سرکاری اداروں کی نجکاری کا عمل جاری
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
سرکاری اداروں کی نجکاری کا عمل جاری ہے جب کہ نجکاری کے عمل میں فنانشل ایڈوائزر کی تقرری، جانچ پڑتال اور کھلی بولی شامل ہے۔
گیارہ میں سے نو بجلی تقسیم کار ادارے نجکاری پروگرام میں شامل ہیں، اسلام آباد، فیصل آباد، گوجرانوالہ، لاہور، ملتان، حیدرآباد، حیدرآباد الیکٹرک، پشاور اور سکھر کی تقسیم کار کمپنیاں شامل ہیں۔
کوئٹہ اور قبائلی علاقوں کی بجلی تقسیم کار کمپنیاں نجکاری فہرست میں شامل نہیں، تین تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کے لیے عالمی کنسورشیم بطور مالیاتی مشیر مقرر کیا گیا ہے۔
نجکاری سے قبل شرائط کی تکمیل اور جانچ پڑتال کا عمل جاری ہے، حیدرآباد اور سکھر کی تقسیم کار کمپنیوں کے لیے مالیاتی مشیر سے معاہدہ طے پا گیا۔
پاور ڈویژن بجلی کی پیداوار، ترسیل اور تقسیم کے امور کا ذمہ دار ادارہ ہے، بجلی کے نرخ نیپرا کے تعین کردہ ٹیرف کے مطابق وصول کیے جاتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: تقسیم کار
پڑھیں:
سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
پشاور: سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ کے حوالے سے خیبرپختونخوا حکومت نے اہم فیصلہ کرتے ہوئے صوبے کے پنشنرز کی نیٹ پنشن میں 7 فیصد اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ اس فیصلے کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا، جبکہ اس حوالے سے محکمہ خزانہ نے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔
جاری کردہ اعلامیے کے مطابق یہ اضافہ 30 جون 2026 تک وصول کی جانے والی نیٹ پنشن کی بنیاد پر دیا جائے گا۔ حکومت کے اس اقدام سے لاکھوں ریٹائرڈ سرکاری ملازمین اور ان کے اہل خانہ کو مہنگائی کے موجودہ دور میں مالی سہارا ملنے کی امید ہے۔
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ یکم جولائی 2026 یا اس کے بعد ریٹائر ہونے والے سرکاری ملازمین بھی اس 7 فیصد اضافے سے مستفید ہوں گے۔ اسی طرح فیملی پنشن حاصل کرنے والے افراد اور کمپیشنٹ الاؤنس لینے والے مستحقین پر بھی یہ اضافہ یکساں طور پر لاگو ہوگا۔
محکمہ خزانہ کے مطابق بیرون ملک مقیم وہ پنشنرز بھی، جو خیبرپختونخوا حکومت کی پنشن کے اہل ہیں، مقررہ قواعد و ضوابط کے تحت اس اضافے سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ یہ اضافہ پہلے سے دی جانے والی کسی بھی خصوصی اضافی پنشن پر لاگو نہیں ہوگا، بلکہ صرف بنیادی نیٹ پنشن کی بنیاد پر ادا کیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ کا یہ فیصلہ بڑھتی مہنگائی کے پیش نظر ریٹائرڈ ملازمین کے لیے اہم ریلیف ثابت ہوگا اور ان کے ماہانہ اخراجات پورے کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔