Jasarat News:
2026-07-24@07:47:02 GMT

پاکستان میں سگ گزیدگی کی ویکسین کی کمی!

اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

 

گزشتہ دنوں پشاور کی ضلعی انتظامیہ نے شہر میں سگ گزیدگی کے کیسز اور آوراہ کتوں کی تعداد کے پیش نظر خصوصی آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے بلکہ سارے شہروں میں آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ریبیز سے ہر سال تقریباً 55 ہزار لوگ مر جاتے ہیں۔ کتا اگر آپ کو کاٹتا ہے تو اس سوچ بچار میں وقت ضائع مت کیجیے کہ وہ پاگل تھا یا گھریلو تھا، پہلی فرصت میں قریبی سرکاری اسپتال جائیے۔ وہاں ایمرجنسی والے اس صورت حال کو پرائیویٹ ڈاکٹروں سے سو گنا زیادہ بہتر طریقے سے جانتے ہیں، آپ روزانہ ایسے مریض دیکھتے ہیں۔ جو مرچیں لگانا، سکہ باندھنا، تعویز بندھوانا، یہ سب تُکے لگانے جیسا ہے۔ اگر کتا پاگل نہیں تھا تو یہ سب ٹوٹکے کام کریں گے، اگر پاگل تھا تو موت یقینی ہے! اگر اسپتال دور ہے تو صابن اور بہتے پانی سے دس پندرہ منٹ تک اچھی طرح زخم کو دھوئیے اس کے بعد پٹی مت باندھیں۔ اسے کھلا رہنے دیجیے اور اسپتال چلے جائیے۔ اب چودہ ٹیکوں کا زمانہ گزر گیا۔ ایک مہینے میں پانچ ٹیکوں (شیڈول: 0-3-7-14-28) کا کورس ہو گا، بہت سی کمپنیوں کی بنائی سیل کلچرڈ ویکسین مارکیٹ سے مل سکتی ہیں۔ جو چیز یاد رکھنے کی ہے وہ یہ کہ کسی اچھی فارمیسی سے ویکسین خریدی جائے کیوں کہ اس کا اثر تب ہی بہتر ہو گا جب یہ مسلسل کولڈ چین میں رہے گی۔ کوئی بھی ویکسین (سوائے پولیو اورل کے) بننے سے لے کر دوکان پر آنے تک دو سے آٹھ ڈگری کا ٹمپریچر مانگتی ہے، جب بھی یہ سلسلہ ٹوٹے گا، اس کا اثر ویکسین کی کوالٹی پر ہو گا۔

ویکسین کے ساتھ ساتھ ریبیز امیونوگلوبیولین RIG لگوانے بھی اکثر ضروری ہوتے ہیں۔ اگر کتا آپ کا اپنا پالتو نہیں ہے تو کوئی رسک لینے سے بہتر ہے کہ ریبیز امیونوگلوبیولین RIG ضرور لگوائیں۔ اسی طرح کتا جتنا سر کے قریب کاٹے گا، وائرس اتنی تیزی سے دماغ تک جانے کا خطرہ ہوتا ہے۔ پاؤں پر یا ٹانگ پر کاٹا ہے تب بھی جلدی اسپتال جانا ضروری ہے لیکن کندھے یا گردن والے معاملے میں بے احتیاطی ہرگز نہیں ہونی چاہیے، فوری طور پر اسپتال کا رخ کرنا اور ویکسین کے ساتھ ساتھ ریبیز امیونوگلوبیولین RIG (یہ بھی کئی کمپنیوں کے موجود ہیں) لگوانا بہتر ہے۔ کتے کا پنجہ لگے، کوئی خراش ہو جائے، یا آپ کے کسی زخمی حصے کو کتا چاٹ جائے، ریبیز کا ٹیکہ لگوا لیجیے، احتیاط لازم ہے۔ ریبیزکی بیماری کی علامت دو طرح سے ہوتی ہیں جن میں سے ایک کو Furious اور دوسرے کو Dumb کہتے ہیں۔ Furious حالت میں کتے کے کاٹنے کے بعد دماغ میں ہونے والی سوزش کے باعث ڈپریشن اور بے چینی کی سی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے اور یہ علامت کتے کے کاٹنے کے دو سے چار دنوں میں ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہے جس میں پہلے مرحلے میں متاثرہ شخص کو کتے کے کاٹنے سے موجود زخم میں شدید چبھن، خارش اور درد محسوس ہونے لگتا ہے اور مریض کو بے حد بے چینی، سردرد، تھکاوٹ اور بخار بھی ہو جاتا ہے اور جب یہ Lyssa Virus مریض کے دماغ تک پہنچ تک جاتا ہے تو اس پر شدید ہیجانی دورے پڑنا شروع ہوجاتے ہیں۔ دیوانگی اور اعصابی تشنج کے ساتھ ساتھ متاثرہ شخص کو پانی سے خوف اور ہوا سے خوف کی شکایت بھی ہو جاتی ہے، وہ بند کمرے میں کونے میں چھپ کر بیٹھے رہنے کو زیادہ ترجیح دیتا ہے۔ بعض حالتوں میں روشنی سے بھی خوف زدہ ہو جاتا ہے۔ مریض کو سانس لینے میں رکاوٹ اور مشکل پیش آتی ہے اور اس کی آنکھوںکی پتلی ٹھیر سی جاتی ہے۔ یہ سب علامتیں ظاہر ہو جانے کے بعد مریض کے بچنے کے امکانات بے حد کم رہ جاتے ہیں۔ جبکہ دوسری قسم یعنی Dumb حالت میں متاثرہ شخص کے اعضاء کے پٹھوں کی کمزوری اور فالج جیسے علامات یا کیفیات پیدا ہونا شروع ہو جاتی ہیں اور مریض بالکل بے سدھ سا ہو جاتا ہے۔ غشی اور نیم بے ہوشی کی سی کیفیت طاری ہونے لگتی ہے اور پھر کچھ ہی عرصے میں مریض کی موت واقع ہو جاتی ہے۔

کتے کے کاٹنے پر لگائی جانے والی (اینٹی ریبیز) ویکسین کی ملک بھر میںکمی دیکھنے میں آرہی ہے۔ قومی اداری صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں ویکسین کی ڈیمانڈ دس لاکھ ہے۔ این آئی ایچ میں سالانہ دو لاکھ ویکسین تیار کی جا رہی ہے۔ خیال رہے کہ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سالانہ 5 ہزار اموات کتے کے کاٹنے سے ہوتی ہیں۔ واضح رہے کہ ہم اینٹی ریبیز ویکسین بھارت سے منگواتے تھے اب ایک تو بھارت کے ساتھ تعلقات کچھ ٹھیک نہیں ہیں اور دوسرے اب بھارت میں بھی سگ گزیدگی کے واقعات میں تشویش ناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے لہٰذا انہوں نے اینٹی ریبیز ویکسین کی فروخت روک دی ہے کیونکہ جتنی ویکسین وہاں تیار ہوتی ہے اس کی بھارت میں ہی کھپت ہو جاتی ہے۔ اگر ہماری ضرورت پوری نہیں ہوتی تو یہ ویکسین سنگاپور، جرمنی اور دیگر یورپی ممالک میں بھی تیار کی جاتی ہے جہاں سے اس کی خریداری کافی زیادہ مہنگی پڑتی ہے لیکن مہنگی کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائیں اور اپنے عوام کو دوا کے بغیر تڑپ تڑپ کر مرنے دیں، اوّل تو ہمیں یہ ویکسین خود تیاری کرنی چاہیے لیکن اگر ایسا نہیں کیا گیا تو پھر ہمیں بیرون ملک سے ویکسین ضرورت کے مطابق خریداری کرنی چاہیے تھی خواہ کتنی بھی رقم خرچ ہو۔ اب بھی صحت کے حوالے سے مختص کیا ہوا بجٹ پورا خرچ نہیں ہوتا بلکہ اس میں سے کافی حصہ بچ جاتا ہے اگر اس کو بچانے کے بجائے ہم اینٹی ریبیز کی خریداری پر خرچ کریں تو کم از کم عوام کی جان تو بچائی جا سکتی ہے۔

علاوہ ازیں اگر اینٹی ریبیز ویکسین کی کمی تھی تو ہمارا محکمہ صحت اس کمی کو دیکھتے ہوئے کتوں کو ایسے انجکشن لگاتا جس سے ان کے اندر ان زہریلے مادوں کو ختم کیا جاتا جو سگ گزیدہ انسان کی موت کا سبب بنتے ہیں نیز کتوں کی نس مارنے کے انجکشن بھی لگائے جانے چاہئیں جو آوارہ کتوں کی تعداد میں اضافہ کو روکنے کا باعث بنتے، لیکن ہمارا محکمہ صحت کسی تدبیر یا منصوبے کے تحت نہیں چل رہا، اس ضمن میں حکومت کو خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ اس وقت کراچی میں سگ گزیدگی کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوگیا ہے۔ کراچی میں جون اور جولائی کے دوران سگ گزیدگی کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھا گیا ہے، ڈاکٹرز کے مطابق اس عرصے میں سول اسپتال میں سگ گزیدگی کے 2 ہزار 29 کیس رپورٹ ہوئے ہیں، جناح اسپتال میں ایک ہزار 392 مریض لائے گئے۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ کتے کے کاٹنے کے 24 گھنٹے کے اندر ویکسین لگوانا ضروری ہے جبکہ سول اسپتال ڈاکٹر رومانہ کے مطابق زیادہ تر کیسز کا تعلق بلدیہ ٹاؤن، سرجانی اور نارتھ کراچی سے ہے۔ سول اسپتال میں یومیہ 60 سے 70 کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں، جناح اسپتال میں یومیہ 20 سے 30 افراد کو لایا جا رہا ہے۔ لاہور میں سگ گزیدگی کے بڑھتے واقعات کا عدالت نے نوٹس لے لیا ہے۔ لاہور ہائیکورٹ نے آوارہ کتوں کے شہریوں کو کاٹنے کے بڑھتے واقعات پر متعلقہ محکموں سے رپورٹیں طلب کر لی ہیں۔ آوارہ کتوں سے متاثرہ افراد کے علاج معالجہ کے لیے ویکسین فراہم نہ کرنے کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران ایڈیشنل میڈیکل سپرنٹنڈنٹ میو اسپتال کی جانب سے رپورٹ جمع کروا دی گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ میو اسپتال میں 14 ماہ کے دوران کتوں کے کاٹنے سے متاثر ہونے والے مریضوں میں اضافہ ہوا ہے، میو اسپتال میں 24 ستمبر 2024 سے اب تک 1796 مریض لائے گئے۔ شہر کے کئی علاقوں میں بچے اس خطرے کی وجہ سے گھروں سے باہر نہیں نکل سکتے۔

 

ضیا الحق سرحدی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: میں سگ گزیدگی کے گیا ہے

پڑھیں:

گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟

گوگل نے صارفین کی آن لائن سیکیورٹی مزید مضبوط بنانے کے لیے سیلفی ویڈیو پر مبنی نئی بایومیٹرک شناختی سہولت متعارف کرا دی ہے جس کے ذریعے اہل صارفین پاس ورڈ یا ریکوری ڈیوائس دستیاب نہ ہونے کی صورت میں اپنے اکاؤنٹس تک دوبارہ رسائی حاصل کر سکیں گے۔

کمپنی کے مطابق نیا فیچر بنیادی طور پر اکاؤنٹ ریکوری کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ صارفین ابتدائی مرحلے میں اسکرین پر دی گئی ہدایات کے مطابق ایک مختصر سیلفی ویڈیو ریکارڈ کریں گے جس میں مختلف زاویوں سے چہرہ دکھانا ہوگا تاکہ شناخت محفوظ کی جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں: گوگل پلے کی نئی پالیسی، متبادل ایپ مارکیٹس کو راستہ مل گیا

اگر بعد میں صارف اپنا پاس ورڈ بھول جائے، فون گم ہو جائے یا ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن استعمال نہ کر سکے تو وہ نئی سیلفی ویڈیو ریکارڈ کر کے اپنی شناخت کی تصدیق کرا سکے گا۔

گوگل کا سیکیورٹی سسٹم نئی ویڈیو کا پہلے سے محفوظ ویڈیو سے موازنہ کرے گا اور جدید لائیونیس چیک اور اینٹی اسپوفنگ ٹیکنالوجی کی مدد سے اس بات کی تصدیق کرے گا کہ سامنے حقیقی شخص موجود ہے، نہ کہ تصویر، ریکارڈ شدہ ویڈیو یا مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کردہ ڈیپ فیک۔

یہ بھی پڑھیں: راستوں کی تلاش کے بعد گوگل میپس میں کھانا منگوانے کا فیچر متعارف کرائے جانے کی تیاریاں

گوگل کا کہنا ہے کہ یہ سہولت روزمرہ لاگ اِن کے لیے نہیں بلکہ صرف اکاؤنٹ ریکوری کے دوران استعمال کی جائے گی۔ کمپنی اس سے قبل پاس کیز (Passkeys)، سیکیورٹی کیز اور ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن جیسے متبادل طریقے بھی متعارف کرا چکی ہے تاکہ روایتی پاس ورڈز پر انحصار کم کیا جا سکے۔

پرائیویسی سے متعلق خدشات کے جواب میں گوگل نے کہا ہے کہ صارفین کی سیلفی ویڈیوز مکمل طور پر انکرپٹڈ انداز میں محفوظ کی جائیں گی، ان پر صارف کا مکمل اختیار ہوگا اور وہ کسی بھی وقت انہیں حذف کر سکیں گے۔ کمپنی کے مطابق یہ ویڈیوز صرف شناخت کی تصدیق کے لیے استعمال ہوں گی جب تک کہ صارف کسی اضافی استعمال کی اجازت نہ دے۔

یہ بھی پڑھیں: گوگل میپ کی ایک غلطی اور تاجر علی جمیل کے سفرِ آخرت کی کہانی

ماہرین کے مطابق گوگل کا یہ اقدام ٹیکنالوجی کی دنیا میں پاس ورڈ کے بغیر محفوظ لاگ اِن سسٹمز کی جانب بڑھتے ہوئے رجحان کا حصہ ہے۔ اس سے قبل ایپل، مائیکروسافٹ سمیت متعدد بینک، ایئرلائنز اور سرکاری ادارے بھی بایومیٹرک شناختی نظام اپنا چکے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

گوگل گوگل پاسپورڈ

متعلقہ مضامین

  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • پشاور: حیات میڈیکل کمپلیکس میں ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال دوسرے روز بھی جاری، مریض مشکلات سے دوچار
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق