پنجاب ڈرگ کنٹرول اتھارٹی نے مختلف ادویات کی فروخت پر پابندی عائد کر دی
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
پنجاب ڈرگ کنٹرول اتھارٹی نے مختلف ادویات کی فروخت پر پابندی عائد کر دی WhatsAppFacebookTwitter 0 6 January, 2026 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس ) پنجاب ڈائریکٹوریٹ آف ڈرگ کنٹرول اتھارٹی نے صوبے بھر میں مختلف کمپنیوں کی 8 اقسام کی ادویات کے مخصوص بیچز کی فروخت اور استعمال پر فوری پابندی عائد کر دی۔ڈرگ کنٹرول اتھارٹی کی جانب سے جاری کیے گئے الرٹ کے مطابق یہ ادویات مقررہ کوالٹی اسٹینڈرڈز پر پوری نہیں اترتیں۔ جانچ کے دوران بعض ادویات پوٹینسی ٹیسٹ میں ناکام پائی گئیں۔
جبکہ چند ادویات کو غیر معیاری، ملاوٹ شدہ یا قواعد و ضوابط کے خلاف غلط لیبلنگ کے ساتھ مارکیٹ میں فروخت کیا جا رہا تھا۔اتھارٹی نے ان ادویات کو مارکیٹ سے واپس لینے کے بھی احکامات جاری کر دیئے۔اتھارٹی نے الرٹ میں متاثرہ بیچز کی مکمل تفصیلات بھی فراہم کر دیں۔ تاکہ فارمیسیوں اور میڈیکل اسٹورز کو بروقت آگاہ کیا جا سکے۔جن ادویات کی فروخت پر پابندی عائد کی گئی ان میں آنکھوں کے قطرے اومنی وائز 2 فیصد- 5 ملی لیٹر، سیٹفن گولی- 10 ملی گرام، سینیکس گولی- 10 ملی گرام، آئیسوباج انجکشن- 10 ملی لیٹر، نیو کوبال انجکشن، میگا ڈپ گولی- 5 ملی گرام، کامیڈیکس انجکشن- 1 ملی لیٹر، اسکارڈ 75 انٹرک کوٹڈ گولی شامل ہیں۔ڈرگ کنٹرول اتھارٹی نے تمام میڈیکل اسٹورز، فارمیسیوں اور ڈسٹری بیوٹرز کو ہدایت کی ہے۔ کہ وہ ان ادویات کی فروخت فوری بند کریں۔ اور موجود اسٹاک متعلقہ حکام کو واپس کریں۔ اتھارٹی نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ ان ادویات کے استعمال سے گریز کریں۔ کیونکہ غیر معیاری ادویات صحت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔ کسی بھی مشتبہ دوا کی اطلاع قریبی ڈرگ انسپکٹر یا متعلقہ ادارے کو دی جائے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبر”ہر شخص اہم ہے” ازبکستان کی ریاستی پالیسی کا مرکزی اصول ہے،سیدا مرزا یوف ”ہر شخص اہم ہے” ازبکستان کی ریاستی پالیسی کا مرکزی اصول ہے،سیدا مرزا یوف وینزویلا میں امریکی تیل کمپنیاں 18ماہ کے اندر کام شروع کردیں گی، ٹرمپ کا دعوی نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا ایران سے تعلقات کو وسعت دینے کے عزم کا اعادہ وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کا گیس کی قیمتیں رواں سال برقرار رکھنے کا اعلان گلگت بلتستان کی نگران کابینہ نے عہدے کا حلف اٹھا لیا ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایمان مزاری کو باریک وارداتیا قرار دیدیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ڈرگ کنٹرول اتھارٹی نے ادویات کی فروخت پابندی عائد
پڑھیں:
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔
مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔
فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم