ایران میں احتجاجی مظاہرے 78 شہروں تک پھیل گئے، 19 افراد ہلاک، 990 گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ایران میں جاری احتجاجی مظاہرے 26 صوبوں کے 78 شہروں تک پھیل گئے ہیں جہاں مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کی جھڑپوں میں ہلاکتوں کی تعداد 19 ہو گئی۔
انسانی حقوق پر نظر رکھنے والے خبر رساں ادارے ایچ آر اے این اے (HRANA) نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ فائرنگ کے واقعات میں 50 سے زائد مظاہرین زخمی ہوئے ہیں جبکہ ایرانی سکیورٹی فورسز نے 990 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔
ایچ آر اے این اے کے مطابق احتجاجی مظاہرے سخت سکیورٹی اقدامات اور پولیس و دیگر سکیورٹی اداروں کی اضافی تعیناتی کے باوجود مسلسل پھیل رہے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایران میں جاری احتجاج مظاہرے نویں روز میں داخل ہوگئے ہیں جبکہ جامعات کے طلبہ بھی احتجاجی سرگرمیوں میں بھر پور حصہ لے رہے ہیں۔
ایچ آر اے این اے کا کہنا ہے کہ مظاہروں کو کم کرنے کے لیے پولیس اور سکیورٹی فورسز نے فائرنگ، آنسو گیس کا استعمال اور بڑے پیمانے پر گرفتاریاں کیں تاکہ احتجاج کے دائرہ کار کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔
ادھر حکومت نے احتجاج کا دباؤ کم کرنے کے لیے عوام کو آئندہ 4 ماہ تک 7 ڈالر ماہانہ الاؤنس دینے کا اعلان کردیا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قلیباف نے کہا کہ احتجاج کرنے والوں کے جائز مطالبات ضرور ماننے چاہیے، انہوں نے کہا کہ غیر ملکی ایجنٹوں کی سازشوں کو ناکام بنایا جائے گا
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔