Jasarat News:
2026-06-02@23:45:11 GMT

بچوں کا تحفظ ریاست کی اہم ذمے داری ہے،یاسر بھٹی

اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260107-11-14
بدین (نمائندہ جسارت ) ڈپٹی کمشنر بدین یاسر بھٹی نے کہا ہے کہ بچوں کا تحفظ ریاست کی اہم ذمے داری ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو باہمی تعاون اور مشترکہ کوششوں کے ساتھ کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن کمیٹی برائے چائلڈ پروٹیکشن کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ بچوں کے ساتھ کسی بھی قسم کی زیادتی، تشدد، جبری مشقت اور حق تلفی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی اور ایسے واقعات میں ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ اسکول سے باہر بچوں کی نشاندہی کر کے انہیں تعلیم سے جوڑا جائے، چائلڈ لیبر کے خلاف مہم کو تیز کیا جائے اور بچوں کے تحفظ سے متعلق موجود قوانین پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ اس موقع پر ایڈیشنل ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر عبدالغفار کھوسہ نے کہا کہ بچوں اور نوجوانوں کو غلط صحبت اور منشیات سے بچانے کے لیے کھیلوں کے میدان اور لائبریریاں آباد کرنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضلع کی سطح پر قرأت، نعت، تقاریر اور سائنسی مقابلوں کے انعقاد سے بچوں اور نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کر کے انہیں ایک بہتر مستقبل فراہم کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں چائلڈ پروٹیکشن ہیلپ لائن نمبر 1121 پر بھی رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ اجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر ظہور احمد عباسی، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر سیکنڈری احمد خان زئنور، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر پرائمری الطاف حسین میمن، ڈسٹرکٹ انفارمیشن آفیسر سرفراز سموں، اسسٹنٹ ڈائریکٹر چائلڈ پروٹیکشن دین محمد ڈیرو، ڈی ایس پی بدین محمود بھوت، اسسٹنٹ جیل سپرنٹنڈنٹ عبدالحمید سومرو، لیبر آفیسر عبدالغنی، اسسٹنٹ ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ عبدالرحیم کھٹی، ڈاکٹر نوشین جمالی، ڈاکٹر علی رضا، فوکل پرسن پی پی ایچ آئی نیوٹریشن وجے کمار چوہان سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔

نمائندہ جسارت سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: انہوں نے ا فیسر

پڑھیں:

وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا

پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔ 

دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔

@timesofkarachi

Why didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq

♬ original sound - Times of Karachi

حالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔

انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔

وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔

مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔

        View this post on Instagram                      

وسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔

مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • شیخ رشید نے راولپنڈی ڈسٹرکٹ بار میں رکنیت بحالی کی درخواست جمع کرا دی
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا