ماتلی،بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے دفتر میں انتظامی کارروائی
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ماتلی(جسارت نیوز)بینظیر انکم سپورٹ پروگرام آفس میں انتظامی کارروائی، بے ضابطگیوں پر سخت مؤقف۔ماتلی میں اسسٹنٹ کمشنر ثوبان احمد رانجھا کی جانب سے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام آفس میں ایک انتظامی کارروائی عمل میں لائی گئی۔ کارروائی کے دوران وائلٹ سسٹم سے منسلک ایک ایجنٹ کے خلاف ضابطہ کی خلاف ورزی پر قدم اٹھایا گیا اور اسے حراست/سوڈر میں لیا گیا۔اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر نے مستحق خواتین سے موصول ہونے والی شکایات کا جائزہ لیا اور متعلقہ امور کی جانچ پڑتال کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ سرکاری امدادی اسکیموں کے عملدرآمد میں کسی بھی قسم کی بے ضابطگی، ناجائز وصولی، کٹوتی یا خلافِ قانون سرگرمی کو سنجیدہ خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔انہوں نے متعلقہ عملے کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ امدادی رقوم کی تقسیم کے عمل کو شفاف اور قواعد کے مطابق بنایا جائے، اور مستقبل میں کسی بھی شکایت یا کوتاہی کی صورت میں مزید سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اسسٹنٹ کمشنر نے یہ بھی عندیہ دیا کہ ایسے عناصر کیخلاف مسلسل نگرانی اور بلا امتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔انتظامیہ کے مطابق اس اقدام کا مقصد سرکاری امدادی نظام میں نظم و ضبط قائم رکھنا اور مستحقین تک امداد کی بروقت اور درست ترسیل کو یقینی بنانا ہے۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ آئندہ کسی بھی سطح پر غفلت یا بدعنوانی برداشت نہیں کی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔