پنجاب بار کونسل نے فیض حمید کے وکیل کا لائسنس بحال کردیا
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260107-01-9
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک ) پنجاب بار کونسل کی جانب سے سابق آئی ایس آئی چیف فیض حمید کے وکیل بیرسٹر میاں علی اشفاق کا لائسنس بحال کردیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں میاں علی اشفاق کا لائسنس معطلی کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی جہاں جسٹس ملک اویس خالد نے میاں علی اشفاق کی درخواست پر یہ کیس سنا، عدالتی حکم پر پنجاب بار کونسل کے عہدیداران پیش ہوئے، عدالت نے پنجاب بار کونسل کو میاں علی اشفاق کا مؤقف سن کر معاملے کا فیصلہ کرنے کا حکم دیا۔بتایا گیا ہے کہ عدالتی فیصلے کے بعد میاں علی اشفاق کے اعتراضات اور مؤقف کو سنتے ہوئے اس کی روشنی میں پنجاب بار کونسل نے ان کا لائسنس بحال کردیا، پنجاب بار کونسل نے میاں علی اشفاق کا معاملہ ڈسپلنری کمیٹی کو بھجوادیا، اس حوالے سے پنجاب بار کونسل کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ میں رپورٹ پیش کی جائے گی۔گزشتہ روزلاہو ہائیکورٹ نے میاں علی اشفاق کے لائسنس معطل کرنے کے خلاف درخواست پر پنجاب بار کونسل کے وائس چیئرمین کو نوٹس جاری کرتے ہوے متعلقہ ریکارڈ طلب کیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: میاں علی اشفاق کا پنجاب بار کونسل کا لائسنس
پڑھیں:
اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
روم ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) اٹلی کے جنوبی علاقے میں 4 پاکستانی کھیت مزدوروں کو ایک منی وین کے اندر مبینہ طور پر زندہ جلا کر قتل کر دیا گیا، اطالوی پولیس نے اس وحشیانہ قتل کے الزام میں 2 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کرلیا۔ اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا (Corriere della Sera) کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ اٹلی کے جنوبی علاقے کلابریا میں ایک پیٹرول پمپ کے قریب ایک جلی ہوئی منی وین سے چار پاکستانی کارکناں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں، اطالوی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان مقتولین کے قتل کے شبہے میں 2 پاکستانی باشندوں کو حراست میں لے لیا، اطالوی پولیس نے گرفتار دونوں پاکستانی ملزمان کو ریمانڈ پر لے کر ان سے تفتیش شروع کر دی تاکہ اس گینگ اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔(جاری ہے)
بتایا گیا ہے کہ یہ ہولناک واقعہ کلابریا کے ایک وسیع زرعی علاقے میں واقع گاؤں امینڈولارا کے قریب ایک پیٹرول اسٹیشن پر پیش آیا، پیٹرول پمپ پر لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی تصاویر نے اس سفاکیت کو بے نقاب کیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوٹیج میں دیکھا کہ دو افراد نے باہر سے منی وین کے دروازوں کو بلاک کر دیا تاکہ اندر موجود لوگ باہر نہ نکل سکیں۔ معلوم ہوا ہے کہ دروازے بند کرنے کے بعد ان افراد نے گاڑی کے اندر کوئی آتش گیر مائع پٹرول یا کیمیکل پھینکا، مائع پھینکتے ہی گاڑی میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی اور دونوں ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، فائر فائٹرز نے موقع پر پہنچ کر جب آگ پر قابو پایا تو گاڑی کے اندر سے چاروں پاکستانیوں کی جھلسی ہوئی لاشیں برآمد ہوئیں، مقامی پولیس چیف انتونیو بوریلی نے تصدیق کی کہ یہ یقینی طور پر قتل کا معاملہ ہے، ہمیں بس اب اس کی مزید تفصیلات اور تانے بانے معلوم کرنے ہیں۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ علاقہ گزشتہ چند ماہ سے تارکینِ وطن کے درمیان شدید کشیدگی کا مرکز بنا ہوا تھا، اس زرعی علاقے میں غیر ملکیوں اور خاص طور پر پاکستانیوں کے درمیان کھیتوں میں کام کی تقسیم، رہائشی کاغذات اور رہائش گاہوں کے مسائل پر شدید اختلافات چل رہے ہیں، حالیہ مہینوں میں اسی علاقے کے اندر پاکستانیوں کو لے جانے والی کاروں اور منی وینز کو آگ لگانے کے 14 واقعات پہلے بھی رپورٹ ہو چکے ہیں، جن کا انجام اب اس ہولناک ڈبل مرڈر کی صورت میں سامنے آیا۔