پاکستان سے باہر جانے والوں کی تعداد میں کتنا اضافہ ہوا؟ قائمہ کمیٹی اجلاس میں بریفنگ
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
اسلام آباد:
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سمندر پار پاکستانیز کے حکام نے بریفنگ میں بتایا کہ پاکستان سے باہر جانے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے سمندر پار پاکستانیز کا اجلاس چیئرمین آغا رفیع اللہ کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں ایف آئی اے، بیرون ملک روانگی کے قواعد، ایئرپورٹس پر سہولتوں اور گلف ممالک میں کمیونٹی ویلفیئر اتاشیوں کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے دوران چیئرمین کمیٹی آغا رفیع اللہ نے کہا کہ ایف آئی اے کو ہدایت دی گئی تھی کہ ایئرپورٹس پر عوام کو واضح طور پر بتایا جائے کہ وہ اپنی شکایات کہاں درج کر سکتے ہیں، جس پر ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ روانگی سے متعلق رولز تیار ہیں اور ان کی منظوری کا انتظار ہے۔ یہ رولز سی سی ایل سی کے سامنے منظوری کے لیے موجود ہیں۔ ایک ایس او پی بھی تیار کیا گیا ہے اور روانگی سے قبل ایئرپورٹس پر سہولت ڈیسک قائم کیے گئے ہیں جہاں لوگوں کو بیرون ملک جانے سے پہلے مشاورت اور رہنمائی فراہم کی جاتی ہے۔
آغا رفیع اللہ نے اس موقع پر کہا کہ انہوں نے پرسوں رات تک ایئرپورٹ پر ایسا کوئی ڈیسک نہیں دیکھا اور ہدایت دی کہ ہر ایئرپورٹ کاؤنٹر کے پاس واضح اردو میں تحریر ہو کہ اگر کسی کو آف لوڈ کیا جائے تو وہ کہاں شکایت درج کرے۔
اجلاس میں گلف ممالک میں کمیونٹی ویلفیئر اتاشیوں کی کارکردگی پر بھی تفصیلی بحث ہوئی۔ آغا رفیع اللہ نے کہا کہ انہیں ویلفیئر اتاشیوں کی کارکردگی چاہیے۔ یہ نہ ہو کہ پاکستانی بیرون ملک سے فون کریں کہ ویلفیئر اتاشی کام نہیں کر رہے۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی کو معلومات نہیں بلکہ عملی پیش رفت سے آگاہ کیا جائے۔
رکن کمیٹی مہرین رزاق بھٹو نے کہا کہ ریاض میں 2 ویلفیئر اتاشی میاں بیوی ہیں اور دونوں ایک ساتھ چھٹی پر ہیں۔ کیا انہیں ایک ساتھ چھٹی دی جانی چاہیے تھی۔ انہوں نے بتایا کہ ایک ویلفیئر اتاشی کی مدت ختم ہوئے 8 ماہ ہو چکے ہیں لیکن وہ اب بھی وہیں تعینات ہیں۔ کروڑوں روپے ویلفیئر اتاشیوں پر خرچ کیے جا رہے ہیں لیکن وہ وہ کام نہیں کر رہے جو انہیں کرنا چاہی۔ اکثر ویلفیئر اتاشی سفارشی ہوتے ہیں۔
سیکرٹری سمندر پار پاکستانیز نے وضاحت کی کہ ویلفیئر اتاشی سفارشی نہیں ہوتے بلکہ میرٹ پر ٹیسٹ پاس کر کے آتے ہیں اور جب تک نیا ویلفیئر اتاشی نہیں آتا، موجودہ اتاشی ہی کام جاری رکھتا ہے۔ آغا رفیع اللہ نے کہا کہ اگر ویلفیئر اتاشیوں کو میرٹ پر بھرتی کیا گیا ہے تو ان سے کارکردگی بھی دکھانی چاہیے۔ مہرین رزاق بھٹو نے کہا کہ ویلفیئر اتاشی وائسرائے نہیں لگے ہوئے، وہ مراعات تو لے رہے ہیں لیکن کام نہیں کر رہے۔
سمندر پار پاکستانیز کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ اس سال گزشتہ سال کے مقابلے میں 5 فیصد زیادہ افراد بیرون ملک گئے ہیں۔ حکام کے مطابق بھارت کے سعودی عرب کے شہروں جدہ اور ریاض میں 26 ویلفیئر اتاشی تعینات ہیں جب کہ پاکستان کے صرف 6 ہیں۔ اس پر آغا رفیع اللہ نے کہا کہ پھر وزیر اعظم اور کابینہ کو لکھا جائے کہ وہاں مزید افراد درکار ہیں۔ حکام نے بتایا کہ سعودی عرب میں 11 ویلفیئر اتاشیوں کی نشستوں کے لیے سمری ارسال کی جا چکی ہے۔
حکام نے مزید بتایا کہ ویلفیئر اتاشی آن لائن دستیاب ہوتے ہیں، ان کے ٹی او آرز وزیراعظم آفس سے منظور شدہ ہیں، جن کے تحت 60 فیصد کام ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنا اور 40 فیصد ویلفیئر سے متعلق امور ہوتے ہیں۔
مہرین رزاق بھٹو نے سوال اٹھایا کہ بتایا جائے ویلفیئر اتاشی کتنی ملازمتیں لے کر آئے ہیں۔ آغا رفیع اللہ نے کہا کہ یہ نہ بتایا جائے کہ قطر میں کتنے ترقیاتی منصوبے آ رہے ہیں بلکہ یہ بتایا جائے کہ قطر میں کتنے پاکستانیوں کو بھرتی کرایا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: آغا رفیع اللہ نے کہا کہ سمندر پار پاکستانیز بتایا جائے بیرون ملک بتایا کہ نہیں کر حکام نے جائے کہ
پڑھیں:
ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی
سری لنکا کی حکومت نے پاکستانیوں کے لیے ویزہ فیس ختم کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق کراچی میں تعینات قونصل جنرل سری لنکا سنجیوا پٹیوالا نے میڈیا سے گفتگومیں بتایا کہ سری لنکن حکومت نے پاکستانیوں کے لیے ویزہ فیس ختم کردی جس کے بعد سری لنکا جانے والے پاکستانیوں سیاحوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان سے سری لنکا جانے والے ویزہ کی درخواست آن لائن دے سکتے ہیں۔
قونصل جنرل نے بتایا کہ پاکستان اور سری لنکن کے دوطرفہ تعلقات اہم ہیں، حکومت پاکستان نے 100 سری لنکن اسٹوڈنٹس کوعلامہ اقبال یونیورسٹی میں اسکالرشپ دی ہے جو ایک مثبت اقدام ہے۔
انہوں نے کاہ کہ پاکستان سری لنکا کےدرمیان فری ٹریڈ ایگریمنٹ پرسن 2005 میں دستخط ہوئے تھے لیکن تاحال دونوں ملکوں میں ٹریڈ بیریئرز موجود ہیں۔
قونصل جنرل نے مزید کہا کہ پاکستان سری لنکا درمیان درمیان دفاعی تعلقات بھی اہم ہیں۔