لائسنس بحالی کے کئی راستے تھے، مگر اصولی مؤقف اپنایا، وکیل میاں علی اشفاق
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
سینیئر وکیل میاں علی اشفاق نے کہا ہے کہ اگر وہ چاہتے تو محض 2 منٹ میں اپنا وکالتی لائسنس بحال کروا سکتے تھے، تاہم انہوں نے جان بوجھ کر اس مقصد کے لیے عدالت میں کوئی پٹیشن دائر نہیں کی۔
میڈیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ لائسنس کی بحالی کے لیے ان کے پاس متعدد قانونی اور دیگر ذرائع موجود تھے، جن میں سیاسی بنیادوں پر بحالی بھی شامل ہے، مگر انہوں نے یہ راستہ اختیار نہیں کیا۔
میاں علی اشفاق کے مطابق انہوں نے لاہور ہائیکورٹ میں جو پٹیشن دائر کی ہے، اس کا مقصد ذاتی فائدہ یا لائسنس کی بحالی نہیں بلکہ پوری وکلا برادری کے لیے ایک اصولی نکتہ اجاگر کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ پٹیشن اس لیے فائل کی گئی ہے تاکہ اگر کوئی شخص سیدھے اور قانونی طریقے سے کام کرے، مکمل قانونی تعلیم رکھتا ہو اور بطور وکیل اپنے حقوق سے آگاہ ہو تو اس کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کالعدم ایگزیکٹو کمیٹی کے کسی آؤٹ گوئنگ رکن کی جانب سے اس نوعیت کا حکم جاری کرنا نہ صرف واضح طور پر غیر قانونی ہے بلکہ دائرہ اختیار سے تجاوز کے مترادف بھی ہے۔
ان کے مطابق ایسے رکن کے پاس کسی بھی قسم کا حکم جاری کرنے کا نہ تو قانونی اختیار تھا اور نہ ہی کوئی آئینی استحقاق، لہٰذا اس طرح کا فیصلہ سرے سے ہی غیر مؤثر اور کالعدم ہے۔
میاں علی اشفاق نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کی قانونی جدوجہد ذاتی نہیں بلکہ وکلا برادری کے حقوق، قانون کی بالادستی اور ادارہ جاتی نظم و ضبط کے تحفظ کے لیے ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
لائسنس میاں علی اشفاق.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: لائسنس میاں علی اشفاق میاں علی اشفاق انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
لاہور : پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا۔رانا سکندر حیات نے ستمبر کے پہلے ہفتے سے انگلش اور کیمسٹری سمیت دیگر مضامین کی تدریس کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ لاہور میں ستمبر کے پہلے ہفتے سے کلاس کو پڑھاناشروع کروں گا، انگلش اور کیمسٹری میرے پسندیدہ مضمون ہیں لہٰذا ان ہی مضامین سے شروع کروں گا۔وزیر تعلیم نے کہنا ہےکہ پرائمری اسکولوں میں انگلش اور ہائی اسکولوں میں کیمسٹری سے آغاز کروں گا جب کہ انگلش اور کیمسٹری کے علاؤہ دیگرمضامین کی بھی تدریس کروں گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہر ہفتے کسی ایک اسکول میں بغیر پیشگی اطلاع پڑھانے جاؤں گا، اساتذہ کی عزت کرتا ہوں، استاد بن کر فخر محسوس کروں گا۔ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے تعلیمی معیار کو جانچ کر تدریسی کمزوریاں دور کرنے میں مدد ملے گی۔