خودمختاری کی خلاف ورزی سنگین مسائل کو جنم دے سکتی ہے، وینزویلا کے ساتھ ہیں، ترک صدر طیب اردوان
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
انقرہ : ترکیے کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ ترکیے وینزویلا کے عوام کے ساتھ کھڑا رہے گا، ماضی میں صدر مادورو اور وینزویلا کے عوام نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ ترک قوم کے دوست ہیں۔
رجب طیب اردوان کا کہنا ہے کہ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فونک گفتگو میں واضح مؤقف اختیار کیا ہے کہ وینزویلا کو صدرنکولس مادورو کی معزولی کے بعد عدم استحکام کی جانب نہیں دھکیلا جانا چاہیے۔
کابینہ اجلاس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے ترک صدر نے خبردار کیا کہ ممالک کی خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی عالمی سطح پر سنگین مسائل کو جنم دے سکتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اصولوں پر مبنی بین الاقوامی نظام کا تحفظ ناگزیر ہے اور عالمی برادری کو اس کی پاسداری کرنی چاہیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔