data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)یونین نے IRA-2012 کے تحت حکومت پاکستان کو نجکاری کے خلاف، ملازمین کی بھرتیوں اور دیگر مسائل کے حوالے سے نوٹس بھجوادیا ہے جس میں 16جنوری 2026ء ڈیڈ لائن دی گئی ہے اگر مذکورہ تاریخ سے قبل حکومت نے یونین سے رابطہ نہ کیا تو یونین اپنا آئندہ لائحہ عمل پیش کرنے میں حق بجانب ہوگی۔ جن میں کمپیوٹر اور بلنگ کو بند کردیا جائیگا۔ کیونکہ ہم مسلسل احتجاج اور مطالبے کرتے چلے آرہے ہیں لیکن ہماری بات پر توجہ نہیں دی جارہی ہے ملازمین اس مسئلے پر سخت مضطرب اور عدم تحفظ کا شکار ہیں لہٰذا نجکاری کا خاتمہ کرکے قومی اداروں کی اصلاحات کرکے انہیں فعال اور ملک کی ترقی میں کردار ادا کرنے دیا جائے۔ نجکاری کے تسلسل میں (آج) ہم ایک بار پھر اس کے خلاف ملک گیر احتجاج کرنے جارہے ہیں لہٰذا 6جنوری 2026ء کو ملک بھر کے واپڈا اور اس کی دیگر کمپنیوں کے ملازمین جلسے، جلوس اور ریلیوں کا انعقاد کریں اور حکومت کو بتادیں کہ بجلی کمپنیوں کے ملازمین اپنے ادارے کی نجکاری کی ہر گز ہر گز اجازت نہیں دیں گے۔ ان خیالات کا اظہار آل پاکستان واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک ورکرز یونین (سی بی اے) کے مرکزی صدر عبداللطیف نظامانی نے لیبرہال میں حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے ایک بڑے یونین نمائندگان کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر یونین کے صوبائی جنرل سیکرٹری اقبال احمد خان، اعظم خان، محمد حنیف خان، نوراحمد نظامانی، الہ دین قائمخانی، ثروت جہاں کے علاوہ ریجنل، ژونل، ڈویژنل اور سب ڈویژنل نمائندگان بھی موجود تھے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے قائد مزدور عبداللطیف نظامانی نے مزید کہا کہ اس وقت ادارے میں 45%ملازمین کی جگہیں خالی ہیں اس کے باوجود ہمارے ملازمین 100%فیصد کام کرکے پروگریس کومسلسل بڑھارہے ہیں جس کی وجہ سے زیرولوڈشیڈنگ کو تصور پروان چڑھا رہا ہے لہٰذا ہمارا مطالبہ ہے کہ ہمارے ملازمین کو بھی پنجاب کی دیگر کمپنیوں کی طرح بونس دینے کے احکامات جاری کیے جائیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ آئوٹ سورس ملازمین کی بھرتیوں اور ٹھیکیداری نظام کے تحت بھرتیوں کو بند کرکے ریگولر بنیادوں پر عام اور واپڈا ملازمین کے بچوں کو بھرتی کیا جائے ہمارے ان ملازمین کو جو 16اسکیل میں خدمات انجام دے رہے ہیں انہیں قانون کے تحت 17اسکیل میں ترقی دی جائے ہم حیسکو انتظامیہ کے اس دہرے رویے کی مذمت کرتے ہیں جس میں انہوں نے افسران کی ترقیاں تو کردی لیکن ہمارے ملازمین کی ترقیاں اور اپ گریڈیشن،نجکاری کمیشن سے مشروط کردیں، انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے پہلے بھی 2012, ء2017ء میں نجکاری کا خاتمہ کرایا لیکن حکومت ایک بار پھر ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے ایما پر نجکاری کیلئے بضد ہے آج ان اداروں کی نجکاری سے آغاز کیا جارہا ہے ۔ اجلاس سے دیگر صوبائی وژونل نمائندگان نے بھی خطاب کیا۔

اسٹاف رپورٹر.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ملازمین کی

پڑھیں:

ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے

واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جولائی2026ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یورپی یونین جیسے گروپوں اور ممالک سمیت 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے ٹیرف نافذ کر دیئے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریئر نے بیان میں کہا ہےکہ نئی ڈیوٹیز امریکی تجارتی قانون 1974 کے سیکشن 301 کے تحت نافذ کی گئی ہیں اور ان کا اطلاق امریکی درآمدات کے تقریباً 99.4 فیصد حصے پر ہوگا، تاہم تیل و گیس، کھاد اور بعض غذائی اشیاء سمیت متعدد مصنوعات کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔

ان ممالک میں یورپی یونین،جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا، بھارت ، برطانیہ، میکسیکو اور دیگر شامل ہیں۔

(جاری ہے)

جیمی سن گریئر نے کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کرتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی ایسے ہی موثر اقدامات کریں۔

امریکا نے ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو ،سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ پر پہلے سے موجود درآمدی محصولات کو مدنظر رکھتے ہوئے مجموعی ٹیرف 10 یا 12.5 فیصد مقرر کیا گیا ہے جبکہ باقی 38 ممالک پر 12.5 فیصد شرح نافذ کی گئی ہے جن میں چین اور ویتنام بھی شامل ہیں۔

امریکا کے اس اقدام پر متعدد ممالک نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے احتجاج کیا۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کیلس نے کہا کہ یورپی بلاک اس اقدام کو ایک غیر متوقع دھچکا سمجھتا ہے اور امریکا کی جانب سے پیش کی گئی اس کی توجیہ ناقابلِ فہم ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • پٹرول کی قیمت میں 4 روپے اضافے پر شہری مایوس، فوری ریلیف کا مطالبہ
  • سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ
  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش