ٹھٹھہ ،علی بخش ملاح کے ورثا کا انصاف کیلیے مظاہرہ
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260107-11-13
ٹھٹھہ (نمائندہ جسارت)چند روز قبل ڈسٹرکٹ جیل ٹھٹھہ میں پراسرار طور پر جاں بحق ہونے والے علی بخش ملاح کے ورثا نے مکلی کے قریب ڈسٹرکٹ جیل کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مقتول قیدی کے ورثاکی بیوہ حسنہ ملاح کی قیادت میں مقتول کے کزن محمد عرس ملاح اور دیگر نے خواتین اور بچوں کے ہمراہ جیل کے سامنے مین غلام اللہ روڈ پر احتجاجی مظاہرہ کیا اور مکلی غلام اللہ روڈ کو بلاک کر دیا۔ مقتول قیدی کے ورثاکا کہنا تھا کہ ہمارے نوجوان علی بخش ملاح کو بدترین تشدد سے ہلاک کیا گیا اور اس کی خودکشی کا ڈرامہ غلط ہے۔ ورثا نے مطالبہ کیا کہ معاملے کی شفاف تحقیقات کر کے ذمے دار جیل انتظامیہ اور پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے اور ہمارے ساتھ انصاف کیا جائے۔ مکلی میں ڈسٹرکٹ جیل کے سامنے جاں بحق ہونے والے علی بخش ملاح کے ورثاکا احتجاج جاری رہا، تھانہ مکلی کے ایس ایچ او نے ورثا کے ہمراہ جمع ہونے والے شہریوں اور صحافیوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی دھمکی دے دی۔ علی بخش ملاح کی بیوہ حسنہ ملاح بے ہوش معصوم بیٹے اسد علی اور دیگر بچوں نے کہا کہ ہم کسی صورت احتجاج ختم نہیں کریں گے۔ ہمارے نوجوان علی بخش ملاح کو ٹھٹھہ جیل میں تشدد کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ ذمے داروں کے خلاف مقدمہ درج کرکے ہمارے ساتھ انصاف کیا جائے۔ ادھر مکلی کے قریب ڈسٹرکٹ جیل ٹھٹھہ کے سامنے سڑک پر احتجاج کرنے والی مقتول قیدی علی بخش ملاح کی خواتین پر پولیس نے وحشیانہ تشدد کیا۔ خواتین اور معصوم بچوں کو مارا پیٹا گیا۔ جبکہ ایس ایچ او مکلی کی قیادت میں پولیس موقع پر پہنچ گئی۔ ڈی ایس پی ٹھٹھہ بھی ٹیم کے ساتھ پہنچ گئے۔ ٹھٹھہ جیل میں جاں بحق ہونے والے قیدی علی بخش ملاح کے ورثا نے جیل انتظامیہ کے خلاف ٹھٹھہ جیل میں انتقال کر جانے والے علی بخش ملاح کے قتل کا مقدمہ درج کرانے کے لیے دو گھنٹے تک احتجاج کیا۔ بعد ازاں پولیس نے مظاہرین سے بات چیت کے بعد احتجاج ختم کروا دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: علی بخش ملاح کے ورثا ڈسٹرکٹ جیل ہونے والے کے سامنے کے خلاف
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔