پنجاب بار کونسل نے فیض حمید کے وکیل کا لائسنس بحال کردیا
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260107-01-9
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک ) پنجاب بار کونسل کی جانب سے سابق آئی ایس آئی چیف فیض حمید کے وکیل بیرسٹر میاں علی اشفاق کا لائسنس بحال کردیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں میاں علی اشفاق کا لائسنس معطلی کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی جہاں جسٹس ملک اویس خالد نے میاں علی اشفاق کی درخواست پر یہ کیس سنا، عدالتی حکم پر پنجاب بار کونسل کے عہدیداران پیش ہوئے، عدالت نے پنجاب بار کونسل کو میاں علی اشفاق کا مؤقف سن کر معاملے کا فیصلہ کرنے کا حکم دیا۔بتایا گیا ہے کہ عدالتی فیصلے کے بعد میاں علی اشفاق کے اعتراضات اور مؤقف کو سنتے ہوئے اس کی روشنی میں پنجاب بار کونسل نے ان کا لائسنس بحال کردیا، پنجاب بار کونسل نے میاں علی اشفاق کا معاملہ ڈسپلنری کمیٹی کو بھجوادیا، اس حوالے سے پنجاب بار کونسل کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ میں رپورٹ پیش کی جائے گی۔گزشتہ روزلاہو ہائیکورٹ نے میاں علی اشفاق کے لائسنس معطل کرنے کے خلاف درخواست پر پنجاب بار کونسل کے وائس چیئرمین کو نوٹس جاری کرتے ہوے متعلقہ ریکارڈ طلب کیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: میاں علی اشفاق کا پنجاب بار کونسل کا لائسنس
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔