سرکاری اداروں کی نجکاری کا عمل جاری
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
سرکاری اداروں کی نجکاری کا عمل جاری ہے جب کہ نجکاری کے عمل میں فنانشل ایڈوائزر کی تقرری، جانچ پڑتال اور کھلی بولی شامل ہے۔
گیارہ میں سے نو بجلی تقسیم کار ادارے نجکاری پروگرام میں شامل ہیں، اسلام آباد، فیصل آباد، گوجرانوالہ، لاہور، ملتان، حیدرآباد، حیدرآباد الیکٹرک، پشاور اور سکھر کی تقسیم کار کمپنیاں شامل ہیں۔
کوئٹہ اور قبائلی علاقوں کی بجلی تقسیم کار کمپنیاں نجکاری فہرست میں شامل نہیں، تین تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کے لیے عالمی کنسورشیم بطور مالیاتی مشیر مقرر کیا گیا ہے۔
نجکاری سے قبل شرائط کی تکمیل اور جانچ پڑتال کا عمل جاری ہے، حیدرآباد اور سکھر کی تقسیم کار کمپنیوں کے لیے مالیاتی مشیر سے معاہدہ طے پا گیا۔
پاور ڈویژن بجلی کی پیداوار، ترسیل اور تقسیم کے امور کا ذمہ دار ادارہ ہے، بجلی کے نرخ نیپرا کے تعین کردہ ٹیرف کے مطابق وصول کیے جاتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: تقسیم کار
پڑھیں:
ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
اسلام آباد: ملک میں ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان ہے۔بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے. جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے .تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔