سلمان اکرم کا بیرسٹر گوہر کو چیئرمین تسلیم کرنے سے انکار
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260107-01-15
راولپنڈی(مانیٹرنگ ڈیسک)تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے بیرسٹر گوہر کو چیئرمین پی ٹی آئی تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔یہ بات انہوں نے اڈیالہ جیل کے قریب میڈیا سے بات چیت میں کہی۔ صحافی نے پوچھا کہ پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر کو عملی طور پر سائیڈ لائن کر دیا گیا ہے، کیوں؟ اور نیا چیئرمین کون ہوگا؟۔اس موقع پر سلمان اکرم راجا نے بیرسٹر گوہر کو پارٹی چیئرمین ماننے سے انکار کردیا اور جواب دیا کہ پارٹی چیئرمین صرف عمران خان ہیں اور کوئی نہیں، ہمارے ساتھ جو الیکشن کمیشن کا رویہ ہے وہ جبر کے ضابطے ہیں۔انہوں نے کہا کہ قرآن خوانی ہمارے دین کا حصہ ہے، گندا پانی پھینکا جانا شرم کی بات ہے، ہم جابر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کلمہ حق کہتے رہیں گے، ہم تلاوت بھی کریں گے اور آزادی کا نعرہ بھی لگائیں گے۔سلمان راجا نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے بغیر کوئی مکالمہ آگے نہیں بڑھ سکتا یہ نہیں ہوسکتا 2،4 ،5 لوگ بیٹھ جائیں اس کا نتیجہ صفر بٹا صفر ہوگا، ہم محاذ آرائی نہیں کررہے ہم اصول کی بات کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جو لوگ 27ویں اور 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف کھڑے ہیں تاریخ انکا ساتھ دے گی، مذاکرات کی یہ پیشکش ہے بانی کو کال کوٹھری میں رہنے دو آؤ ہمارے ساتھ چائے پیو، بانی سے ملاقات کرائیں وہ جو بات کرینگے وہی بات حتمی ہوگی۔ ہماری ایک ہی آواز ہے محمود خان اچکزئی بھی ہماری آواز کے ساتھ ہیں، بانی پی ٹی آئی کے بغیر کسی طرح کے مذاکرات کی کوئی اہمیت نہیں۔صحافی نے سوال کیا کہ علیمہ خان کے پاس کوئی پارٹی عہدہ نہیں پھر بھی تمام پارٹی رہنما انہیں جواب دہ سمجھتے ہیں یہ کیا وجہ ہے؟۔سلمان اکرم راجا نے کہا کہ کیا جواب دہ سمجھتے ہیں کس نے آپ کو کہا کہ جواب دہ ہیں؟ یہ سب بالکل غلط ہے۔صحافی نے پوچھا کہ علیمہ خان نے کہا مذاکرات نہیں ہونے تو نہیں ہونے، اس پر سلمان راجا نے کہا کہ یہ ان کا نہیں خان صاحب کا حکم ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بیرسٹر گوہر کو سلمان اکرم نے کہا کہ
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔