بلدیہ سے دھماکا خیز مواد کی برآمدگی کے بعد چھاپا مار کارروائیاں تیز
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) بلدیہ کے علاقے سے بھاری مقدار میں دھماکا خیز مواد برآمد ہونے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شہر کے مختلف علاقوں میں چھاپہ مار کارروائیاں تیز کر دی ہیں، گرفتار دہشت گردوں کی نشاندہی پر مزید افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے، جن میں خواتین بھی شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق زیرِ حراست ملزمان کی فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر مختلف مقامات پر ٹارگٹڈ کارروائیاں کی گئیں، جن کے دوران متعدد مشتبہ افراد کو تفتیش کے لیے تحویل میں لیا گیا۔ ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ دھماکا خیز مواد کی تیاری میں استعمال ہونے والا سامان شہر کے مختلف علاقوں سے مرحلہ وار خریدا گیا تھا تاکہ کسی ایک مقام پر شک نہ ہو۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ہائی ایکسپلوزو مواد نہایت مہارت اور منصوبہ بندی کے تحت تیار کیا گیا تھا، جسے ناکارہ بنانے کے دوران بم ڈسپوزل اسکواڈ کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ڈیفیوز کرنے والے افسران نے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر بم کو ناکارہ بنایا، جس کے نتیجے میں نہ صرف ممکنہ بڑے سانحے کو ٹالا گیا بلکہ اردگرد کی گنجان آبادی کو بھی محفوظ رکھا گیا۔مزید انکشاف ہوا ہے کہ ملزمان گزشتہ کئی ماہ سے شہر میں دہشت گردی کی منصوبہ بندی کر رہے تھے اور ان کا ہدف کراچی کی معاشی سرگرمیوں کو سبوتاڑ کرنا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار
سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان میں انٹیلیجنس بیسڈ مؤثر کارروائیاں جاری ہیں، مستونگ کے علاقہ کھڈ کوچہ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے۔
سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران متعدد دہشتگرد گرفتار کیے گئے، گرفتار دہشتگردوں میں سہولتکار سمیت مرد اور خواتین خودکش بمبار بھی شامل ہیں، کارروائی میں دہشتگردوں کےمتعدد ٹھکانے تباہ کر دیے گئے۔
علاقے میں سرچ اور کلیئرنس کارروائیاں جاری ہیں، سیکیورٹی فورسز کی جانب سے مکمل نگرانی برقرار ہے، دہشتگردوں کے ٹھکانوں سے بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود برآمد کرلیا گیا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ مستونگ کے علاقہ کھڈ کوچہ میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز تیز کر دیے گئے، دہشت گردی کے خاتمے اور علاقے میں امن و امان کے قیام تک سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔