ریلوے کی ڈیجیٹائزیشن، نئے ٹریکس اور ایک کھرب روپے آمدن کا ہدف :حنیف عباسی
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
اسلام آباد (اپنے سٹاف رپورٹر سے) وزیر برائے ریلوے محمد حنیف عباسی نے کہا ہے کہ وزیراعظم پاکستان کی ہدایت پر پاکستان ریلوے کی 78 سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ تمام شعبوں میں بیک وقت ترقی کا عمل جاری ہے۔ پاکستان ریلوے کی مکمل ڈیجیٹائزیشن، آؤٹ سورسنگ، نئے ٹریکس کی تعمیر اور مسافر سہولیات کی بہتری پر عملی کام شروع کر دیا گیا ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بنک نے کراچی سے روہڑی کے درمیان 480 کلومیٹر نئے ریلوے ٹریک کی تعمیر کے لیے 2 ارب ڈالر کے قرض کی منظوری دے دی ہے۔ جس سے سفر کے دورانیے میں کم از کم 5 گھنٹے کی کمی آئے گی۔ کراچی–روہڑی منصوبے کی گراؤنڈ بریکنگ جولائی 2026ء میں متوقع ہے جبکہ اس منصوبے کو ڈھائی سے تین سال میں مکمل کیا جائے گا۔ حنیف عباسی نے بتایا کہ ریکوڈک منصوبے کے تحت روہڑی سے نوکنڈی تک 900 کلومیٹر ریلوے ٹریک پر کام کیا جا رہا ہے۔ سندھ اور پنجاب کے ساتھ ساتھ خیبر پی کے کو بھی نئے ریلوے منصوبوں میں شامل کیا جا رہا ہے۔ پہلی مرتبہ صوبوں کو برانچ لائنز آپریٹ کرنے کی پیشکش کی گئی ہے، جس پر پنجاب، سندھ اور بلوچستان نے فنڈز مختص کر دئیے ہیں جبکہ خیبر پی کے حکومت سے مشاورت جاری ہے۔ پاکستان ریلوے نے جون 2026ء تک ایک کھرب روپے آمدن حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے اور وزیراعظم کی قیادت میں ریلوے کو ایک جدید، محفوظ اور منافع بخش ادارہ بنایا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
چیک ریپبلک کے مشرقی حصے میں ایک فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوگیا جس کے نتیجے میں ایک فوجی ہلاک جبکہ تین دیگر زخمی ہو گئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چیک وزارتِ دفاع اور فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حادثہ بدھ کے روز نامیشت ناد اوسلاوو ایئر فورس بیس پر پیش آیا جو دارالحکومت پراگ سے تقریباً 180 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے۔
حادثے کا شکار ہونے والا ہیلی کاپٹر UH-1Y Venom تھا، جس میں مجموعی طور پر 5 فوجی اہلکار سوار تھے۔ حادثے میں ایک اہلکار موقع پر ہی جان کی بازی ہار گیا جبکہ تین زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہیلی کاپٹر معمول کی فوجی تربیتی سرگرمی کے سلسلے میں پرواز کر رہا تھا، تاہم حکام نے ابھی تک اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے فوج نے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دیدی ہیں۔
چیک حکام کا کہنا ہے کہ اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں، آیا حادثہ تکنیکی خرابی، موسمی حالات یا انسانی غلطی کے باعث پیش آیا۔ تحقیقات کے نتائج سے میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا۔