بھارتی فوج کی جانب سے جاری کی گئی ایک حالیہ تشہیری ویڈیو نے سوشل میڈیا پر غیر معمولی توجہ حاصل کرلی ہے، مگر یہ توجہ تعریف سے زیادہ تنقید اور طنز کی صورت میں سامنے آئی۔ 

بھارتی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ، ایڈیشنل ڈائریکٹوریٹ جنرل پبلک انفارمیشن نے یہ مختصر ویڈیو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کی، جو سرکاری اکاؤنٹ ADGPI Indian Army سے جاری کی گئی۔ پوسٹ کے ساتھ طاقت، فیصلہ کن کارروائی اور خفیہ آپریشنز سے متعلق علامتی جملے بھی تحریر کیے گئے۔

ویڈیو میں رات کے وقت مسلح فوجی اہلکاروں کو اندھیرے میں پیش قدمی کرتے دکھایا گیا ہے۔ مناظر میں سب سے نمایاں چیز اہلکاروں کے ہتھیاروں پر لگی روشن لیزر لائٹس ہیں، جو واضح طور پر دکھائی دیتی ہیں۔ ویڈیو کے اندر شامل تحریری پیغام میں کہا گیا ہے کہ ہدف پر پڑنے والی لیزر محض انتباہ نہیں بلکہ حتمی فیصلے کی علامت ہے، جبکہ ایک اور سطر میں رات پر مکمل کنٹرول کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔

یہ ویڈیو 4 جنوری 2026 کو شیئر کی گئی اور مختصر وقت میں ہزاروں صارفین نے اسے دیکھ لیا، تاہم اندازِ پیشکش اور عسکری علامتوں کے استعمال نے اسے تعریف کے بجائے بحث کا مرکز بنا دیا۔

سوشل میڈیا صارفین نے ویڈیو میں دکھائے گئے مناظر کو عسکری حقیقت کے تناظر میں پرکھنا شروع کیا، جس کے بعد یہ پوسٹ طنزیہ تبصروں اور سخت تنقید کی زد میں آگئی۔ بنیادی اعتراض یہ اٹھایا گیا کہ رات کے وقت اسلحے پر اس طرح کی لیزر لائٹس کا استعمال فوجی اہلکاروں کی پوزیشن ظاہر کرسکتا ہے۔

ایک صارف نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ وہ امریکا میں رہنے والا ایک عام شہری ہے جو کردار ادا کرنے والی سرگرمیوں میں حصہ لیتا ہے، مگر اس کے پاس موجود ہتھیار اور سازوسامان اس ویڈیو میں دکھائے گئے سامان سے کہیں بہتر ہیں۔

کسی نے اسے بالی وڈ فلموں سے تشبیہ دی، تو کسی صارف کا کہنا تھا کہ یہ ویڈیو 13 سال کے بچوں کو متاثر کرنے کے لیے بنائی گئی ہے۔

ایک اور تبصرے میں سوال اٹھایا گیا کہ کیا نائٹ وژن آلات کے بجائے لیزر استعمال کرنا وسائل کی کمی کو ظاہر کرتا ہے؟

ایکس صارف جے دیو جاموال نے بھی ویڈیو پر سوالات اٹھاتے ہوئے لکھا کہ اگر واقعی رات کی کارروائی دکھائی جا رہی ہے تو اہلکاروں کے پاس نائٹ وژن یا جدید بصری آلات نظر کیوں نہیں آ رہے؟ ان کے مطابق اسلحے پر لگی روشن لیزر سیکڑوں میٹر دور سے دیکھی جا سکتی ہے، جو کسی خفیہ کارروائی کے تصور کے خلاف ہے۔

اس کے جواب میں ایک صارف نے وضاحت کی کہ یہ محض ایک سینماٹک اور تشہیری ویڈیو ہے، کسی حقیقی یا خفیہ فوجی آپریشن کی فوٹیج نہیں۔

ایک اور صارف نے مزید سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ویڈیو مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کی گئی معلوم ہوتی ہے، جس میں بندوقوں پر اسٹار ٹریک جیسی لیزر دکھائی گئی ہیں۔ اس کے مطابق حقیقی سرخ نقطے والی لیزر سائٹس فضا میں اس طرح نظر نہیں آتیں جب تک دھواں، دھند یا کوئی ٹھوس ہدف موجود نہ ہو، اس لیے ویڈیو میں دکھائی گئی لیزر عملی حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتی۔

معاملہ یہیں نہیں رکا، بلکہ ایک صارف نے ایکس کے مصنوعی ذہانت پر مبنی چیٹ بوٹ گروک سے بھی سوال کیا کہ ویڈیو میں مسئلہ کیا ہے۔ گروک نے جواب دیا کہ ویڈیو میں دکھائی گئی سرخ لیزر سائٹس رات کے وقت فوجیوں کی پوزیشن دشمن پر ظاہر کر سکتی ہیں، جبکہ حقیقی عسکری حکمتِ عملی میں خصوصی دستے نائٹ وژن آلات کے ساتھ نظر نہ آنے والی انفرا ریڈ لیزرز استعمال کرتے ہیں۔ گروک کے مطابق یہ ویڈیو تشہیری مقصد کے لیے بنائی گئی ہے، مگر عسکری اعتبار سے درست عکاسی نہیں کرتی۔

ایک اور طنزیہ تبصرے میں کہا گیا کہ دو افراد پر مشتمل گشت کے دوران رائفل پر لائٹ سیبر جیسی روشنی لگانا رات کے وقت پاکستانیوں کے ہاتھوں مارے جانے کا آسان ترین طریقہ ہے۔

تاحال انڈین فوج یا اس کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے اس شدید ردِعمل پر کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ ویڈیو بدستور سوشل میڈیا پر موجود ہے اور اس پر تنقید، سوالات اور طنزیہ تبصروں کا سلسلہ جاری ہے۔

TagsShowbiz News Urdu.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل سوشل میڈیا رات کے وقت ویڈیو میں یہ ویڈیو ایک اور کی گئی

پڑھیں:

لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق

لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔

(جاری ہے)

پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی