نائٹ آپریشن میں لیزر گن کا استعمال؟ بھارتی فوج ایک بار پھر جگ ہنسائی کا شکار
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
بھارتی فوج کی جانب سے جاری کی گئی ایک حالیہ تشہیری ویڈیو نے سوشل میڈیا پر غیر معمولی توجہ حاصل کرلی ہے، مگر یہ توجہ تعریف سے زیادہ تنقید اور طنز کی صورت میں سامنے آئی۔
بھارتی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ، ایڈیشنل ڈائریکٹوریٹ جنرل پبلک انفارمیشن نے یہ مختصر ویڈیو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کی، جو سرکاری اکاؤنٹ ADGPI Indian Army سے جاری کی گئی۔ پوسٹ کے ساتھ طاقت، فیصلہ کن کارروائی اور خفیہ آپریشنز سے متعلق علامتی جملے بھی تحریر کیے گئے۔
ویڈیو میں رات کے وقت مسلح فوجی اہلکاروں کو اندھیرے میں پیش قدمی کرتے دکھایا گیا ہے۔ مناظر میں سب سے نمایاں چیز اہلکاروں کے ہتھیاروں پر لگی روشن لیزر لائٹس ہیں، جو واضح طور پر دکھائی دیتی ہیں۔ ویڈیو کے اندر شامل تحریری پیغام میں کہا گیا ہے کہ ہدف پر پڑنے والی لیزر محض انتباہ نہیں بلکہ حتمی فیصلے کی علامت ہے، جبکہ ایک اور سطر میں رات پر مکمل کنٹرول کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔
یہ ویڈیو 4 جنوری 2026 کو شیئر کی گئی اور مختصر وقت میں ہزاروں صارفین نے اسے دیکھ لیا، تاہم اندازِ پیشکش اور عسکری علامتوں کے استعمال نے اسے تعریف کے بجائے بحث کا مرکز بنا دیا۔
سوشل میڈیا صارفین نے ویڈیو میں دکھائے گئے مناظر کو عسکری حقیقت کے تناظر میں پرکھنا شروع کیا، جس کے بعد یہ پوسٹ طنزیہ تبصروں اور سخت تنقید کی زد میں آگئی۔ بنیادی اعتراض یہ اٹھایا گیا کہ رات کے وقت اسلحے پر اس طرح کی لیزر لائٹس کا استعمال فوجی اہلکاروں کی پوزیشن ظاہر کرسکتا ہے۔
ایک صارف نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ وہ امریکا میں رہنے والا ایک عام شہری ہے جو کردار ادا کرنے والی سرگرمیوں میں حصہ لیتا ہے، مگر اس کے پاس موجود ہتھیار اور سازوسامان اس ویڈیو میں دکھائے گئے سامان سے کہیں بہتر ہیں۔
کسی نے اسے بالی وڈ فلموں سے تشبیہ دی، تو کسی صارف کا کہنا تھا کہ یہ ویڈیو 13 سال کے بچوں کو متاثر کرنے کے لیے بنائی گئی ہے۔
ایک اور تبصرے میں سوال اٹھایا گیا کہ کیا نائٹ وژن آلات کے بجائے لیزر استعمال کرنا وسائل کی کمی کو ظاہر کرتا ہے؟
ایکس صارف جے دیو جاموال نے بھی ویڈیو پر سوالات اٹھاتے ہوئے لکھا کہ اگر واقعی رات کی کارروائی دکھائی جا رہی ہے تو اہلکاروں کے پاس نائٹ وژن یا جدید بصری آلات نظر کیوں نہیں آ رہے؟ ان کے مطابق اسلحے پر لگی روشن لیزر سیکڑوں میٹر دور سے دیکھی جا سکتی ہے، جو کسی خفیہ کارروائی کے تصور کے خلاف ہے۔
اس کے جواب میں ایک صارف نے وضاحت کی کہ یہ محض ایک سینماٹک اور تشہیری ویڈیو ہے، کسی حقیقی یا خفیہ فوجی آپریشن کی فوٹیج نہیں۔
ایک اور صارف نے مزید سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ویڈیو مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کی گئی معلوم ہوتی ہے، جس میں بندوقوں پر اسٹار ٹریک جیسی لیزر دکھائی گئی ہیں۔ اس کے مطابق حقیقی سرخ نقطے والی لیزر سائٹس فضا میں اس طرح نظر نہیں آتیں جب تک دھواں، دھند یا کوئی ٹھوس ہدف موجود نہ ہو، اس لیے ویڈیو میں دکھائی گئی لیزر عملی حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتی۔
معاملہ یہیں نہیں رکا، بلکہ ایک صارف نے ایکس کے مصنوعی ذہانت پر مبنی چیٹ بوٹ گروک سے بھی سوال کیا کہ ویڈیو میں مسئلہ کیا ہے۔ گروک نے جواب دیا کہ ویڈیو میں دکھائی گئی سرخ لیزر سائٹس رات کے وقت فوجیوں کی پوزیشن دشمن پر ظاہر کر سکتی ہیں، جبکہ حقیقی عسکری حکمتِ عملی میں خصوصی دستے نائٹ وژن آلات کے ساتھ نظر نہ آنے والی انفرا ریڈ لیزرز استعمال کرتے ہیں۔ گروک کے مطابق یہ ویڈیو تشہیری مقصد کے لیے بنائی گئی ہے، مگر عسکری اعتبار سے درست عکاسی نہیں کرتی۔
ایک اور طنزیہ تبصرے میں کہا گیا کہ دو افراد پر مشتمل گشت کے دوران رائفل پر لائٹ سیبر جیسی روشنی لگانا رات کے وقت پاکستانیوں کے ہاتھوں مارے جانے کا آسان ترین طریقہ ہے۔
تاحال انڈین فوج یا اس کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے اس شدید ردِعمل پر کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ ویڈیو بدستور سوشل میڈیا پر موجود ہے اور اس پر تنقید، سوالات اور طنزیہ تبصروں کا سلسلہ جاری ہے۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل سوشل میڈیا رات کے وقت ویڈیو میں یہ ویڈیو ایک اور کی گئی
پڑھیں:
جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آنے پر تنازعہ کھڑا ہو گیا۔ پہلے تو اس ویڈیو کو فیک اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی تخلیق بتایا گیا لیکن جب ویڈیو اصل نکل آئی تو ممتاز سینئیر سیاست دان نے دوسری شادی کرنے کا دعویٰ کیا۔ خاتون کے غیر شادی شدہ ہونے کی دستاویز نے سیاستدان کو زیادہ مشکل میں ڈال دیا۔ بنگلہ دیش کی پارلیمنٹ کے رکن، جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے سینئیر سیاستدان غازی نذرالاسلام کی ایک نوجوان خاتون کے ساتھ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ایک کی مبینہ دوسری شادی کے معاملے پر تنازع ان کے دوسری شادی کا اعتراف کر لینے کے بعد کم نہیں ہوا۔ اب جماعت اسلامی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس سارے معاملہ کی تحقیقات کروا رہی ہے
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
بنگلہ دیش کے میڈیا کے مطابق غازی نذرالاسلام کی سوشل میڈیا پر ایک نوجوان خاتون کے ساتھ ویڈیو وائرل ہو گئی تھی۔ پہلے تو ان کے حامیوں نے اس ویڈیو کو ڈیپ فیک اور آڑٹیفیشل انٹیلیجنس سے بنائی گئی ویڈیو قرار دیا، لیکن جب تنقید کرنے والے خاموش نہیں ہوئے تو بعض لوگوں نے اس ویڈیو کی سافٹ وئیرز کی مدد سے ویریفیکیشن کی۔ فیکٹ چیک کرنے والے ایک ادارے نے بتا دیا کہ ویکڈو بالکل اصلی ہے۔ نذر الاسلام کی نوجوان خاتون کے ساتھ ویڈیو کے مصنوعی ذہانت سے تیار ہونے یا اس میں کوئی تبدیلی کیے جانے کے شواہد نہیں مل۔ اس کے بعد لوگوں کی ساری توجہ ویڈیو میں شامل افراد اور ان کے باہمی تعلق پر مرکوز ہوگئی۔ جب سوشل میڈیا پر تنقید کافی برھ گئی تو جماعت اسلامی کے سینئیر سیاست دان اور رکن پارلیمنٹ نے ویڈیو کلپ میں اپنے ساتھ دکھائی دینے والی نوجوان خاتون کو اپنی بیوی قرار دے دیا۔ غازی نذرالاسلام نے اپنے بیان میں کہا کہ خاتون ان کی دوسری بیوی ہے اور ان کی شادی 17 جون کو دونوں خاندانوں اور ان کی پہلی بیوی کی رضامندی سے ہوئی تھی۔
چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات
نذر الاسلام نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ اس وائرل ویڈیو کو خفیہ طور پر ریکارڈ کرکے بھتہ خوری اور سیاسی کردار کشی کےلیے منظرِ عام پر لایا گیا۔ جماعت اسلامی کے اس سینئیر رکنِ پارلیمنٹ کی پہلی بیوی نے اس موقع پر شوہر کا ساتھ دیا اور ایک ویڈیو بیان میں اپنے عمر رسیدہ شوہر کے مؤقف کی تصدیق کی کہ ان کے شوہر نے نوجوان لڑکی مریم بیگم سے دوسری شادی کرلی ہے۔ مریم بیگم نے بھی ایک علیحدہ ویڈیو میں خود کو غازی نذرالاسلام کی بیوی قرار دیتے ہوئے کہا کہ شادی 17 جون کو دونوں خاندانوں اور نذر الاسلام کی پہلی بیوی کی موجودگی میں ہوئی تھی۔
پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا
بنگلہ دیشی میڈیا میں سامنے آنے والی رپورٹوں کے مطابق غازی نذرالاسلام اور ان کے خاندان کی تصدیق کے باوجود سوشل میڈیا پر خاتون مریم بیگم سے متعلق قانونی دستاویزات منظر عام پر آئی ہیں، جن کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی اور نہ ہی رکن پارلیمنٹ یا خاتون اور ان کے اہلخانہ نے دستاویز ات میں موجود تضاد پر کوئی وضاحت دی ہے۔ شادی کے پانچ دن بعد نذر الاسلام نے بیوی کو کنوارا ظاہر کر کے اسکی سرکاری نوکری کی سفارش کی؟ ایک دستاویز میں نذر السلام کے ساتھ نظز آنے والی لڑکی مریم کی ازدواجی حیثیت ’غیر شادی شدہ‘ درج ہے اور اس دستاویز پر غازی نذرالاسلام کی جانب سے 22 جون، یعنی اپنی بتائی ہوئی مبینہ شادی کی تاریخ کے پانچ روز بعد، سرکاری ملازمت کے لیے سفارش بھی موجود دکھائی دیتی ہے۔
دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
بنگلہ دیش کے میڈیا کے مطابق یہ خاتون سرکاری ملازمت کی خواہاں تھیں اور غازی نذرالاسلام نے ان کی درخواست کی سفارش کی تھی۔ غازی نذرالاسلام نے ان تمام کہانیوں نظر انداز کرتے ہوئے ایک اور پیچیدہ کہانی سے پردہ اٹھا دیا جو دال میں کافی کچھ کالا ہونے کی نشاندہی کرتی ہے۔ عمر رسیدہ سیاستدان نذر الاسلام نے یہ دعویٰ کیا کہ 13 جولائی کو وہ ڈھاکا کے موگ بازار میں ایک دفتر گئے تھے جہاں ان کی دونوں بیویاں بھی موجود تھیں۔
نذر الاسلام نے الزام لگایا کہ ڈرائیور، دوسری کے ماموں اور چند نامعلوم افراد نے انہیں یرغمال بنا کر ایک لاکھ ٹکا بھتہ وصول کیا، ان لوگوں نے نذر الاسلام کے بقول مزید رقم کا مطالبہ کیا اور ان لوگوں نے ہی ان کی مریم کے ساتھ خفیہ طور پر نجی ویڈیو ریکارڈ کرکے بعد میں سوشل میڈیا پر پھیلا دی۔ نذر الاسلام کے اس دعوے میں کمزوری یہ ہے کہ ویڈیو کلپ مین نذر الاسلام کو اس خاتون کے ساتھ اپنے کمرے میں بیٹھے اور بوس و کنار کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ لوگ یہ سوال کر رہے ہیں کہ بازار کے کسی دفتر میں یرغمال بنا کر بھتہ لینے والوں کی رسائی ان کے گھر کے کمرے تک کیسے تھی۔
پاکستان نے کابل فضائی حملوں پر ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ مسترد کر دی
اس سکینڈل کے سوشل میڈیا اور میڈیا میں بہت زیادہ ڈسکس ہونے کے بعد آخر کار جماعت اسلامی بنگلہ دیش نے کہا ہے کہ وہ اس سارے معاملے کی معلومات اکٹھی کر رہی ہے اور حقائق سامنے آنے کے بعد تنظیم کے اندر تادیبی کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔ جماعت اسلامی کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل احسان الحق محبوب زبیر کے مطابق پارٹی میڈیا رپورٹس، رکنِ پارلیمنٹ، ان کی دونوں بیویوں اور خاتون کے والد کے بیانات کا جائزہ لے رہی ہے۔
مزید :