کراچی میں تباہی کا منصوبہ ناکام،دہشت گردوں کی نشاندہی پر متعدد گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
کراچی (نوائے وقت رپورٹ) انٹیلی جنس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا ایک اور بڑا کارنامہ سامنے آگیا جب کہ کراچی میں دہشت گردی کے خطرناک منصوبے کا انکشاف ہوا ہے۔کئی ہفتوں پر محیط انتہائی پیچیدہ اور پیشہ ورانہ انٹیلی جنس آپریشن کے بعد کامیابی حاصل کی گئی جب کہ پریمیئر انٹیلی جنس ایجنسی کی انتھک کاوش کے نتیجے میں مصدقہ اطلاعات پر بروقت اور فیصلہ کن کارروائی کی گئی۔کارروائی میں 2 ہزار کلوگرام سے زائد تباہ کن بارودی مواد برآمد کیا، ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ذوالفقار لاڑک اور ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کیپٹن ریٹائرڈ غلام اظفر مہیسر نے اہم پریس کانفرنس میں بتایا کہ کئی دن اور راتوں کی محنت کے بعد ایک دہشت گرد کو گرفتار کر لیا گیا۔ گرفتار دہشت گرد سے تفتیش کے بعد ایک اور کامیابی ملی، گذشتہ رات دو مزید دہشت گرد گرفتار کر لیے گئے۔گرفتار دہشت گردوں میں جلیل احمد عرف فرید ولد محمد نور، نیاز قادر عرف کنگ ولد قادر بخش، حمدان عرف فرید ولد محمد علی شامل ہیں۔ اداروں کی مسلسل نگرانی اور غیر معمولی چوکنا پن سے دہشت گردی کا منصوبہ بے نقاب ہوا۔ برآمد شدہ دھماکہ خیز مواد کو شہر سے باہر حب کے علاقے میں محفوظ طریقے سے ناکارہ بنا دیا گیا، دو ہزار کلوگرام سے زائد بارودی مواد کی برآمدگی سے بے شمار قیمتی جانیں بچا لی گئیں۔ دہشت گردوں نے کراچی میں سویلین اہداف کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔ دہشت گردوں نے کراچی سے 35 سے 40 کلومیٹر کے فاصلے پر مکان کرائے پر لے رکھا تھا۔ انٹیلی جنس اداروں نے انسانی اور تکنیکی ذرائع سے نگرانی کی۔ آپریشن کو مکمل خفیہ رکھا گیا، عوام میں خوف و ہراس پھیلنے سے بچانے کے لیے غیر معمولی احتیاط برتی گئی، کارروائی کے دوران بوبی ٹریپس اور ممکنہ خطرات کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔علاوہ ازیں سکیورٹی ذرائع کے مطابق دھماکہ خیز مواد کی برآمدگی کا معاملے پر گرفتار دہشتگردوں کی نشاندہی پر متعدد افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ حراست میں لئے گئے افراد میں خواتین بھی شامل ہیں۔ دھماکہ خیز مواد کی تیاری میں استعمال ہونے والا سامان مختلف مقامات سے خریدا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار 3 ڈاکو ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
کراچی (نوائے وقت رپورٹ) ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔ سپیشل انویسٹی گیشن (ایس آئی ایو) نے دعویٰ کیا کہ گلشنِ معمار، عمر بروہی گوٹھ میں گرفتار ڈاکوؤں کی نشاندہی پر ان کے فرار ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مارا تو ملزموں نے فائرنگ کردی جس سے پولیس اہلکار بھی زخمی ہوگیا۔ ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے۔ 13 جولائی کو کراچی کے علاقے کلفٹن میں بنک کے باہر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے نوجوان ڈاکٹر آکاش جاں بحق ہوگیا تھا جب کہ ملزم بنک سے نکالے گئے 50 لاکھ روپے میں سے 25 لاکھ لوٹ کر فرار ہو گئے تھے۔