یورپ: مشہور کمپنی کا فارمولا ملک مضر صحت قرار، کمپنی نے پروڈکٹ مارکیٹ سے واپس اٹھالی
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
مشہور بین الاقوامی کمپنی نے اپنا مخصوص بیبی فارمولا ممکنہ طور پر زہریلے مواد سے آلودہ ہونے کے خدشے کی وجہ سے واپس منگوالیا۔
صحت کے حکام اور کمپنی کی جانب سے جاری ہونے والے بیانات سے اس بات کی تصدیق ہوگئی کہ فارمولے میں شامل ہونے والا مواد بچوں میں ہیضے کا سبب بن سکتا ہے۔
کمپنی کی جانب سے بیبی فارمولا کے وہ مخصوص بیچز اور فالو-آن فارمولا واپس منگوائے گئے جو متعدد ممالک بالخصوص یورپ (برطانیہ، فرانس، جرمنی، اتلی، آسٹریا، ڈنمارک، سوئیڈن، فن لینڈ، آئرلینڈ اور سوئٹزرلینڈ) میں فروخت کیے گئے تھے۔
مزید پڑھیںصرف 10 منٹ کی ورزش اپنے اندر کیا فوائد رکھتی ہے؟
کمپنی نے بتایا کہ ان کی پروڈکٹس میں ممکنہ طور پر سیرولائڈ شامل ہو سکتا ہے۔ تپش کو مستحکم رکھنے والا یہ ٹاکسن بیکیلس سیریس بیکٹیریم کے اسٹرین سے بنتا ہے جو اگر نگل لیا جائے تو متلی، قے اور پیٹ میں مروڑ کی کیفیت میں مبتلا کر سکتا ہے۔
آفیشل نوٹسز میں کمپنی اور غذا سے متعلقہ اداروں نے والدین اور دیکھ بھال کرنے والوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ بچوں کو فارمولا نہیں دیں اور جاری کیے گئے بیچ کوڈز کو چیک کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔