گرینڈ الائنس آف پرائویٹ اسکولز ایسوسی ایشنز سندھ کے رہنماؤں نے وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ کی یقین دہانی اور چئیرمین اینٹی کرپشن ذوالفقار علی شاہ سے اتفاق کرتے ہوئے احتجاج کو فوری طور پر ختم کرنے کا اعلان کیا۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ سے گرینڈ الائنس آف پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشنز کے وفد نے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران مسائل حل کرنے کی یقین دہانی پر نجی اسکولز ایسوسی ایشن نے 9 جنوری کی اعلان کردہ ہڑتال کے فیصلے کو واپس لینے کا اعلان کردیا۔ ملاقات کے موقع پر چیئرمین اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ ذوالفقار علی شاہ، سیکریٹری اسکول ایجوکیشن زاہد علی عباسی، ڈائریکٹر جنرل پرائیویٹ اسکولز محمد افضال، ایڈیشنل ڈائریکٹر رفیعہ ملاح اور دیگر افسران موجود تھے۔ وفد نے سندھ میں پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے طلباء کی فری شپ ڈیٹا کی تصدیق کے طریقہ کار پر تحفظات کا اظہار کیا۔ اینٹی کرپشن کے ذریعے تصدیق کے عمل پر گرینڈ الائنس آف پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشنز سندھ کے بہت سے خدشات اور تحفظات ہیں۔

صوبائی وزیر تعلیم نے کہا کہ گرینڈ الائینس آف پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشنز کے وفد کے خدشات کا احترام ہے۔ ڈیٹا ویریفکیشن کا مکینزم کا طریقہ طے نہ ہونے کی وجہ نجی اسکول انتظامیہ کو مسائل درپیش آئے۔ ملاقات میں اینٹی کرپشن کی تصدیق کے مربوط طریقہ کار پر اتفاق کیا گیا اسکولز اور والدین کے تمام خدشات کا مکمل خیال رکھا جائے گا تا کہ اسکول منتظمین کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ ہو۔ وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ نے کہا کہ پرائیویٹ اسکولز کے سندھ کی تعلیم میں مثبت کردار کو سراہتے ہیں۔ وزیر تعلیم سندھ نے وفد کے رہنماؤں کو یقین دلایا کہ وہ پرائیویٹ ایجوکیشن سیکٹر کے مسائل اور مشکلات کو حل کرنے کی پوری کوشش کریں گے۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اسکولز ایسوسی ایشنز پرائیویٹ اسکولز وزیر تعلیم سندھ اینٹی کرپشن علی شاہ

پڑھیں:

سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود

فائل فوٹو

سندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔

دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔

اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔

جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔

حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔

لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔

صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔

صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔

جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  • بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان