ورلڈکپ کیلیے بھارت نہ جانے کے فیصلے پر پاکستان کی بنگلہ دیش کو مکمل حمایت کی یقین دہانی
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
مشکل وقت میں پاکستان نے بنگلہ دیش کا ہاتھ تھام لیا، ورلڈکپ کیلیے بھارت نہ جانے کے فیصلے پر مکمل حمایت کی یقین دہانی کرا دی، ضرورت پڑنے پر آئی سی سی سے بھی بات کی جائے گی۔
تفصیلات کے مطابق گزشتہ دنوں بھارتی بورڈ نے انتہا پسندوں کے دباؤ پر آئی پی ایل سے بنگلہ دیشی پیسر مستفیض الرحمان کو باہر کر دیا، ان کی فرنچائز کولکتہ نائٹ رائیڈز کے اونر شاہ رخ خان کو غدار تک قرار دے دیا گیا۔
اس پر بنگلہ دیش نے درست موقف اپناتے ہوئے کہا کہ جو ملک ہمارے ایک کرکٹر کو سیکیورٹی نہیں دے سکتا وہ پوری ٹیم کو کیسے دے گا؟ حکومت کی ہدایت پر بورڈ نے ورلڈکپ کیلیے بھارت جانے سے انکار کر دیا،ملک میں بھارتی لیگ کی نشریات پر بھی پابندی لگا دی گئی۔
مزید پڑھیںٹی20 ورلڈ کپ؛ بنگلا دیش کا کرکٹ ٹیم بھارت نہ بھیجنے کا اعلان
اس حوالے سے اعلیٰ ذرائع نے نمائندہ ’’ ایکسپریس ‘‘ کو بتایا کہ پی سی بی بنگلہ دیش کی ہرممکن حمایت کرے گا، ان کا موقف اصولی ہے، بھارتی رویے کی وجہ سے ہی پاکستانی ٹیم نے بھی وہاں جانے سے انکار کیا اور ہائبرڈ ماڈل اپنایا گیا، اب بنگلہ دیش کو بھی حق ہے کہ وہ اپنے کرکٹرز کی سیکیورٹی کو ترجیح دے۔
ذرائع کے مطابق اگر آئی سی سی سے بات کرنے کی ضرورت ہوئی تو بھی پاکستان تیار ہو گا، دوسری جانب بنگلہ دیشی بورڈ واضح کر چکا ہے کہ چاہے بھارتی بورڈ یا آئی سی سی اعلیٰ ترین سیکیورٹی کی یقین دہانی کیوں نہ کرائے ٹیم وہاں نہیں جائے گی، ماضی میں بھارتی سائیڈ کے پاکستان نہ جانے کے معاملے میں بھی سیکیورٹی کا جواز قبول کیا گیا تھا، لہٰذا اب انکار کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی، البتہ وقت کی کمی چیلنج بن سکتی ہے۔
یاد رہے کہ بنگلہ دیشی ٹیم کے 3 میچز کولکتہ اور ایک ممبئی میں شیڈول ہے،گزشتہ دنوں بھارتی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ میچز سری لنکا منتقل کرنے کے حوالے سے کونسل نے مشاورت بھی شروع کر دی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش
پڑھیں:
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائمقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اہم اجلاس31 جولائی کو طلب کر لیا گیا جس میں صدر پاکستان و چانسلر کی ہدایات پر قائمقام وی سی کی تعیناتی سے متعلق ایجنڈے پر دوبارہ غور کیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق صدر پاکستان نے 24اپریل کو ریفرنس وزارت تعلیم کو بھجوایا ہے جس میں بطور چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن ایکٹ کی شق8(6)کے تحت سینٹ کے 17ویں اجلاس کے ایجنڈا نمبر13پر دوبارہ غور کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
دستیاب دستاویز کے مطابق 5 جنوری2026 کو ہونے والے سینیٹ کے17ویں اجلاس میں سابق وائس چانسلر پروفیسر حناطیبہ خلیل کو بطور وائس چانسلر کام جاری رکھنے کی منظوری دی گئی حالانکہ پروفیسر حنا طیبہ خلیل دو ٹرم مکمل کر چکی تھیں۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم نے بھی پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کے سینٹ اجلاس (جس میں حناطیبہ خلیل کو قائمقام وائس چانسلر ذمہ داریاں جاری رکھنے کی منظوری دی) کو کالعدم قرار دینے کی سفارش کر رکھی۔
قائمہ کمیٹی کی چیئرپرسن بشری انجم بٹ نے اجلاس کے دوان کہا تھا کہ عبوری وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ایوان صدر نے واضح کیا تھا کہ ایجنڈے کی منظوری نہیں لی گئی تھی۔
ذرائع نے بتایا کہ بشری انجم بٹ نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کی وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ریفرنس ایوان صدر کو بھجوایا جس میں کہا گیا کہ انسٹی ٹیوٹ کے فیکلٹی ممبران ،افسران اور سٹیک ہولڈرز کی جانب سے الزامات لگائے کہ پروفیسر حناطیبہ خلیل وائس چانسلر بد انتظامی اور اختیارات کے غلط استعمال کی پریکٹس میں ملوث ہیں۔
انسٹی ٹیوٹ کی پروکیورمنٹ اور مالی معاملات میں بے ضابطگیوں سمیت انسٹی ٹیوٹ میں گورننس کے بدترین صورتحال ہے، اس کے علاوہ گرلز ہاسٹل کی تعمیر سے متعلق 450 ملین کے ٹینڈرز میں مبینہ بے ضابطگیاں بھی ہوئی ہیں۔
ایوان صدر نے سینیٹر بشری انجم بٹ کی جانب سے بھجوائے گئے ریفرنس پر اپنی سفارشات وزارت تعلیم کو بھجوا دی ہیں،
وزارت تعلیم کے ذرائع نے سینیٹ اجلاس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایوان صدر کی ہدایات کی روشنی میں سینئر فیکلٹی ممبر کو ہی قائمقام وائس چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن تعینات کیا جائے گا اور اس حوالے سے سنیارٹی لسٹ منگوا لی گئی ہے،