آئین کی رو سے مفت و معیاری تعلیم فراہم کرنا ریاست کی ذمے داری ہے ،منعم ظفر
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(اسٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے کہا ہے کہ آئین پاکستان کی شق 25A کے تحت ریاست اس بات کی پابند ہے کہ وہ اپنے تمام شہریوں کو بلا امتیاز مفت اور معیاری تعلیم فراہم کرے، مگر بدقسمتی سے ریاست بالخصوص حکومت سندھ میں اپنی یہ آئینی ذمے داری پوری کرنے میں بری طرح ناکام نظر آتی ہے۔صوبہ سندھ میں 5 سے 16 سال کی عمر کے تقریباً 78 لاکھ بچے اسکول سے باہر ہیں، جو لمحہ فکر ہے۔ یہ اعداد و شمار اس بات کا ثبوت ہیں کہ سرکاری تعلیمی نظام نہ صرف ناکام ہو چکا ہے بلکہ حکمرانوں کی عدم توجہی اور ناقص پالیسیوں نے پورے تعلیمی ڈھانچے کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔منعم ظفر خان نے کہا کہ اس وقت صوبے میں پرائیویٹ تعلیمی ادارے 65 فیصد سے زائد تعلیمی بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں۔ یہ ادارے نہ صرف لاکھوں بچوں کو تعلیم فراہم کر رہے ہیں بلکہ حکومت کے برعکس مکمل طور پر اپنے مالی فرائض بھی ادا کر رہے ہیں۔ پرائیویٹ اسکول کرایہ ادا کرتے ہیں، مختلف ٹیکسز دیتے ہیں، بجلی، گیس اور پانی سمیت تمام یوٹیلیٹی بل ادا کرتے ہیں، اس کے باوجود انہیں آئے روز نت نئے ہتھکنڈوں سے ہراساں کیا جا رہا ہے۔انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اداروں کو براہ راست اینٹی کرپشن جیسے اداروں کے سامنے جواب دہ بنانا، چھاپے مارنا اور خوف و ہراس پھیلانا کسی صورت قابل قبول نہیں۔ تعلیمی اداروں کے سربراہان اور اساتذہ کے ساتھ مجرموں کی طرح سلوک کرنا دراصل تعلیم دشمن پالیسیوں کا تسلسل ہے۔امیر جماعت اسلامی کراچی نے مزید کہا کہ انتہائی تشویشناک بات یہ ہے کہ مفت تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کے والدین کو اسکولوں میں بلا کر ان کی وڈیوز اور تصاویر بنائی جا رہی ہیں، جو سراسر غیر اخلاقی اور غیر قانونی عمل ہے۔ اس طرزِ عمل سے ان والدین کی عزتِ نفس مجروح ہونے کا شدید خدشہ ہے اور معاشرے میں انہیں احساسِ کمتری کا شکار کیا جا رہا ہے، جو کسی بھی مہذب معاشرے میں ناقابل برداشت ہے۔منعم ظفر خان نے واضح کیا کہ اگر حکومت واقعی تعلیم کے فروغ میں سنجیدہ ہے تو اسے چاہیے کہ پہلے اپنے سرکاری اسکولوں کی حالت بہتر بنائے، اساتذہ کی کمی پوری کرے، انفرااسٹرکچر درست کرے اور اسکول سے باہر بچوں کو تعلیمی نظام میں لانے کے لیے عملی اقدامات کرے، نہ کہ پرائیویٹ اداروں اوروالدین کو تذلیل کا نشانہ بنایا جائے۔ امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے خلاف انتقامی کارروائیاں بند کرے، والدین کی عزتِ نفس کا تحفظ یقینی بنائے اور تعلیم کو سیاسی نعروں کے بجائے عملی ترجیح بنائے۔ جماعت اسلامی اس حوالے سے ہر فورم پر آواز بلند کرتی رہے گی اور شہریوں کے بنیادی حق ’’تعلیم‘‘ کے تحفظ کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی
پڑھیں:
پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن ) پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا۔
تفصیلات کے مطابق رانا سکندر حیات نے ستمبر کے پہلے ہفتے سے انگلش اور کیمسٹری سمیت دیگر مضامین کی تدریس کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ لاہور میں ستمبر کے پہلے ہفتے سے کلاس کو پڑھاناشروع کروں گا، انگلش اور کیمسٹری میرے پسندیدہ مضمون ہیں لہٰذا ان ہی مضامین سے شروع کروں گا۔
وزیر تعلیم نے کہنا ہےکہ پرائمری اسکولوں میں انگلش اور ہائی اسکولوں میں کیمسٹری سے آغاز کروں گا جب کہ انگلش اور کیمسٹری کے علاؤہ دیگرمضامین کی بھی تدریس کروں گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہر ہفتے کسی ایک اسکول میں بغیر پیشگی اطلاع پڑھانے جاؤں گا، اساتذہ کی عزت کرتا ہوں، استاد بن کر فخر محسوس کروں گا۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے تعلیمی معیار کو جانچ کر تدریسی کمزوریاں دور کرنے میں مدد ملے گی۔
مزید :