2 ارب ڈالر کی روف ٹاپ سولر سرمایہ کاری خطرے میں پڑگئی
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (کامرس رپورٹر) ایف پی سی سی آئی– انرجی اپڈیٹ سیمینار میں نیٹ میٹرنگ اصلاحات اور صارفین کے اعتماد پر ثاقب فیاض مگوں، فیضان علی شاہ، وقاص موسی، نعیم قریشی و دیگر کا خطاب ۔ پاکستان کی وسیع صاف توانائی، بالخصوص شمسی توانائی سے فوری فائدہ اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا گیا تاکہ تیز رفتار صنعتی ترقی کو فروغ دیا جا سکے، صنعتوں کو سستی بجلی فراہم کی جا سکے، دور دراز اور آف گرڈ دیہی علاقوں کو توانائی مہیا کی جا سکے اور ساتھ ہی عام صارفین کو درپیش بجلی کے مسائل میں کمی لائی جا سکے۔ ان خیالات کا اظہار حکومت کی جانب سے نیٹ میٹرنگ اور روف ٹاپ سولر پالیسی میں مجوزہ تبدیلیوں اور اس کے نتیجے میں صنعت و صارفین کو لاحق سنگین خدشات کے حوالے سے منعقدہ اعلیٰ سطحی سیمینار میں کیا گیا۔ یہ سیمینار فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) نے انرجی اپڈیٹ کے اشتراک سے منعقد کیا۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی مثال پر عمل کرتے ہوئے اپنی قابلِ تجدید توانائی کے غیر استعمال شدہ وسائل سے مکمل فائدہ اٹھانا ہوگا، تاکہ مہنگی بجلی سے تنگ صنعتوں اور صارفین کو ریلیف دیا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ وافر مقامی صاف توانائی کی موجودگی کے باوجود اگر صنعتیں مہنگی بجلی کے باعث بند ہوتی رہیں تو یہ ملکی صنعتی بنیاد کے لیے نہایت نقصان دہ ثابت ہوگا۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بجلی کی قیمتوں کے مسائل کو فوری طور پر حل کیا جائے۔ حکومتی مؤقف پیش کرتے ہوئے پاور ڈویژن کے وفاقی مشیر فائزن علی شاہ نے شرکاء کو یقین دلایا کہ نیٹ میٹرنگ نظام میں مجوزہ تبدیلیوں کا مقصد پاکستان میں قابلِ تجدید توانائی کے فروغ کو روکنا نہیں بلکہ بجلی کے ٹیرف سسٹم میں موجود بعض مالی بے ضابطگیوں کی اصلاح ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس امر سے آگاہ ہے کہ صاحبِ استطاعت طبقے کی جانب سے روف ٹاپ سولر کی تیزی سے تنصیب کا بوجھ ان صارفین پر نہیں پڑنا چاہیے جو ایسے نظام لگانے کی سکت نہیں رکھتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مجوزہ ترامیم عالمی بہترین طریقہ کار کے مطابق ہیں، جہاں ترقی یافتہ ممالک نے اپنے قومی صاف توانائی اہداف حاصل کرنے کے بعد بتدریج مالی مراعات واپس لی ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان میں نیٹ میٹرنگ کا آغاز ایک دہائی قبل اس وقت کیا گیا تھا جب بجلی کی شدید قلت تھی اور قابلِ تجدید توانائی کا استعمال نہ ہونے کے برابر تھا، تاہم اب پاکستان اپنی بجلی کی ضروریات کا تقریباً 55 فیصد قابلِ تجدید ذرائع سے پورا کر رہا ہے اور بجلی کی قلت کا مسئلہ بڑی حد تک حل ہو چکا ہے۔انہوں نے بتایا کہ حکومت کا ہدف ہے کہ 2035 تک پاکستان کی 90 فیصد سے زائد بجلی کی ضروریات قابلِ تجدید توانائی سے پوری کی جائیں۔ علاقائی موازنہ پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت کی سالانہ توانائی طلب 1,695 ٹیرا واٹ آور، نیدرلینڈز کی 111 ٹیرا واٹ آور اور متحدہ عرب امارات کی 183 ٹیرا واٹ آور ہے، جبکہ رقبے میں بڑا ہونے کے باوجود پاکستان کی توانائی طلب محض 100 ٹیرا واٹ آور کے لگ بھگ ہے۔
کامرس رپورٹر
سیف اللہ
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: تجدید توانائی ٹیرا واٹ ا ور نیٹ میٹرنگ کرتے ہوئے انہوں نے بجلی کی کہا کہ جا سکے
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔