ایم کیو ایم پاکستان کی کراچی بچاؤ مہم
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی کی ناقص صورت حال اور عوامی مسائل پر متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے ’’کراچی بچائو مہم‘‘ کا اعلان کیا ہے، ایم کیو ایم کے مرکز بہادر آباد میں متحدہ کے سینئر مرکزی رہنما ڈاکٹر فاروق ستار کا پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ملکی بقاء اور سلامتی کراچی سے وابستہ ہے، اگر پاکستان کو بچانا ہے تو پہلے کراچی کو بچانا ہوگا اور اس شہر کو وہی فعال کردار دینا ہوگا جو ماضی میں اس کی پہچان تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی کے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک کے باوجود یہ شہر 65 فی صد سے زائد وفاقی محصولات اور 95 فی صد صوبائی ریونیو میں حصہ ڈالتا ہے جبکہ ملکی ایکسپورٹس کا 50 فی صد یہ شہر دے رہا ہے، لہٰذا شہر کے بنیادی حقوق کے لیے آج سے ہم باقاعدہ طور پر ’’کراچی بچائو مہم‘‘ کا آغاز کر رہے ہیں۔ متحدہ کے رہنما نے کراچی کے حوالے سے جو صورتحال پیش کی ہے یقینا اس سے اختلاف ممکن نہیں تاہم اس امر کی حقیقت سے بھی کسی طور انکار ممکن نہیں کہ آج کراچی جس ناگفتہ بہ صورتحال سے دوچار ہے اس کی مکمل ذمے داری خود ایم کیو ایم ہی پر عاید ہوتی ہے۔ ایم کیو ایم 1988 سے اب تک مختلف حکومتوں میں شریک ِ اقتدار رہی ہے، اس نے ہر دورِ حکومت میں وزارتیں لیں، یہ کراچی کی میئر شپ پر فائز رہی، طویل عرصے تک گورنری کا عہدہ ان کے پاس رہا۔ سندھ میں بلدیات کی وزارت کا قلمدان بھی انہی کے ہاتھوں رہا مگر اس کے باوجود انہیں اپنے دورِ اقتدار میں کبھی بھی کراچی کی تعمیر و ترقی کا خیال نہیں آیا۔ کراچی جو ملک کی اقتصادی شہ رگ اور روشنیوں کا شہر تھا یہاں مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد باہم شیر و شکر ہو کر رہتے تھے، اس شہر کی شناخت ہی تعلیم، تہذیب، شائستگی اور باہمی رواداری تھی مگر ایم کیو ایم نے اپنے قیام کے اوّل روز ہی سے تعصب کو ہوا دی، لسانی منافرت کی آگ بھڑکائی، مہاجروں کو پشتونوں، بلوچوں، سندھیوں اور دیگر قومیتوں سے لڑایا، تعلیمی اداروں میں قتل و غارت گری اور سیاست میں تشدد کا چل عام کیا۔ سیاسی مخالفوں کو اغوا کرنا، ان پر بدترین تشدد کر کے انہیں موت کے گھاٹ اُتارنا ایم کیو ایم کی سیاست کا جزلاینفک رہا۔ ماضی میں جب اس طرح کے الزامات عاید کیے جاتے تھے تو ان الزامات کی سختی سے تردید کی جاتی تھی مگر پچھلے دنوں مصطفی کمال کے جانب سے الطاف حسین کے حوالے سے کیے جانے والے انکشافات نے ان الزامات کی تائید کردی ہے۔ مصطفی کمال نے واضح لفظوں میں کہا کہ ڈاکٹر عمران فاروق کو الطاف حسین نے قتل کرویا تھا اور یہ کہ الطاف حسین 25 سال تک بھارتی خفیہ ایجنسی را سے پیسے لیتے رہے۔ یہ گھر کی وہ گواہی ہے جس سے خود ایم کیو ایم کے رہنما بھی انکار نہیں کرسکتے۔ اس صورتحال میں فاروق ستار کا یہ کہنا کہ اگر پاکستان کو بچانا ہے تو پہلے کراچی کو بچانا ہوگا اور اس شہر کو وہی فعال کردار دینا ہوگا، انتہائی مضحکہ خیز محسوس ہوتا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تو کہ شہر میں ہزاروں بے گناہوں کے بلاجواز قتل، شہر کے امن وامان و انفرا اسٹرکچر کی تباہی اور بوری بند لاشوں کی سیاست پر وہ قوم بالخصوص کراچی کے عوام سے وہ معافی مانگتے اور اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے، اس کے علیٰ الرغم وہ جس معصومیت سے پریس کانفرنس میں کراچی کا نوحہ پڑھ رہے ہیں وہ عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے، متحدہ کے رہنماؤں کو سمجھنا چاہیے کہ کراچی کے عوام کا حافظہ اتنا کمزور نہیں کہ وہ ایم کیو ایم کے ماضی و حال کے کردار کو فراموش کردیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایم کیو ایم کو بچانا کراچی کے ایم کی
پڑھیں:
کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) کراچی میں یکم جون سے شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر فیس لیس چالان کے آغاز ہوگیا اور پہلے روز 11 گیٹیگریز کی سواریوں کے فیس لیس چالان ہوئے۔
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق لین کی خلاف ورزی پر پہلے دن مجموعی طور پر 96 چالان ہوئے۔
بڑی بس 2، کوسٹر 2، ڈبل کیبن 1 اور گاڑی کے 9 چالان کیے گئے جبکہ منی بس 6، منی ٹرک 3 اور سوزوکی پک اپ کے 21 چالان ہوئے۔
اسی طرح موٹر سائیکل پر 43، ٹرک 3، وین 4 اور واٹر ٹینکر پر 2 چالان ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق تمام چالان اپنی لین سے ہٹ کر دوسری لین میں چلانے پر ہوئے، فرسٹ لین میں آہستہ چلانے پر بھی فیس لیس چالان کیا گیا۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
مزید :