عالمی بینک کی سندھ فلڈ ایمرجنسی ری ہیبلیٹیشن منصوبے کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
ویب ڈیسک: سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ عالمی بینک کی جانب سے سندھ فلڈ ایمرجنسی ری ہیبلیٹیشن منصوبے کی کارکردگی کو تسلی بخش قرار دینا سندھ حکومت کی مؤثر منصوبہ بندی اور بہتر عملدرآمد کا واضح ثبوت ہے۔
اپنے بیان میں شرجیل انعام میمن نے بتایا کہ اس منصوبے کے تحت صوبے بھر میں اہم انفراسٹرکچر کی بحالی کی گئی، جس سے 7.
وہ غذائیں جو آپ کو صحت مند رکھتی ہیں
انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کو اپنی اولین ترجیح بنایا اور محدود وسائل کے باوجود شفافیت، تیز رفتار عملدرآمد اور مؤثر نگرانی کو یقینی بنایا گیا۔
شرجیل انعام میمن کے مطابق عالمی بینک کی جانب سے منصوبے کی پیش رفت کو تسلی بخش قرار دینا اس بات کی تصدیق ہے کہ حکومتِ سندھ درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ فلڈ ایمرجنسی ری ہیبلیٹیشن منصوبے کے باعث متاثرہ علاقوں میں بنیادی سہولیات کی بحالی ممکن ہوئی، جبکہ یہ منصوبہ صوبے میں معاشی اور سماجی استحکام میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
پاکستان کبڈی فیڈریشن کی ڈسپلنری کمیٹی نے عبیداللہ راجپوت کو طلب کرلیا
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے آیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔
انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔
بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔