سینئر پاکستانی اداکارہ فائزہ حسن نے اداکارہ صبا فیصل کے سسرالی رشتوں سے متعلق وائرل بیان پر اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے جوائنٹ فیملی سسٹم پر کھل کر بات کی۔ فائزہ حسن، جو طویل عرصے سے ٹیلی وژن اور فلم انڈسٹری سے وابستہ ہیں، حال ہی میں نجی ٹی وی کے ایک مارننگ شو میں بطور مہمان شریک ہوئیں، جہاں انہوں نے صبا فیصل کے اس وائرل بیان پر گفتگو کی جس میں صبا فیصل نے کہا تھا کہ بہو کو سسرال میں سونے سے پہلے بھی اجازت لینی چاہیے۔ اس حوالے سے بات کرتے ہوئے فائزہ حسن نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر صبا فیصل سے کبھی نہیں ملیں تاہم انہوں نے وائرل کلپ ضرور دیکھا ہے، انہوں نے ڈراموں میں اکثر زہریلے اور منفی کردار ادا کیے ہیں اور وہ سمجھتی تھیں کہ نند یا سسرالی مسائل جیسے کردار صرف فکشن تک محدود ہوتے ہیں مگر جب انہوں نے ایسے کردار نبھائے تو ناظرین کے پیغامات سے اندازہ ہوا کہ بہت سے لوگ ان کہانیوں سے خود کو جوڑ سکتے ہیں۔ فائزہ حسن نے مزید کہا کہ اب انہیں اس بات کا ادراک ہوا ہے کہ جوائنٹ فیملی سسٹم میں واقعی بہت سی ناانصافیاں ہوتی ہیں جو سراسر غلط ہیں، جوائنٹ فیملی سسٹم زہریلا ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ ہر رشتے کو ذاتی سپیس کی ضرورت ہوتی ہے جو اکثر ایسے نظام میں میسر نہیں آتی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کے نزدیک جوائنٹ فیملی سسٹم کا واحد فائدہ مالی بچت ہے، اس کے علاوہ وہ اسے ایک اچھا یا صحت مند نظام نہیں سمجھتیں۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: جوائنٹ فیملی سسٹم فائزہ حسن صبا فیصل انہوں نے

پڑھیں:

وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی

اسلام آباد،وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال (mustafa kamal)نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔

اس سلسلے میں ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔منگل کو جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔

پہلی بار ملک میں ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، جس سے جعلی، غیر معیاری اور نقلی ادویات کی مؤثر نشاندہی اور ان کے خاتمے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ نئے نظام کے نفاذ کے بعد عام صارفین باآسانی دوا کی میعادِ استعمال، قیمت اور دیگر اہم معلومات کی مستند تصدیق کر سکیں گے، جس سے عوام کا ادویات کے نظام پر اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔

مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی۔ نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں۔

وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ اہم اقدام پاکستان میں ادویات کی سپلائی چین کو محفوظ، شفاف اور معیاری بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔

حکومت ادویات کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں خطے کے نمایاں ممالک میں شامل ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گاجس سے عوام کی صحت، زندگی اور اعتماد کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے گا۔

مزید پڑھیں:میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت

وفاقی وزیرِ صحت کے مطابق ڈریپ کی جانب سے صنعت کو سہولت فراہم کرنے کے لیے جلد تکنیکی رہنما اصول جاری کیے جائیں گے، جبکہ متعلقہ فریقین کے ساتھ مشاورتی اجلاس بھی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ نظام کے مؤثر اور مرحلہ وار نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ