سری نگر:(ویبڈیسک)مقبوضہ جموں و کشمیر کی تاریخ میں سانحۂ سوپور بھارتی ریاستی تشدد کی ایک ہولناک اور المناک داستان کے طور پر درج ہے۔ 6 جنوری 1993 کو سوپور میں نہتے کشمیری شہریوں کو منظم ریاستی کارروائی کا نشانہ بنایا گیا۔ مقامی متاثرین کے مطابق سوپور میں ہونے والی فائرنگ کوئی اچانک واقعہ نہیں تھا بلکہ بھارتی فورسز کی سازش تھی۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ بھارتی فوجیوں نے شہداء کو گھسیٹ کر تین مختلف مقامات پر منتقل کیا اور بعد ازاں انہیں کراس فائرنگ میں مارے جانے کا جھوٹا دعویٰ کیا۔

متاثرین کے مطابق بھارتی فوج نے لوگوں کا مال اپنے ٹرکوں میں بھرا اور لوٹ مار کے بعد موقع سے فرار ہو گئی۔ متاثرین نے یہ بھی بتایا کہ بھارتی فورسز نے تیل سے بھرے ٹینکر سے تیل نکال کر گھروں پر چھڑکا اور جان بوجھ کر آگ لگا دی، جس کے باعث کئی رہائشی علاقے شعلوں کی لپیٹ میں آ گئے۔ بارڈر سیکیورٹی فورس کی اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں ایک مسافر بس سمیت مختلف مقامات پر بے گناہ شہری جان سے گئے، جبکہ چند ہی گھنٹوں میں سوپور کے بازار، گلیاں اور رہائشی علاقے خوف، آگ اور موت کی علامت بن گئے۔

سانحۂ سوپور نے یہ حقیقت عیاں کر دی کہ آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ جیسے قوانین بھارتی فورسز کو انسانی جانوں کے ساتھ کھلواڑ کی کھلی اجازت دیتے رہے ہیں اور مقبوضہ کشمیر میں عسکری موجودگی کشمیری عوام کے تحفظ کے لیے نہیں تھی۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 6 جنوری 1993 کو 60 سے زائد افراد کو گولیوں سے مارا گیا اور بعض کو زندہ جلائے جانے کا بھی انکشاف ہوا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس واقعے کو قتلِ عام قرار دیا، تاہم آج تک انصاف کا کوئی راستہ نہ کھل سکا۔

انتہا پسند بھارتی ریاستی سرپرستی اور عدالتی خاموشی نے سانحۂ سوپور کے ذمہ داروں کو مکمل استثنا فراہم کیے رکھا۔ تین دہائیاں گزرنے کے باوجود متاثرین آج بھی انصاف اور عالمی توجہ کے منتظر ہیں، جبکہ پاکستان مسلسل کشمیری عوام پر ہونے والے مظالم کے خلاف آواز اٹھاتا آ رہا ہے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی

اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔

علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی کارروائیاں تیز، ہزاروں کشمیریوں کی گرفتاریاں، سرچ آپریشن جاری
  • مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل