پنجاب بار کونسل: فیض حمید کے وکیل کا لائسنس بحال
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
لاہور: پنجاب بار کونسل کی جانب سے سابق آئی ایس آئی چیف فیض حمید کے وکیل بیرسٹر میاں علی اشفاق کا لائسنس بحال کردیا گیا۔
لاہور ہائیکورٹ میں میاں علی اشفاق کا لائسنس معطلی کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی جہاں جسٹس ملک اویس خالد نے میاں علی اشفاق کی درخواست پر یہ کیس سنا، عدالتی حکم پر پنجاب بار کونسل کے عہدیداران پیش ہوئے۔
عدالت نے پنجاب بار کونسل کو میاں علی اشفاق کا موقف سن کر معاملے کا فیصلہ کرنے کا حکم دیا۔
بتایا گیا ہے کہ عدالتی فیصلے کے بعد میاں علی اشفاق کے اعتراضات اور موقف کو سنتے ہوئے اس کی روشنی میں پنجاب بار کونسل نے ان کا لائسنس بحال کردیا۔
پنجاب بار کونسل نے میاں علی اشفاق کا معاملہ ڈسپلنری کمیٹی کو بھجوادیا، اس حوالے سے پنجاب بار کونسل کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ میں رپورٹ پیش کی جائے گی۔
گزشتہ روزلاہو ہائیکورٹ نے میاں علی اشفاق کے لائسنس معطل کرنے کے خلاف درخواست پر پنجاب بار کونسل کے وائس چیئرمین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے متعلقہ ریکارڈ طلب کیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل میاں علی اشفاق کا پنجاب بار کونسل کا لائسنس
پڑھیں:
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔(جاری ہے)
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔