سپر ٹیکس کیس: ایف بی آر کو جواب جمع کرانے کیلئے آج تک مہلت
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
اسلام آباد (خصوصی رپورٹر) وفاقی آئینی عدالت میں سپر ٹیکس سے متعلق کیسز کی سماعت میں عدالت نے ایف بی آر کو تحریری جواب جمع کرانے کے لیے آج تک کی مہلت دے دی۔ وفاقی آئینی عدالت میں سپر ٹیکس سے متعلق کیسز کی سماعت چیف جسٹس امین الدین کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ وہ ایف بی آر کے تحریری جواب کا مطالعہ کر کے اپنے تحریری دلائل دیں گے۔ چیف جسٹس امین الدین نے ریمارکس دیے کہ پہلے جو وقت لگایا گیا اسے ضائع سمجھا جائے، مخدوم علی خان نے کہا اس کی ذمہ داری سرکار پر بنتی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا الزام کسی پر نہیں لگانا چاہیے۔ جسٹس ارشد حسین شاہ نے مخدوم علی خان سے مکالمہ کیا کہ آپ کو تو ساری ججمنٹ زبانی یاد ہونی چاہیے، جس پر مخدوم علی خان نے کہا یہ بات وکیل کے بارے میں نہیں بلکہ جج کے بارے میں ہے۔ چیف جسٹس امین الدین نے کہا ہمارا پروفیشن اب پروفیشن نہیں رہا، اس جگہ جو بھی آتا ہے بار سے ہی آتا ہے۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے حافظ احسان کھوکھر سے استفسار کیا کہ آپ نے عاصمہ حامد کے دلائل اڈاپٹ کر لیے تھے اور اب نئی باتیں کیسے کر رہے ہیں، جس پر انہوں نے کہا کہ وہ انہی دلائل کی روشنی میں ایک دو نکات پر عدالت کی معاونت کرنا چاہتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔