Jasarat News:
2026-06-02@23:55:01 GMT

2 ارب ڈالر کی روف ٹاپ سولر سرمایہ کاری خطرے میں پڑگئی

اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260106-05-8
کراچی (کامرس رپورٹر) ایف پی سی سی آئی– انرجی اپڈیٹ سیمینار میں نیٹ میٹرنگ اصلاحات اور صارفین کے اعتماد پر ثاقب فیاض مگوں، فیضان علی شاہ، وقاص موسی، نعیم قریشی و دیگر کا خطاب ۔ پاکستان کی وسیع صاف توانائی، بالخصوص شمسی توانائی سے فوری فائدہ اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا گیا تاکہ تیز رفتار صنعتی ترقی کو فروغ دیا جا سکے، صنعتوں کو سستی بجلی فراہم کی جا سکے، دور دراز اور آف گرڈ دیہی علاقوں کو توانائی مہیا کی جا سکے اور ساتھ ہی عام صارفین کو درپیش بجلی کے مسائل میں کمی لائی جا سکے۔ ان خیالات کا اظہار حکومت کی جانب سے نیٹ میٹرنگ اور روف ٹاپ سولر پالیسی میں مجوزہ تبدیلیوں اور اس کے نتیجے میں صنعت و صارفین کو لاحق سنگین خدشات کے حوالے سے منعقدہ اعلیٰ سطحی سیمینار میں کیا گیا۔ یہ سیمینار فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) نے انرجی اپڈیٹ کے اشتراک سے منعقد کیا۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کی مثال پر عمل کرتے ہوئے اپنی قابلِ تجدید توانائی کے غیر استعمال شدہ وسائل سے مکمل فائدہ اٹھانا ہوگا، تاکہ مہنگی بجلی سے تنگ صنعتوں اور صارفین کو ریلیف دیا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ وافر مقامی صاف توانائی کی موجودگی کے باوجود اگر صنعتیں مہنگی بجلی کے باعث بند ہوتی رہیں تو یہ ملکی صنعتی بنیاد کے لیے نہایت نقصان دہ ثابت ہوگا۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بجلی کی قیمتوں کے مسائل کو فوری طور پر حل کیا جائے۔ حکومتی مؤقف پیش کرتے ہوئے پاور ڈویژن کے وفاقی مشیر فائزن علی شاہ نے شرکاء کو یقین دلایا کہ نیٹ میٹرنگ نظام میں مجوزہ تبدیلیوں کا مقصد پاکستان میں قابلِ تجدید توانائی کے فروغ کو روکنا نہیں بلکہ بجلی کے ٹیرف سسٹم میں موجود بعض مالی بے ضابطگیوں کی اصلاح ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس امر سے آگاہ ہے کہ صاحبِ استطاعت طبقے کی جانب سے روف ٹاپ سولر کی تیزی سے تنصیب کا بوجھ ان صارفین پر نہیں پڑنا چاہیے جو ایسے نظام لگانے کی سکت نہیں رکھتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مجوزہ ترامیم عالمی بہترین طریقہ کار کے مطابق ہیں، جہاں ترقی یافتہ ممالک نے اپنے قومی صاف توانائی اہداف حاصل کرنے کے بعد بتدریج مالی مراعات واپس لی ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان میں نیٹ میٹرنگ کا آغاز ایک دہائی قبل اس وقت کیا گیا تھا جب بجلی کی شدید قلت تھی اور قابلِ تجدید توانائی کا استعمال نہ ہونے کے برابر تھا، تاہم اب پاکستان اپنی بجلی کی ضروریات کا تقریباً 55 فیصد قابلِ تجدید ذرائع سے پورا کر رہا ہے اور بجلی کی قلت کا مسئلہ بڑی حد تک حل ہو چکا ہے۔انہوں نے بتایا کہ حکومت کا ہدف ہے کہ 2035 تک پاکستان کی 90 فیصد سے زائد بجلی کی ضروریات قابلِ تجدید توانائی سے پوری کی جائیں۔ علاقائی موازنہ پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت کی سالانہ توانائی طلب 1,695 ٹیرا واٹ آور، نیدرلینڈز کی 111 ٹیرا واٹ آور اور متحدہ عرب امارات کی 183 ٹیرا واٹ آور ہے، جبکہ رقبے میں بڑا ہونے کے باوجود پاکستان کی توانائی طلب محض 100 ٹیرا واٹ آور کے لگ بھگ ہے۔

ایف پی سی سی آئی–انرجی اپڈیٹ سیمینار میں شرکاء کا گروپ

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: تجدید توانائی ٹیرا واٹ ا ور نیٹ میٹرنگ کرتے ہوئے انہوں نے بجلی کی کہا کہ جا سکے

پڑھیں:

بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان

اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، کیونکہ اپریل 2026 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی ہے۔

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے اثرات بجلی کی پیداوار پر بھی مرتب ہوئے۔

سی پی پی اے کے مطابق اپریل میں درآمدی ایل این جی کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم مئی کے آغاز میں ایل این جی کے معاہدہ شدہ اور اسپاٹ کارگوز موصول ہونے کے بعد ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس سے نظام میں بہتری آئی۔

حکام نے نیپرا کو آگاہ کیا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تقریباً تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ آئندہ دو ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔

سی پی پی اے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کی قیمت میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، تاہم مئی، جون اور جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو بڑے اضافی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ضروری انتظامات اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا چکا ہے۔

اب نیپرا درخواست پر تمام فریقین کا مؤقف سننے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں کتنا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی
  • بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان