حلب میں شامی فوج اور کرد فورسز میں خونریز جھڑپیں، ایک فوجی اور 3 شہری ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
حلب میں شامی فوج اور کرد زیر قیادت اور امریکی حمایت یافتہ شامی ڈیموکریٹک فورسز (SDF) کے درمیان جھڑپوں میں کم از کم تین شہری اور ایک شامی فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔
عالمی میڈیا رپورٹ میں سرکاری خبر رساں ایجنسی سانا کے مطابق حلب میں شامی فوج اور کرد زیر قیادت اور امریکی حمایت یافتہ سیریئن ڈیموکریٹک فورسز (SDF) کے درمیان جھڑپوں میں کم از کم تین شہری اور ایک شامی فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔
قبل ازیں شام کی وزارت دفاع نے کہا تھا کہ شمالی صوبے کے مشرق میں دیر حفر کے قریب ایک فوجی چوکی پر ایس ڈی ایف کی جانب سے ڈرون فائر کیے جانے کے بعد تین فوجی زخمی ہو گئے۔
شیخ مقصود اور اشرفیہ کے علاقوں میں بھاری مشین گن سے فائرنگ اور لڑائی کی اطلاع ملی ہے۔ وزارت کا کہنا ہے کہ وہ “مناسب انداز میں جارحیت” کا جواب دے گی۔
سرکاری ٹی وی نے رپورٹ کیا کہ رہائشی علاقے پر گولہ باری سے دو شہری خواتین ہلاک اور ایک بچہ زخمی ہو گیا جس کا الزام ایس ڈی ایف پر عائد کیا گیا۔
ایس ڈی ایف نے ایک بیان میں اس گولہ باری کی تردید کی ہے اور اس کے بجائے زور دے کر کہا ہے کہ “دمشق حکومت سے وابستہ دھڑوں” کی طرف سے فائر کیا گیا گیا گولہ المیدان کے قریب گرا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔