلفیئر اتاشی میاں بیوی ہیں، وہ اکھٹے چھٹی پر ہیں، کیا ایک ہی جگہ تعینات میاں بیوی ویلفیئر اتاشی کو اکٹھے چھٹی دینی چاہیے تھی؟
انہوں نے کہا کہ ایک اتاشی کی مدت ختم ہوئے 8 ماہ ہوگئے لیکن وہ وہیں ہیں۔
اجلاس میں آغا رفیع اللّٰہ نے کہا کہ مجھے ویلفئیر اتاشی کی کارکردگی چاہیے، یہ بتائیں قطر میں کتنے پاکستانیوں کو بھرتی کرایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ نہ ہو کہ پاکستانی مجھے باہر سے فون کریں کہ ویلفیئر اتاشی کام نہیں کر رہے۔
۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک