پشاور پولیس کی کارروائی، شہریوں کو اسلحہ کی نوک پر لوٹنے والا منظم گینگ گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
گرفتار ملزمان نے دورانِ تفتیش حساس اداروں کے اہلکار بن کر علاج معالجے کی غرض سے آنے والے ہمسایہ ملک افغانستان کے شہریوں سے لوٹ مار کی وارداتوں میں ملوث ہونے کا اعتراف کر لیا ہے، جبکہ مزید اہم انکشافات کی توقع کی جا رہی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور پولیس کی کامیاب کارروائی، خود کو حساس اداروں کے سرکاری اہلکار ظاہر کرکے علاج معالجے کی غرض سے ہسپتال آنے والے افغان شہریوں اور خواتین کو اسلحہ کی نوک پر لوٹنے والا منظم گینگ گرفتار کرلیا گیا، 19 لاکھ روپے سے زائد ملکی و غیر ملکی کرنسی برآمد ہوئی۔ پولیس نے جدید ٹیکنیکل بنیادوں اور سائنسی خطوط پر تفتیش کے دوران ایک منظم گینگ کا سراغ لگا کر اسے گرفتار کر لیا، جو خود کو حساس ادارے کے اہلکار ظاہر کر کے اسلحہ کی نوک پر علاج معالجے کی غرض سے آنے والے افغان شہریوں سمیت دیگر سادہ لوح شہریوں کو لوٹنے میں ملوث تھا۔ گرفتار ملزمان میں عبد الخلیل ولد جمعہ خان سکنہ ابشار کالونی، شمس الرحمان ولد امین سکنہ تہکال پایان اور فاروق ولد محمد خان سکنہ لکی مروت حال واپڈا ٹاؤن شامل ہیں۔ ملزمان حیات آباد کے پوش علاقوں میں سادہ لوح شہریوں کو ٹارگٹ کر کے انہیں گاڑی میں بٹھاتے اور حساس اداروں کی آڑ میں لوٹ مار کرتے تھے۔
واقعات کے حوالے سے افغان شہری محمد صلح اور تواب الرحمان نے تھانہ حیات آباد میں علیحدہ علیحدہ رپورٹس درج کرائی تھیں، جن پر باقاعدہ مقدمات درج کر کے تفتیش شروع کی گئی۔ کارروائی کے دوران گرفتار ملزمان کے قبضے سے مجموعی طور پر 19 لاکھ سے زائد روپے برآمد کیے گئے، جن میں 500 امریکی ڈالر، 1300 درہم، 28 ہزار افغانی کرنسی اور 16 لاکھ 10 ہزار پاکستانی روپے شامل ہیں۔ گرفتار ملزمان نے دورانِ تفتیش حساس اداروں کے اہلکار بن کر علاج معالجے کی غرض سے آنے والے ہمسایہ ملک افغانستان کے شہریوں سے لوٹ مار کی وارداتوں میں ملوث ہونے کا اعتراف کر لیا ہے، جبکہ مزید اہم انکشافات کی توقع کی جا رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: علاج معالجے کی غرض سے گرفتار ملزمان آنے والے
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔