Jasarat News:
2026-06-03@02:16:43 GMT

SECPنے 6 ماہ کے دوران 21,668 نئی کمپنیاں رجسٹر کیں

اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (کامرس رپورٹر) سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے تازہ ترین اندراج کے اعداد و شمار سے سامنے آیا ہے کہ ملک کے کاروباری ماحول میں مسلسل مضبوط رفتار دیکھی جا رہی ہے، جو سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد اور معیشت کے مثبت امکانات کو ظاہر کرتی ہے۔موجودہ مالی سال کے پہلے 6 ماہ کے دوران، ایس ای سی پی نے 21,668 نئی کمپنیاں رجسٹر کیں۔ ان کمپنیوں نے 30.

7 ارب روپے کے ادا شدہ سرمایہ میں حصہ ڈالا، جو گزشتہ سال اسی مدت میں رجسٹر ہونے والی 16,839 کمپنیوں کے مقابلے میں 29%اضافہ ہے۔ اب کل رجسٹر شدہ کمپنیوں کی تعداد 279,724 ہے۔متعدد شعبوں میں مسلسل ترقی دیکھی گئی۔ سب سے زیادہ نئی کمپنیاں آئی ٹی اور ای-کامرس میں رجسٹر ہوئیں (4,277 کمپنیاں)، اس کے بعد ٹریڈنگ (2,997)، سروسز (2,686)، اور رئیل اسٹیٹ (2,031) ہیں۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ کاروباری سرگرمیاں خاص طور پر ٹیکنالوجی اور سروسز کے شعبوں میں بڑھ رہی ہیں۔غیر ملکی سرمایہ کاروں کی دلچسپی بھی مضبوط رہی۔ اس عرصے کے دوران 524 نئی رجسٹرڈ کمپنیوں نے 1.26 ارب روپے کے غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل کی، جس میں 731 غیر ملکی سرمایہ کاروں نے حصہ لیا۔ سرمایہ کاری کے لحاظ سے چین سب سے آگے رہا اور کل سرمایہ کاری کا 71% حصہ دیا۔ اس کے بعد افغانستان (%8)، امریکہ (%2)، اور برطانیہ، جرمنی، جنوبی افریقہ، جنوبی کوریا، ناروے، ویتنام، نائجیریا، اور بنگلہ دیش نے ہر ایک %1 حصہ ڈالا۔ باقی % 11سرمایہ کاری دیگر ممالک سے آئی۔

کامرس رپورٹر گلزار

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سرمایہ کاری

پڑھیں:

گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان

لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔

(جاری ہے)

حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔                                                              

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر