بلدیہ سے دھماکا خیز مواد کی برآمدگی کے بعد چھاپا مار کارروائیاں تیز
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) بلدیہ کے علاقے سے بھاری مقدار میں دھماکا خیز مواد برآمد ہونے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شہر کے مختلف علاقوں میں چھاپہ مار کارروائیاں تیز کر دی ہیں، گرفتار دہشت گردوں کی نشاندہی پر مزید افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے، جن میں خواتین بھی شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق زیرِ حراست ملزمان کی فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر مختلف مقامات پر ٹارگٹڈ کارروائیاں کی گئیں، جن کے دوران متعدد مشتبہ افراد کو تفتیش کے لیے تحویل میں لیا گیا۔ ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ دھماکا خیز مواد کی تیاری میں استعمال ہونے والا سامان شہر کے مختلف علاقوں سے مرحلہ وار خریدا گیا تھا تاکہ کسی ایک مقام پر شک نہ ہو۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ہائی ایکسپلوزو مواد نہایت مہارت اور منصوبہ بندی کے تحت تیار کیا گیا تھا، جسے ناکارہ بنانے کے دوران بم ڈسپوزل اسکواڈ کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ڈیفیوز کرنے والے افسران نے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر بم کو ناکارہ بنایا، جس کے نتیجے میں نہ صرف ممکنہ بڑے سانحے کو ٹالا گیا بلکہ اردگرد کی گنجان آبادی کو بھی محفوظ رکھا گیا۔مزید انکشاف ہوا ہے کہ ملزمان گزشتہ کئی ماہ سے شہر میں دہشت گردی کی منصوبہ بندی کر رہے تھے اور ان کا ہدف کراچی کی معاشی سرگرمیوں کو سبوتاڑ کرنا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں تیز ہواؤں کے ساتھ ہلکی بارش کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ ریسکیو 1122 نے صوبے بھر میں اپنی تمام ضلعی ٹیموں کو ہائی الرٹ کردیا ہے۔
ترجمان ریسکیو 1122 بلال احمد فیضی کے مطابق خراب موسمی صورتحال کے باعث ضلع بنوں کے مختلف علاقوں میں اب تک 20 سے زیادہ افراد زخمی ہو چکے ہیں۔
زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرتے ہوئے مختلف اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جاتی ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ مردان، پشاور اور دیگر اضلاع میں بھی آندھی اور تیز ہواؤں کے باعث متعدد ایمرجنسی واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔
پشاور کے مختلف مقامات پر درخت گرنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جس کے بعد ریسکیو 1122 کی امدادی ٹیمیں رکاوٹیں ہٹانے اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔
بلال احمد فیضی نے کہا کہ ریسکیو 1122 کی تمام ضلعی ٹیمیں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں فوری طور پر ریسکیو 1122 سے رابطہ کریں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بارش تیز ہوائیں خیبرپختونخوا زخمی وی نیوز