نیتن یاہو کی گرفتاری کیوں نہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
اسلام ٹائمز: نیتن یاہو کے اقدامات نہ صرف جنیوا کنونشنز کی کھلی خلاف ورزی ہیں بلکہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے کی بھی توہین ہیں۔ اگر عالمی برادری واقعی انصاف، امن اور انسانی جان کی حرمت پر یقین رکھتی ہے تو اسے یہ ہمت دکھانا ہوگی کہ اسرائیلی قیادت کو بھی اسی طرح قانون کے تابع کرے، جیسے دیگر ممالک کے حکمرانوں کو کیا جاتا ہے۔ آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ مادورو اور نیتن یاہو کے درمیان قانونی تقابل دراصل عالمی نظامِ انصاف کے چہرے سے نقاب ہٹاتا ہے۔ جب تک طاقتور کو قانون سے بالاتر اور کمزور کو قابلِ گرفت سمجھا جاتا رہے گا، دنیا میں نہ حقیقی انصاف قائم ہوسکے گا اور نہ ہی پائیدار امن۔ عالمی عدالتوں کی ساکھ اسی دن بحال ہوگی، جب نیتن یاہو جیسے جنگی مجرموں کو بھی کٹہرے میں لا کر جواب دہ بنایا جائے گا۔ تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فائونڈیشن پاکستان
وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کے امریکی اغوا کے بعد دنیا میں ایک مرتبہ پھر غیر یقینی صورتحال جنم لے چکی ہے۔ حالانکہ اب امریکی حکومت بیانات دے رہی ہے کہ وینزویلا کے خلاف جنگ نہیں ہے، لیکن یہ بھی مارکو روبیو کا عجیب بیان ہے کہ جنگ نہیں ہے، لیکن ایک منتخب صدر کو اغوا کرکے امریکی عدالتوں میں پیش کیا جا رہا ہے۔ کیا عالمی قانون کی ٹھیکیداری امریکہ کے پاس ہے؟ یا یہ کہ امریکہ کو کسی بین الاقوامی ادارے نے ایسے احکامات دیئے ہیں کہ کسی بھی خود مختار ملک میں جا کر کسی صدر کو اغوا کرکے لے آئو۔؟ یہ سراسر غیر قانونی اور غیر اخلاقی ہے اور سنگین جرم ہے۔ بین الاقوامی سیاست اور عالمی قوانین کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ان کا اطلاق تمام ریاستوں اور حکمرانوں پر یکساں نہیں ہوتا۔ بین الاقوامی قوانین کی ایک بڑی خامی یہ ہے کہ قوانین کو لاگو کرنے کے لئے کوئی باقاعدہ اتھارٹی یا فورس نہیں ہے۔
حالیہ دنوں میں ایک برطانوی رکنِ پارلیمنٹ کی جانب سے یہ بیان سامنے آیا کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو اغوا کیا جا سکتا ہے تو پھر ہزاروں فلسطینیوں کو قتل کرنے والے نیتن یاہو کو باقاعدہ گرفتار کرکے سزا کیوں نہیں دی جا سکتی۔؟ برطانوی رکن پارلیمنٹ کا یہ بیان سوشل میڈیا پر پذایرائی حاصل کرچکا ہے، کیونکہ دنیا چاہتی ہے کہ فلسطینیوں کے قاتل کو سزا دی جائے اور اس عنوان سے تو بین الاقوامی قوانین کے مطابق عالمی عدالت انصاف فیصلہ دے چکی ہے، لیکن افسوس کی بات ہے کہ ابھی تک اس فیصلہ پر عمل درآمد کے لئے کوئی خاص عمل سامنے نہیں آیا ہے۔ برطانوی رکن پارلیمنٹ کا یہ بیان عالمی قانون کی عملداری کے حوالے سے ایک اہم سوال کو جنم دیتا ہے کہ اگر مادورو کو اغوا کیا جا سکتا ہے تو پھر اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کو عالمی جرائم کے ارتکاب پر گرفتار کرکے عالمی عدالت انصاف یا عالمی فوجداری عدالت (ICC) میں پیش کیوں نہیں کیا جا سکتا۔؟
امریکی حکومت کا یہ طریقہ واردات رہا ہے کہ ہمیشہ اپنے مخالفین پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سمیت ملک میں جمہوریت دشمنی کے نعروں کو ایجاد کیا جاتا ہے اور پھر ان ممالک میں فوجی طاقت کے ساتھ یا پھر اندرون خانہ ایجنٹوں کی مدد سے حکومت کا تختہ الٹ دیا جاتا ہے۔ پاکستان میں گذشتہ حکومت کا خاتمہ بھی امریکی سازشوں کا شاخسانہ قرار دیا گیا ہے۔ اپنے اسی طریقہ واردات کو اپناتے ہوئے امریکی صدر ٹرمپ نے وینزویلا کے منتخب صدر نکولس مادورو کے خلاف انتقامی کارروائی انجام دی ہے۔ امریکہ نے خود ہی نکولس مادورو پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، سیاسی مخالفین کے خلاف جبر اور عوامی آزادیوں کو محدود کرنے جیسے الزامات عائد کر دیئے ہیں، حالانکہ ایسے تمام کام تو ٹرمپ خود بھی امریکی حکومت میں انجام دیتے آئے ہیں۔
مغربی ممالک ان الزامات کی بنیاد پر اسے ایک آمر قرار دیتے ہیں اور اس کے اغوا کو قانونی کارروائی قرار دے رہے ہیں۔ لیکن دوسری جانب اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کے خلاف غزہ میں جنگی جرائم، نسل کشی، شہری آبادی پر بمباری، اسپتالوں، اسکولوں اور پناہ گزین کیمپوں کو نشانہ بنانے جیسے سنگین الزامات موجود ہیں، جن کے باقاعدہ شواہد اور ٹھوس ثبوت بھی عالمی عدالت انصاف میں پیش کئے جا چکے ہیں۔ نیتن یاہو کے جرائم کی دستاویزی شہادتیں عالمی اداروں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور حتیٰ کہ اقوامِ متحدہ کی رپورٹس میں بھی ملتی ہیں۔ لیکن پھر بھی نہ تو مغربی حکومتوں کو یہ جرائم نظر آتے ہیں اور نہ ہی دنیا میں امن کا ڈھونگ رچانے والی امریکی حکومت کوئی کاروائی کرتی نطر آتی ہے۔
عالمی فوجداری عدالت نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے خلاف تحقیقات کا عندیہ بھی دیا ہے، مگر عملی طور پر نیتن یاہو آج بھی آزاد گھوم رہا ہے، عالمی فورمز پر شرکت کرتا ہے اور خود کو قانون سے بالاتر سمجھتا ہے۔ یہاں تک کہ عالمی عدالت کے فیصلہ کے بعد نیتن یاہو دو مرتبہ امریکہ کا دورہ بھی کرچکا ہے، لیکن مجال ہے کہ ٹرمپ کو انسانی حقوق یا کوئی اور بات یاد آئی ہو، بلکہ ٹرمپ مسلسل نیتن یاہو کی حمایت کرتے نظر آتے ہیں اور اسرائیل کے تمام تر جنگی جرائم اور انسانیت سوز مظالم کی پردہ پوشی بھی کرتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ عالمی طاقتوں، خصوصاً امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کی غیر مشروط حمایت ہے۔ یہی وہ دوہرا معیار ہے، جو عالمی انصاف کے تصور کو کمزور اور مشکوک بنا دیتا ہے۔
برطانوی رکن پارلیمنٹ کی ویڈیو جس میں وہ نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ کر رہے ہیں، حقیقت میں دنیا کے ہر انسان کے دل کی آواز ہے۔ دنیا کا ہر باضمیر شخص چاہتا ہے کہ فلسطینی عوام کے قاتلوں کو سزا دی جائے اور ان کا محاسبہ کیا جائے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بین الاقوامی قوانین میں یہی سب سے بڑی خامی ہے کہ طاقتور اور بدمعاشوں کو لگام دینے کے لئے کوئی باقاعدہ فورس موجود نہیں ہے۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر بین الاقوامی قانون واقعی غیر جانبدار ہے تو پھر اس کا اطلاق صرف کمزور ممالک یا مغرب کے ناپسندیدہ حکمرانوں تک محدود کیوں ہے۔؟ فلسطین میں ہزاروں معصوم بچوں، عورتوں اور بزرگوں کے قتل عام کو نظرانداز کرکے کسی اور ملک کے حکمران کو انسانی حقوق کی پامالی پر کٹہرے میں کھڑا کرنا دراصل انصاف نہیں بلکہ سیاسی مفاد پرستی ہے۔
نیتن یاہو کے اقدامات نہ صرف جنیوا کنونشنز کی کھلی خلاف ورزی ہیں بلکہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے کی بھی توہین ہیں۔ اگر عالمی برادری واقعی انصاف، امن اور انسانی جان کی حرمت پر یقین رکھتی ہے تو اسے یہ ہمت دکھانا ہوگی کہ اسرائیلی قیادت کو بھی اسی طرح قانون کے تابع کرے، جیسے دیگر ممالک کے حکمرانوں کو کیا جاتا ہے۔ آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ مادورو اور نیتن یاہو کے درمیان قانونی تقابل دراصل عالمی نظامِ انصاف کے چہرے سے نقاب ہٹاتا ہے۔ جب تک طاقتور کو قانون سے بالاتر اور کمزور کو قابلِ گرفت سمجھا جاتا رہے گا، دنیا میں نہ حقیقی انصاف قائم ہوسکے گا اور نہ ہی پائیدار امن۔ عالمی عدالتوں کی ساکھ اسی دن بحال ہوگی، جب نیتن یاہو جیسے جنگی مجرموں کو بھی کٹہرے میں لا کر جواب دہ بنایا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انسانی حقوق کی نکولس مادورو بین الاقوامی نیتن یاہو کے برطانوی رکن عالمی عدالت وینزویلا کے اور انسانی کو قانون دنیا میں جاتا ہے کے خلاف نہیں ہے کو اغوا اور اس کو بھی کیا جا اور ان
پڑھیں:
امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔
منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔
سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔