سولر نیٹ میٹرنگ کی قیمت کم کرنے کا حکومتی فیصلہ مایوس کن ہے،امان پراچہ
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260106-05-7
کراچی (کامرس رپورٹر) فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نائب صدرامان پراچہ نے سولر نیٹ میٹرنگ کی قیمت کم کرنے کے حکومتی فیصلے پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سولر نیٹ میٹرنگ کی قیمت 29روپے سے کم کرکے 11روپے کرنے کے فیصلے سے ایک طرف ملک میں ہونے والی نئی سرمایہ کاری بری طرح سے متاثر ہوگی بلکہ کاروباری طبقہ مایوس ہوگا اور ان کی اربوں روپے کی سرمایہ کاری ضائع ہوسکتی ہے جبکہ لوگ ہائیبرڈ پرچلے جائیں گے اور جوبجلی استعمال ہورہی ہے اس سے بھی انہیں ہاتھ دھونا پڑیں گے۔امان پراچہ نے کہا کہ سولر صارفین قوانین 2025 کا نام دے کر نیپرا نے یہ دعویٰ کیاہے کہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد وزارت توانائی نے منظوری دی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ملک کی بزنس کمیونٹی کے سے سے بڑے نمائندہ ادارے ایف پی سی سی آئی کو اعتماد میں نہیں لیا گیااور تمام سولر صارفین کے لیے نیٹ میٹرنگ پالیسی تبدیل کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا جو کہ سرمایہ کاری کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہاکہ نیٹ میٹرنگ سے نیٹ بلنگ نظام متعارف کروا نے کے نام پرصارفین سے سولر معاہدے کی مدت 7 سال سے کم ہو کر 5 سال کی گئی جبکہ نیٹ میٹرنگ صارف کو 22 کے بجائے 10 روپے ادائیگی کی تجویزبھی دی گئی ہے جو ناقابل برداشت ہوگی اس طرح سے نئی سولر پالیسی میں نیٹ میٹرنگ کے فائدہ ختم ہوجائے گا۔امان پراچہ نے کہا کہ نیٹ میٹرنگ میں سولر صارف 25 روپے 98 پیسے فی یونٹ قیمت کا فائدہ لیتا تھا جبکہ آئندہ 25 کلو واٹ سے کم لوڈ کا لائسنس نیپرا سے لینا لازم ہوگا، پہلے گھریلو، صنعتی، کمرشل صارفین 25 کلو واٹ تک کو لائسنس سے استنثنیٰ تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ گرڈ کواگر اتنی ہی بجلی واپس کر دی جاتی جتنی آپ استعمال کرتے تھے تو بجلی کا بل عملی طور پر صفر ہو سکتا تھا، اس نظام میں اپنی بجلی خود استعمال بھی کر رہے ہوتے تھے اور اضافی بجلی گرڈ کو فراہم کر کے فائدہ بھی اٹھاتے تھے،اسی وجہ سے پرانا نیٹ میٹرنگ نظام مالی طور پر فائدہ مند اور منافع بخش بھی تھا،اس کی بڑی وجوہات یہ تھیں کہ بائی بیک ریٹ نسبتاً زیادہ تھا، بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں اضافی بجلی تقریباً 22 سے 27 روپے فی یونٹ کے حساب سے خریدتی تھیں، جبکہ ان نرخوں کی بدولت لوگ عموماً 10 کلو واٹ سے 15 کلو واٹ کے سولر سسٹم کی لاگت دو سے پانچ سال میں پوری کر لیتے تھے مگرنئے نظام میں بلنگ کا طریقہ کار مکمل طور پر بدل دیا گیا ہے۔ اب لوگ بجلی گرڈ کو کم نرخ پر فروخت کرتے ہیں اور بدلے میں گرڈ سے بجلی زیادہ قیمت پر واپس خریدتے ہیں جو کہ عام صارف کا یونٹ ریٹ ہے یعنی 34 روپے ہے۔ سولر پینلز سے پیدا ہونے والی تمام بجلی براہِ راست گرڈ کو تقریباً 10 سے 11.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سولر نیٹ میٹرنگ کی قیمت سرمایہ کاری کلو واٹ گرڈ کو
پڑھیں:
آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
تصویر سوشل میڈیا۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے۔
وزیراعظم کی زیرِ صدارت آئی ٹی کے شعبے کی اسٹریٹیجک روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ اجلاس ہوا۔
اس موقع پر وزیر اعظم نے کہا کہ ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
شہباز شریف نے ہدایت کی کہ آئی ٹی کے شعبے کے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
اعلامیہ کے مطابق انہوں نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔
اجلاس کو دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025 میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026 میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی۔
وزیراعظم کو ’’کنیکٹ پاکستان وژن 2030‘‘ کے اجراء کی تیاریوں پر بھی بریفنگ دی گئی۔
اعلامیہ کے مطابق پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024 میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 72 فیصد ہو گیا۔
بریفنگ کے مطابق جون 2026 تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دیے گئے۔