پاک کالونی پولیس کی بڑی کارروائی خطرناک ڈکیت گروہ گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر)پاک کالونی پولیس نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کامیاب کارروائی کرتے ہوئے شہریوں کو اسلحے کے زور پر لوٹنے والے ایک انتہائی خطرناک اور منظم ڈکیت گروہ کو گرفتار کر لیا۔ پولیس نے گرفتار ملزمان کے قبضے سے تین پستول، چھینے گئے 9 موبائل فون، نقدی رقم اور گلبہار و نیو ٹاؤن سے چھینی گئی دو موٹرسائیکلیں برآمد کر لی ہیں۔ایس ایس پی کیماڑی امجد شیخ کے مطابق گرفتار پانچ رکنی ڈکیت گروہ ڈکیتی اور لوٹ مار کی 100 سے زائد وارداتوں میں ملوث رہا ہے۔ گرفتار ملزمان کی شناخت لیاقت، شہنشاہ، طالب، راشد اور رحمان کے نام سے کی گئی ہے، جنہوں نے ابتدائی تفتیش کے دوران اہم اور سنسنی خیز انکشافات کیے ہیں۔ایس ایس پی کے مطابق ملزمان وارداتوں کے بعد چھینے گئے موبائل فونز کے پارٹس الگ کر کے فروخت کرتے تھے، جبکہ یہ گروہ کار سوار فیملیز کو بھی لوٹ مار کا نشانہ بناتا رہا ہے۔ مزید یہ کہ ملزمان بلدیہ اور سائٹ کے صنعتی علاقوں میں بھی متعدد وارداتوں میں ملوث پائے گئے ہیں۔پولیس حکام کے مطابق گرفتار ملزمان کے خلاف ڈکیتی، موٹرسائیکل چوری، موبائل فون چھیننے اور پولیس پر فائرنگ جیسے سنگین جرائم کے تحت 11 سے زائد مقدمات درج ہیں۔ مزید برآں تھانہ پاک کالونی میں گرفتار ملزمان کے خلاف ایک اور مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، جبکہ ان سے مزید تفتیش جاری ہے تاکہ ان کے دیگر سہولت کاروں اور جرائم کے نیٹ ورک کا سراغ لگایا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: گرفتار ملزمان
پڑھیں:
مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
مردان: خیبرپختونخوا کے ضلع مردان کے علاقے شیخ ملتون سیکٹر بی میں ایک گھر سے خاتون سمیت تین افراد کی لاشیں برآمد ہونے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔
ریسکیو 1122 کے مطابق اطلاع موصول ہوتے ہی میڈیکل ٹیم فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی اور پولیس کی موجودگی میں کارروائی کا آغاز کیا گیا۔
ریسکیو حکام کے مطابق تینوں لاشوں کو قانونی کارروائی اور ضروری معائنے کے لیے مردان میڈیکل کمپلیکس (ایم ایم سی) اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق جاں بحق افراد کی شناخت جلال، زوجہ جلال اور مصطفیٰ کے ناموں سے ہوئی ہے۔
واقعے کی وجوہات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں، جبکہ پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم اور تفتیشی عمل مکمل ہونے کے بعد واقعے کی اصل نوعیت واضح ہو سکے گی۔
پولیس اور متعلقہ ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ اہلِ علاقہ میں واقعے کے بعد تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔