Jasarat News:
2026-07-24@01:48:11 GMT

SECPنے 6 ماہ کے دوران 21,668 نئی کمپنیاں رجسٹر کیں

اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (کامرس رپورٹر) سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے تازہ ترین اندراج کے اعداد و شمار سے سامنے آیا ہے کہ ملک کے کاروباری ماحول میں مسلسل مضبوط رفتار دیکھی جا رہی ہے، جو سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد اور معیشت کے مثبت امکانات کو ظاہر کرتی ہے۔موجودہ مالی سال کے پہلے 6 ماہ کے دوران، ایس ای سی پی نے 21,668 نئی کمپنیاں رجسٹر کیں۔ ان کمپنیوں نے 30.

7 ارب روپے کے ادا شدہ سرمایہ میں حصہ ڈالا، جو گزشتہ سال اسی مدت میں رجسٹر ہونے والی 16,839 کمپنیوں کے مقابلے میں 29%اضافہ ہے۔ اب کل رجسٹر شدہ کمپنیوں کی تعداد 279,724 ہے۔متعدد شعبوں میں مسلسل ترقی دیکھی گئی۔ سب سے زیادہ نئی کمپنیاں آئی ٹی اور ای-کامرس میں رجسٹر ہوئیں (4,277 کمپنیاں)، اس کے بعد ٹریڈنگ (2,997)، سروسز (2,686)، اور رئیل اسٹیٹ (2,031) ہیں۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ کاروباری سرگرمیاں خاص طور پر ٹیکنالوجی اور سروسز کے شعبوں میں بڑھ رہی ہیں۔غیر ملکی سرمایہ کاروں کی دلچسپی بھی مضبوط رہی۔ اس عرصے کے دوران 524 نئی رجسٹرڈ کمپنیوں نے 1.26 ارب روپے کے غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل کی، جس میں 731 غیر ملکی سرمایہ کاروں نے حصہ لیا۔ سرمایہ کاری کے لحاظ سے چین سب سے آگے رہا اور کل سرمایہ کاری کا 71% حصہ دیا۔ اس کے بعد افغانستان (%8)، امریکہ (%2)، اور برطانیہ، جرمنی، جنوبی افریقہ، جنوبی کوریا، ناروے، ویتنام، نائجیریا، اور بنگلہ دیش نے ہر ایک %1 حصہ ڈالا۔ باقی % 11سرمایہ کاری دیگر ممالک سے آئی۔

کامرس رپورٹر گلزار

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سرمایہ کاری

پڑھیں:

یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام

یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔

یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔

کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔

یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔

کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک