عالمی بینک کا سندھ فلڈ منصوبے پر اطمینان سندھ حکومت کی کارکردگی کا ثبوت ہے، شرجیل میمن
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
کراچی:
سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ عالمی بینک کی جانب سے سندھ فلڈ ایمرجنسی ریہیبلیٹیشن منصوبے کی کارکردگی کو تسلی بخش قرار دینا سندھ حکومت کی مؤثر منصوبہ بندی ثبوت ہے۔
اپنے بیان میں شرجیل میمن نے کہا کہ منصوبے کے تحت صوبے بھر میں اہم انفراسٹرکچر کی بحالی کے ذریعے 7.2 ملین سے زائد افراد مستفید ہوئے، بحالی منصوبے سے مسفید ہونے والے افراد میں 3.
انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے سیلاب متاثرین کی بحالی کو اولین ترجیح دی، محدود وسائل کے باوجود شفافیت، رفتار اور مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنایا، عالمی بینک کی جانب سے پیش رفت کو تسلی بخش قرار دینا تصدیق ہے کہ حکومت سندھ درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ حکومت سندھ کا منصوبہ متاثرہ علاقوں میں بنیادی سہولیات کی بحالی کا باعث بنا ہے، فلڈ ایمرجنسی ریہیبلیٹیشن منصوبہ معاشی اور سماجی استحکام میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نے کہا
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :