WE News:
2026-07-24@01:31:35 GMT

امریکا تیل نہیں ایران اور چین کے پیچھے وینزویلا پہنچا

اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT

امریکا 2 دہائی مڈل ایسٹ اور افغانستان میں مصروف رہا۔ اس دوران چین ویسٹرن ہیمسفئر میں لاطینی امریکا اور کیریبیئن اسٹیٹس میں اپنی پوزیشن مستحکم کرتا رہا۔

برطانیہ کی دی اسپیکٹیٹر نیوز سائٹ کے مطابق چین نے 20 سال میں 551 ارب ڈالر اس علاقے میں لگائے۔ چین نے سنہ 2005 سے جتنا ڈویلپمنٹ فائنانس اس ریجن میں فراہم کیا اس کا 44 فیصد صرف وینزویلا کو دیا گیا۔

امریکا کو کسی سوشلسٹ وینزویلا سے مسئلہ نہیں تھا اس کے فوجی طاقت بننے سے تھا۔ چینی انٹیلیجنس ملٹری ٹیکنالوجی وینزویلا پہنچ جائے، یہ امریکا کے لیے ایک ڈراؤنا خواب تھا۔ پینٹاگون کا حساب کتاب سیدھا تھا کہ شمالی وینزویلا سے ہوسٹن کا فاصلہ 3300 کلومیٹر ہے اور پانامہ کینال صرف 1100 کلومیٹر دور ہے۔ وار گیم صاف بتا رہی تھیں کہ تائیوان پر چینی حملے کے لیے امریکا اگر آگے آیا تو وینزویلا وہ جگہ ہوگی جہاں سے چین امریکی انٹرسٹ کو نشانہ بنائے گا۔

4 دسمبر کو صدر ٹرمپ کے دستخط سے وائٹ ہاؤس نے 33 صفحات پر مشتمل نیشنل سیکیورٹی اسٹریٹجی جاری کی تھی۔ اس اسٹریٹجی میں ایک لائن یہ تھی کہ امریکا ویسٹرن ہیمسفیئر میں مونرو ڈاکٹرائن بحال کرے۔ جیمز مونرو امریکا کے 5ویں صدر تھے۔ انہوں نے ایک بیان دیا تھا جسے سنہ 1823 سے یاد رکھا جاتا ہے۔ اس بیان میں امریکا نے سپین کے زیر اثر براعظم امریکا کی ریاستوں کے آزادی حاصل کرنے کی حمایت کی تھی۔ اس بیان میں یورپ کو وارننگ بھی دی گئی تھی کہ وہ ویسٹرن ہیمسفیئر میں اپنی مزید کالونیاں بنانے سے باز رہے۔

یہ بھی پڑھیں: لاتعلق اور اکتائی ہوئی جنریشن زی کے ونڈر بوائے ہی کرامتیں دکھا سکتے 

امریکا کے 114ویں صدر جیمز پولک نے بعد میں اس بیان کو مونرو ڈاکٹرائن قرار دیا تھا۔ اسرائیلی نیوز سائٹ ہارٹز نے یہ سب تفصیلات بتاتے ہوئے لکھا ہے کہ ویسے ٹرمپ امریکا کے تمام صدور کو چریا ہی سمجھتا ہے لیکن جہاں اسے ضرورت محسوس ہوئی اس نے ایک سابق صدر کے ڈاکٹرائن کو ہی اپنا لیا۔

ویسٹرن ہیمسفیئر میں سارا براعظم امریکا اور اس کے 25 ممالک شامل ہیں۔ اس کے علاوہ یورپ میں آئس لینڈ، آئرلینڈ، اسپین، پرتگال کے کچھ حصے، اسکاٹ لینڈ، ویلز اور انگلینڈ کے کچھ مغربی حصے شامل ہیں۔ افریقہ سے مراکش، موریطانیہ، سینیگال، گیمبیا، گنی، لائبیریا، آئیوری کوسٹ اور سیرا لیون شامل ہیں۔ جبکہ افریقہ سے ہی برکینا فاسو، مالی، الجزائر اور ٹوگو کے کچھ علاقے بھی اس میں شامل ہیں۔ اوشیانا کے کچھ جزائر اور روس کا ایک چھوٹا سا خطہ چوکوٹکا بھی ویسٹرن ہیمسفئر میں آتا ہے۔

امریکا نے اگر ویسٹرن ہمسفیئر کو مونرو ڈاکٹرائن کے مطابق اپنا لیا ہے۔ تو اس سے امریکا کے آئندہ عزائم کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ اس کا ایک مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ امریکا نے یورپ کو روس کے ساتھ آپس میں ہی اک دوسرے سے کرو جو کرنا ہے کہہ کر انہیں ان کے اپنے حال پر چھوڑ دیا ہے۔ ٹرمپ گرین لینڈ اور کینیڈا کو امریکا کا حصہ بننے اور بنانے کی بات بھی کر چکا ہے۔

مزید پڑھیے: پاکستان ایسے ہی ڈارلنگ نہیں بنا، محنتیں ہیں

ٹرمپ جب کچھ ایسا انوکھا کہتا ہے تو امریکی میڈیا کھوج میں لگ جاتا ہے کہ ٹرمپ کو یہ پٹی کس نے پڑھائی۔ ران لاڈر ارب پتی امریکی یہودی ہیں جو سابق سفارتکار رہے ہیں۔ 7 سال پہلے انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ایک کرسمس گزاری جہاں انہیں گرین لینڈ کو حاصل کرنے کا آئڈیا پیش کیا۔ وینزویلا آپریشن کا آئیڈیا پیش کرنے کا کارنامہ یو ایس سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو کے سر باندھا جا رہا ہے۔ روبیو ایک وقت میں ٹرمپ کے شدید ناقد اور مخالف رہے ہیں اب ٹرمپ ٹیم کے اہم رکن ہیں۔

مارکو روبیو کے والدین کیوبا سے امریکا آئے تھے۔ روبیو افغانستان اور عراق کی جنگوں کے حمایتی رہے ہیں۔ امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے 2 دسمبر کو فاکس نیوز کو ایک انٹرویو ریکارڈ کرایا تھا۔ اس انٹرویو میں روبیو کا کہنا تھا کہ وینزویلا پورے خطے کے عدم استحکام کا باعث ہے۔ 80 لاکھ آبادی ہمسایہ ملکوں کو ہجرت کر چکی ہے۔ وینزویلا ایران کا فٹ گراؤنڈ اور حزب اللہ کا حمایتی بنا ہوا ہے۔ ایران اپنا جھنڈا ہمارے بیک یارڈ، وینزویلا میں گاڑ چکا ہے۔ اگر آپ امریکا فرسٹ پر فوکس ہیں تو شروعات اسی ہیمسفئر (خطے) سے کرنی ہوگی جہاں آپ رہتے ہیں۔ ویسٹرن ہمسفیئر کو امریکا اپنا حلقہ اثر مانتا ہے اور ٹرمپ کا خیال ہے کہ یہاں کوئی کارروائی کرنے لیے یو این سے کچھ پوچھنے کی ضرورت نہیں۔

حزب اللہ پر مختلف اوقات میں وینزویلا اور لاطینی امریکا میں اپنے قدم جمانے اور نیٹ ورک چلانے کے الزامات لگتے رہے ہیں ۔ وینزویلا کے صدر کو اٹھا کر امریکا لائے جانے والے آپریشن کی مذمت کرنے میں حزب اللہ نے دیر نہیں لگائی تھی۔ ایران اور وینزویلا بارٹر کی بنیاد پر تیل کا تبادلہ کرتے ہوئے امریکی پابندیوں کو بے اثر کرتے تھے۔ ایران نے اپنے ڈرون اور دفاعی پیدوار کی پروڈکشن وینزویلا شفٹ کی تھی ۔ 2025 میں ایران نے ریکارڈ تیل ایکسپورٹ کیا تھا۔

مزید پڑھیں: سینٹرل ایشیا کے لینڈ لاک ملکوں کی پاکستان اور افغانستان سے جڑی ترقی

وینزویلا کے خلاف امریکی فوجی آپریشن کی بڑی وجہ ایران اور چین ہیں۔ وینزویلا کے صدر کی امریکی آپریشن میں پکڑے جانے سے پہلے لاطینی امریکا کے لیے چین کے خصوصی نمائندے چیوشیاوچی سے ملاقات کی تھی۔ وینزویلا کے حوالے سے ایک چینی آفیشل کے حوالے سے ٹیلی گراف کلکتہ میں بتایا گیا ہے کہ چین خود کو ایک قابل اعتبار دوست ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ایران کے لیے وینزویلا میں امریکی کارروائی ایک بڑا سیٹ بیک ہے جس کے بعد ایران ایک اہم اتحادی سے محروم ہوا ہے اور اس کے خلاف گھیرا مزید تنگ ہوتا محسوس ہو رہا ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

وسی بابا

وسی بابا نام رکھا وہ سب کہنے کے لیے جن کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔ سیاست، شدت پسندی اور حالات حاضرہ بارے پڑھتے رہنا اور اس پر کبھی کبھی لکھنا ہی کام ہے۔ ملٹی کلچر ہونے کی وجہ سے سوچ کا سرکٹ مختلف ہے۔ کبھی بات ادھوری رہ جاتی ہے اور کبھی لگتا کہ چپ رہنا بہتر تھا۔

اغوا برائے ایران اغوا برائے چین امریکا وینزویلا وینزویلا کے صدر کا اغوا.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اغوا برائے ایران اغوا برائے چین امریکا وینزویلا وینزویلا کے صدر کا اغوا وینزویلا کے امریکا کے شامل ہیں رہے ہیں کے کچھ ہے اور کی تھی کے لیے

پڑھیں:

سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں  میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔

کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔

ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔

سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔

ابراہام معاہدے کیا ہیں؟

ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔

ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔

 

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم