بچوں کا تحفظ ریاست کی اہم ذمے داری ہے،یاسر بھٹی
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260107-11-14
بدین (نمائندہ جسارت ) ڈپٹی کمشنر بدین یاسر بھٹی نے کہا ہے کہ بچوں کا تحفظ ریاست کی اہم ذمے داری ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو باہمی تعاون اور مشترکہ کوششوں کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی برائے چائلڈ پروٹیکشن کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ بچوں کے ساتھ کسی بھی قسم کی زیادتی، تشدد، جبری مشقت اور حق تلفی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی اور ایسے واقعات میں ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ اسکول سے باہر بچوں کی نشاندہی کر کے انہیں تعلیم سے جوڑا جائے، چائلڈ لیبر کے خلاف مہم کو تیز کیا جائے اور بچوں کے تحفظ سے متعلق موجود قوانین پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ اس موقع پر ایڈیشنل ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر عبدالغفار کھوسہ نے کہا کہ بچوں اور نوجوانوں کو غلط صحبت اور منشیات سے بچانے کے لیے کھیلوں کے میدان اور لائبریریاں آباد کرنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضلع کی سطح پر قرأت، نعت، تقاریر اور سائنسی مقابلوں کے انعقاد سے بچوں اور نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کر کے انہیں ایک بہتر مستقبل فراہم کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں چائلڈ پروٹیکشن ہیلپ لائن نمبر 1121 پر بھی رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر ظہور احمد عباسی، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر سیکنڈری احمد خان زئنور، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر پرائمری الطاف حسین میمن، ڈسٹرکٹ انفارمیشن آفیسر سرفراز سموں، اسسٹنٹ ڈائریکٹر چائلڈ پروٹیکشن دین محمد ڈیرو، ڈی ایس پی بدین محمود بھوت، اسسٹنٹ جیل سپرنٹنڈنٹ عبدالحمید سومرو، لیبر آفیسر عبدالغنی، اسسٹنٹ ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ عبدالرحیم کھٹی، ڈاکٹر نوشین جمالی، ڈاکٹر علی رضا، فوکل پرسن پی پی ایچ آئی نیوٹریشن وجے کمار چوہان سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔