فائزہ حسن کا صبا فیصل کے وائرل بیان پر ردعمل
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
سینئر پاکستانی اداکارہ فائزہ حسن نے حال ہی میں اداکارہ صبا فیصل کے سسرالی رشتوں سے متعلق وائرل بیان پر اپنا مؤقف پیش کر دیا۔
فائزہ حسن طویل عرصے سے ٹیلی وژن اور فلم انڈسٹری سے وابستہ ہیں، انہوں نے کئی مقبول ڈراموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے ہیں، ناظرین نے حالیہ ڈراموں آپا شمیم اور جان سے پیارا جونی میں ان کی پرفارمنس کو بے حد سراہا جبکہ اس وقت وہ جیو ٹی وی کے ڈرامہ سیریل پہلی بارش میں ایک منفی اور زہریلی بیوی کا کردار نبھا رہی ہیں۔
حال ہی میں فائزہ حسن نجی ٹی وی کے مارننگ شو میں بطور مہمان شریک ہوئیں، جہاں انہوں نے صبا فیصل کے وائرل بیان پر بات کی، صبا فیصل کا کہنا تھا کہ بہو کو سسرال میں سونے سے پہلے بھی اجازت لینی چاہیے۔
اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے فائزہ حسن نے کہا کہ میں ذاتی طور پر صبا فیصل سے کبھی نہیں ملی، البتہ میں نے وہ کلپ ضرور دیکھا ہے جس کا آپ ذکر کر رہی ہیں، میں نے ہمیشہ ایسے ہی کردار ڈراموں میں ادا کیے ہیں اور حقیقی زندگی میں اس طرح کے زہریلے لوگوں سے میرا سامنا نہیں ہوا، میں سمجھتی تھی کہ نند جیسے کردار صرف فکشن ہوتے ہیں اور حقیقت میں ایسے لوگ موجود نہیں، لیکن جب میں نے نند میں کام کیا تو لوگوں کے پیغامات آئے کہ وہ اس کہانی سے خود کو جوڑ سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اب مجھے اندازہ ہوا ہے کہ جوائنٹ فیملی سسٹم میں واقعی بہت سی ناانصافیاں ہوتی ہیں، جو بالکل غلط ہیں۔
فائزہ حسن کے مطابق جوائنٹ فیملی سسٹم زہریلا ہو سکتا ہے کیونکہ ہر رشتے کو کچھ ذاتی اسپیس درکار ہوتی ہے، جو اکثر ایسے نظام میں میسر نہیں ہوتی، میرے خیال میں جوائنٹ فیملی سسٹم کا واحد فائدہ پیسے کی بچت ہے، اس کے علاوہ میں اسے ایک اچھا خیال نہیں سمجھتی۔
فائزہ حسن کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر ایک بار پھر جوائنٹ فیملی سسٹم اور بہوؤں کو درپیش مسائل پر بحث شروع ہو گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: جوائنٹ فیملی سسٹم فائزہ حسن صبا فیصل
پڑھیں:
وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) ملک بھر میں جعلی دواؤں کا خاتمہ یقینی بنانےکے لیے وفاقی کابینہ نے دواؤں کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دیدی۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس حوالے سے کہا کہ ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی منظوری دے دی گئی ہے، یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی دواؤں کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔
انہوں نے کہا کہ پہلی بار ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، اس نظام کے تحت جعلی، غیرمعیاری اور نقلی دواؤں کی نشاندہی اور ان کا خاتمہ ممکن ہوگا، نظام کے نفاذ سے عام صارف بآسانی دوا کی میعاد اور قیمت کی مستند معلومات لے سکےگا۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
وفاقی وزیر نے کہا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی، نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں، یہ اہم فیصلہ دواوں کی سپلائی چین کو محفوظ اور معیاری بنانے کیلئے کیا ہے۔
مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا پاکستان میں دواؤں کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے، ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی دواؤں کے خلاف مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی، پاکستان خطے میں جدید ٹیکنالوجی اپنانے والا نمایاں ملک بن کر سامنے آئے گا، اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گا۔
پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر
مزید :