اسلام آباد کو شنگھائی جیسا ترقی یافتہ بنائیں گے: محسن نقوی
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
اسلام آباد (اپنے سٹاف رپورٹر سے) وفاقی وزیرداخلہ و نارکوٹکس کنٹرول محسن نقوی نے شنگھائی کے شہری منصوبہ بندی کے ہیڈ کوارٹر کا دورہ کیا۔ شنگھائی اربن پلاننگ کی ہیڈ میڈم چن نے وزیر داخلہ محسن نقوی کا استقبال کیا۔محسن نقوی کو شنگھائی شہر کی ماسٹر پلاننگ، ڈویلپمنٹ سہولتوں اور شہری سہولیات کے ساتھ ترقی کے تیز رفتار نظام کے بارے بریف کیا گیا۔ وزیر داخلہ محسن نقوی کو وڈیوز اور ماڈلز کے ذریعے شنگھائی کے ترقی کے سفر اور ماسٹر پلان کے بارے آگاہ کیا گیا۔ انہوں نے شنگھائی کے جدید سہولتوں سے آراستہ سٹیڈیم کا ماڈل بھی دیکھا۔ محسن نقوی نے شنگھائی اربن پلاننگ کے تحت تمام معلومات کو جدید طرز پر یکجا کرنے کے نظام میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی نظام کی تعریف کی۔ انہوں نے شنگھائی اربن پلاننگ کے تحت شہر کے نظام کو مربوط اور فول پروف بنانے کے اقدام کو سراہا۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ شنگھائی شہر تیز ترین ترقی میں اپنی مثال آپ ہے۔ شنگھائی کی ترقی ہر شہر کے لئے قابل تقلید ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کو بھی شنگھائی کی طرز پر ڈویلپ کرنا چاہتے ہیں، شنگھائی کی تیز رفتار ترقی سے استفادہ کرنے کے لئے فوری اقدامات کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: نے شنگھائی محسن نقوی
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔