خودمختاری کی خلاف ورزی سنگین مسائل کو جنم دے سکتی ہے، وینزویلا کے ساتھ ہیں، ترک صدر طیب اردوان
اشاعت کی تاریخ: 5th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
انقرہ : ترکیے کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ ترکیے وینزویلا کے عوام کے ساتھ کھڑا رہے گا، ماضی میں صدر مادورو اور وینزویلا کے عوام نے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ ترک قوم کے دوست ہیں۔
رجب طیب اردوان کا کہنا ہے کہ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فونک گفتگو میں واضح مؤقف اختیار کیا ہے کہ وینزویلا کو صدرنکولس مادورو کی معزولی کے بعد عدم استحکام کی جانب نہیں دھکیلا جانا چاہیے۔
کابینہ اجلاس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے ترک صدر نے خبردار کیا کہ ممالک کی خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی عالمی سطح پر سنگین مسائل کو جنم دے سکتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اصولوں پر مبنی بین الاقوامی نظام کا تحفظ ناگزیر ہے اور عالمی برادری کو اس کی پاسداری کرنی چاہیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔