data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260107-01-26
اسلام آباد (نمائندہ جسارت) وزیراعظم نے کسانوں کی خوشحالی کو حکومت کی اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے زرعی برآمدات میں اضافے کا لائحہ بنانے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ ملکی زرعی برآمدات میں اضافے اور زرعی شعبے کو بین الاقوامی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے حوالے سے تشکیل کردہ نجی شعبے کے ماہرین پر مبنی ورکنگ گروپ کا اجلاس وزیراعظم شہباز شریف کی صدارت میں ہوا، جس میں انہوں نے کہا کہ زرعی شعبے کی اصلاحات اور کسانوں کو عالمی سطح پر رائج جدید اطوار سے متعارف کروانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ وفاقی حکومت زرعی شعبے میں اپنے دائرہ کار میں اصلاحات کے ساتھ ساتھ صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر زراعت کی ترقی کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کے لیے کسانوں کو معیاری بیج، مناسب قیمت پر بروقت کھاد اور فصلوں میں بیماریوں کی روک تھام کے لیے ادویات کی فراہمی کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زرعی اجناس کی پراسیسنگ کے ذریعے برآمدات کے قابل اشیا کی تیاری کے لیے پالیسی سطح پر اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ وزیرِ اعظم نے بتایا کہ حال ہی میں چین میں سرکاری خرچ پر ایک ہزار پاکستانی طلبہ و طالبات کو زراعت کی جدید ٹیکنالوجی کی تربیت کے لیے بھیجا گیا ہے۔ پاکستان میں زرعی شعبے کی ترقی کی بھرپور استعداد موجود ہے اور موجودہ وسائل میں رہتے ہوئے زراعت کی ترقی کے لیے تحقیق پر سرمایہ کاری کی جا رہی ہے تاکہ فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ ممکن بنایا جا سکے۔ شہباز شریف نے ماہی گیری، پھلوں اور ان سے تیار کردہ مصنوعات کی برآمدات میں اضافے کے لیے اقدامات اٹھانے، ساحلی پٹی پر پام آئل کی پیداوار کے لیے پالیسی اقدامات تشکیل دے کر پیش کرنے اور آئندہ 5 برس میں زرعی برآمدات بڑھانے کے حوالے سے جامع لائحہ عمل تشکیل دینے کی ہدایت بھی کی۔ اجلاس میں چیئرمین ورکنگ گروپ رانا نسیم اور ان کی ٹیم نے ملکی زرعی شعبے پر جامع رپورٹ پیش کی، جس میں شعبے کو درپیش مسائل اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف زرعی اصلاحات پر ورکنگ گروپ کے اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں

نمائندہ جسارت سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: برا مدات میں اضافے زرعی برا مدات کے لیے

پڑھیں:

پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع

توجہ دلاؤ نوٹس میں جے یو آئی کے سینیٹر نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے 15 روزہ نظام کے بجائے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔ توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت سے مجوزہ پالیسی پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ روزانہ قیمتوں کے تعین سے مہنگائی، ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ نوٹس کے متن کے مطابق مجوزہ نظام کے کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات سے بھی سینیٹ کو آگاہ کیا جائے۔

متعلقہ مضامین

  • سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ
  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف