WE News:
2026-06-02@23:14:57 GMT

امریکا تیل نہیں ایران اور چین کے پیچھے وینزویلا پہنچا

اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT

امریکا 2 دہائی مڈل ایسٹ اور افغانستان میں مصروف رہا۔ اس دوران چین ویسٹرن ہیمسفئر میں لاطینی امریکا اور کیریبیئن اسٹیٹس میں اپنی پوزیشن مستحکم کرتا رہا۔

برطانیہ کی دی اسپیکٹیٹر نیوز سائٹ کے مطابق چین نے 20 سال میں 551 ارب ڈالر اس علاقے میں لگائے۔ چین نے سنہ 2005 سے جتنا ڈویلپمنٹ فائنانس اس ریجن میں فراہم کیا اس کا 44 فیصد صرف وینزویلا کو دیا گیا۔

امریکا کو کسی سوشلسٹ وینزویلا سے مسئلہ نہیں تھا اس کے فوجی طاقت بننے سے تھا۔ چینی انٹیلیجنس ملٹری ٹیکنالوجی وینزویلا پہنچ جائے، یہ امریکا کے لیے ایک ڈراؤنا خواب تھا۔ پینٹاگون کا حساب کتاب سیدھا تھا کہ شمالی وینزویلا سے ہوسٹن کا فاصلہ 3300 کلومیٹر ہے اور پانامہ کینال صرف 1100 کلومیٹر دور ہے۔ وار گیم صاف بتا رہی تھیں کہ تائیوان پر چینی حملے کے لیے امریکا اگر آگے آیا تو وینزویلا وہ جگہ ہوگی جہاں سے چین امریکی انٹرسٹ کو نشانہ بنائے گا۔

4 دسمبر کو صدر ٹرمپ کے دستخط سے وائٹ ہاؤس نے 33 صفحات پر مشتمل نیشنل سیکیورٹی اسٹریٹجی جاری کی تھی۔ اس اسٹریٹجی میں ایک لائن یہ تھی کہ امریکا ویسٹرن ہیمسفیئر میں مونرو ڈاکٹرائن بحال کرے۔ جیمز مونرو امریکا کے 5ویں صدر تھے۔ انہوں نے ایک بیان دیا تھا جسے سنہ 1823 سے یاد رکھا جاتا ہے۔ اس بیان میں امریکا نے سپین کے زیر اثر براعظم امریکا کی ریاستوں کے آزادی حاصل کرنے کی حمایت کی تھی۔ اس بیان میں یورپ کو وارننگ بھی دی گئی تھی کہ وہ ویسٹرن ہیمسفیئر میں اپنی مزید کالونیاں بنانے سے باز رہے۔

یہ بھی پڑھیں: لاتعلق اور اکتائی ہوئی جنریشن زی کے ونڈر بوائے ہی کرامتیں دکھا سکتے 

امریکا کے 114ویں صدر جیمز پولک نے بعد میں اس بیان کو مونرو ڈاکٹرائن قرار دیا تھا۔ اسرائیلی نیوز سائٹ ہارٹز نے یہ سب تفصیلات بتاتے ہوئے لکھا ہے کہ ویسے ٹرمپ امریکا کے تمام صدور کو چریا ہی سمجھتا ہے لیکن جہاں اسے ضرورت محسوس ہوئی اس نے ایک سابق صدر کے ڈاکٹرائن کو ہی اپنا لیا۔

ویسٹرن ہیمسفیئر میں سارا براعظم امریکا اور اس کے 25 ممالک شامل ہیں۔ اس کے علاوہ یورپ میں آئس لینڈ، آئرلینڈ، اسپین، پرتگال کے کچھ حصے، اسکاٹ لینڈ، ویلز اور انگلینڈ کے کچھ مغربی حصے شامل ہیں۔ افریقہ سے مراکش، موریطانیہ، سینیگال، گیمبیا، گنی، لائبیریا، آئیوری کوسٹ اور سیرا لیون شامل ہیں۔ جبکہ افریقہ سے ہی برکینا فاسو، مالی، الجزائر اور ٹوگو کے کچھ علاقے بھی اس میں شامل ہیں۔ اوشیانا کے کچھ جزائر اور روس کا ایک چھوٹا سا خطہ چوکوٹکا بھی ویسٹرن ہیمسفئر میں آتا ہے۔

امریکا نے اگر ویسٹرن ہمسفیئر کو مونرو ڈاکٹرائن کے مطابق اپنا لیا ہے۔ تو اس سے امریکا کے آئندہ عزائم کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ اس کا ایک مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ امریکا نے یورپ کو روس کے ساتھ آپس میں ہی اک دوسرے سے کرو جو کرنا ہے کہہ کر انہیں ان کے اپنے حال پر چھوڑ دیا ہے۔ ٹرمپ گرین لینڈ اور کینیڈا کو امریکا کا حصہ بننے اور بنانے کی بات بھی کر چکا ہے۔

مزید پڑھیے: پاکستان ایسے ہی ڈارلنگ نہیں بنا، محنتیں ہیں

ٹرمپ جب کچھ ایسا انوکھا کہتا ہے تو امریکی میڈیا کھوج میں لگ جاتا ہے کہ ٹرمپ کو یہ پٹی کس نے پڑھائی۔ ران لاڈر ارب پتی امریکی یہودی ہیں جو سابق سفارتکار رہے ہیں۔ 7 سال پہلے انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ایک کرسمس گزاری جہاں انہیں گرین لینڈ کو حاصل کرنے کا آئڈیا پیش کیا۔ وینزویلا آپریشن کا آئیڈیا پیش کرنے کا کارنامہ یو ایس سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو کے سر باندھا جا رہا ہے۔ روبیو ایک وقت میں ٹرمپ کے شدید ناقد اور مخالف رہے ہیں اب ٹرمپ ٹیم کے اہم رکن ہیں۔

مارکو روبیو کے والدین کیوبا سے امریکا آئے تھے۔ روبیو افغانستان اور عراق کی جنگوں کے حمایتی رہے ہیں۔ امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے 2 دسمبر کو فاکس نیوز کو ایک انٹرویو ریکارڈ کرایا تھا۔ اس انٹرویو میں روبیو کا کہنا تھا کہ وینزویلا پورے خطے کے عدم استحکام کا باعث ہے۔ 80 لاکھ آبادی ہمسایہ ملکوں کو ہجرت کر چکی ہے۔ وینزویلا ایران کا فٹ گراؤنڈ اور حزب اللہ کا حمایتی بنا ہوا ہے۔ ایران اپنا جھنڈا ہمارے بیک یارڈ، وینزویلا میں گاڑ چکا ہے۔ اگر آپ امریکا فرسٹ پر فوکس ہیں تو شروعات اسی ہیمسفئر (خطے) سے کرنی ہوگی جہاں آپ رہتے ہیں۔ ویسٹرن ہمسفیئر کو امریکا اپنا حلقہ اثر مانتا ہے اور ٹرمپ کا خیال ہے کہ یہاں کوئی کارروائی کرنے لیے یو این سے کچھ پوچھنے کی ضرورت نہیں۔

حزب اللہ پر مختلف اوقات میں وینزویلا اور لاطینی امریکا میں اپنے قدم جمانے اور نیٹ ورک چلانے کے الزامات لگتے رہے ہیں ۔ وینزویلا کے صدر کو اٹھا کر امریکا لائے جانے والے آپریشن کی مذمت کرنے میں حزب اللہ نے دیر نہیں لگائی تھی۔ ایران اور وینزویلا بارٹر کی بنیاد پر تیل کا تبادلہ کرتے ہوئے امریکی پابندیوں کو بے اثر کرتے تھے۔ ایران نے اپنے ڈرون اور دفاعی پیدوار کی پروڈکشن وینزویلا شفٹ کی تھی ۔ 2025 میں ایران نے ریکارڈ تیل ایکسپورٹ کیا تھا۔

مزید پڑھیں: سینٹرل ایشیا کے لینڈ لاک ملکوں کی پاکستان اور افغانستان سے جڑی ترقی

وینزویلا کے خلاف امریکی فوجی آپریشن کی بڑی وجہ ایران اور چین ہیں۔ وینزویلا کے صدر کی امریکی آپریشن میں پکڑے جانے سے پہلے لاطینی امریکا کے لیے چین کے خصوصی نمائندے چیوشیاوچی سے ملاقات کی تھی۔ وینزویلا کے حوالے سے ایک چینی آفیشل کے حوالے سے ٹیلی گراف کلکتہ میں بتایا گیا ہے کہ چین خود کو ایک قابل اعتبار دوست ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ایران کے لیے وینزویلا میں امریکی کارروائی ایک بڑا سیٹ بیک ہے جس کے بعد ایران ایک اہم اتحادی سے محروم ہوا ہے اور اس کے خلاف گھیرا مزید تنگ ہوتا محسوس ہو رہا ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

وسی بابا

وسی بابا نام رکھا وہ سب کہنے کے لیے جن کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔ سیاست، شدت پسندی اور حالات حاضرہ بارے پڑھتے رہنا اور اس پر کبھی کبھی لکھنا ہی کام ہے۔ ملٹی کلچر ہونے کی وجہ سے سوچ کا سرکٹ مختلف ہے۔ کبھی بات ادھوری رہ جاتی ہے اور کبھی لگتا کہ چپ رہنا بہتر تھا۔

اغوا برائے ایران اغوا برائے چین امریکا وینزویلا وینزویلا کے صدر کا اغوا.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اغوا برائے ایران اغوا برائے چین امریکا وینزویلا وینزویلا کے صدر کا اغوا وینزویلا کے امریکا کے شامل ہیں رہے ہیں کے کچھ ہے اور کی تھی کے لیے

پڑھیں:

امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان

امریکی کانگریس میں زیرِ غور ایک نئی دفاعی تجویز امریکا اور اسرائیل کے عسکری تعلقات کو غیرمعمولی حد تک مضبوط بنا سکتی ہے۔ اگر یہ شق قانون بن گئی تو دونوں ممالک نہ صرف اسلحہ سازی، تحقیق اور دفاعی ٹیکنالوجی میں مشترکہ طور پر کام کریں گے بلکہ ان کی دفاعی صنعتیں اور عسکری نظام پہلے سے کہیں زیادہ ایک دوسرے سے جڑ جائیں گے، جسے ماہرین امریکا اسرائیل تعلقات میں ایک تاریخی تبدیلی قرار دے رہے ہیں۔

امریکی کانگریس میں پیش کیے گئے دفاعی بجٹ بل کی ایک اہم شق امریکا اور اسرائیل کے درمیان فوجی اور دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے کی راہ ہموار کر رہی ہے، جس کے تحت دونوں ممالک اسلحہ سازی، دفاعی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور عسکری نظاموں کے انضمام میں پہلے سے کہیں زیادہ قریبی شراکت داری قائم کر سکیں گے۔

’امریکا اسرائیل دفاعی ٹیکنالوجی تعاون اقدام‘ کے عنوان سے یہ تجویز مالی سال 2027 کے نیشنل ڈیفنس آتھرائزیشن ایکٹ (این ڈی اے اے) میں شامل کی گئی ہے، جو ہر سال امریکی دفاعی پالیسی، عسکری پروگراموں اور دفاعی اخراجات کے تعین کے لیے منظور کیا جاتا ہے۔ یہ تجویز ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے مسودے میں سیکشن 224 کے طور پر شامل ہے۔

اگر یہ شق حتمی طور پر قانون بن جاتی ہے تو امریکا اور اسرائیل کے درمیان تعلقات محض امریکی فوجی امداد تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ دونوں ممالک کی دفاعی صنعتیں اور عسکری ڈھانچے گہرے طور پر ایک دوسرے سے منسلک ہو جائیں گے۔

مجوزہ قانون کے مطابق امریکی وزیر دفاع کو ایک خصوصی ’ایگزیکٹو ایجنٹ‘ مقرر کرنا ہوگا جو امریکا اور اسرائیل کے درمیان تمام فوجی تعاون کی نگرانی اور رابطہ کاری کا ذمہ دار ہوگا۔ اس کے دائرۂ کار میں مشترکہ تحقیق و ترقی، اسلحے کی مشترکہ تیاری، دفاعی نظاموں کا باہمی انضمام اور عسکری معلومات و ڈیٹا کا تبادلہ شامل ہوگا۔

امریکی محکمہ خارجہ کے سابق عہدیدار اور ’اے نیو پالیسی‘ نامی تنظیم کے بانی جوش پال نے اس تجویز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس اب ایسے طریقے تلاش کر رہی ہے جن کے ذریعے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو امریکی دفاعی صنعتی ڈھانچے میں اس قدر گہرائی تک شامل کر دیا جائے کہ مستقبل میں انہیں الگ کرنا تقریباً ناممکن ہو جائے۔

انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ مجوزہ قانون اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی فراہم کرے گا اور امریکی فوج کو اسرائیلی دفاعی نظام اپنی اہم عسکری سپلائی چین میں شامل کرنے کا پابند بنا دے گا، جس سے اسرائیل کو امریکی دفاعی ترجیحات پر بھی نمایاں اثر و رسوخ حاصل ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے ٹرمپ کے ’بورڈ آف پیس‘ کا غزہ فنڈ خالی، اربوں دینے کا وعدہ کرنے والے ایک ڈالر بھی دینے کو تیار نہیں

امریکا اور اسرائیل اس وقت بھی مشترکہ طور پر کئی دفاعی منصوبوں پر کام کر رہے ہیں، جن میں ’آئرن ڈوم‘ میزائل دفاعی نظام نمایاں ہے۔ تاہم نئی تجویز اس تعاون کو مصنوعی ذہانت (AI)، ڈرون ٹیکنالوجی، سائبر آپریشنز اور جدید جنگی نظاموں سمیت کئی نئے شعبوں تک وسعت دے گی۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ شدید کشیدگی کا شکار ہے۔ رواں سال فروری میں امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائی کی تھی، جس کے بعد تقریباً پانچ ہفتوں تک جاری رہنے والی جنگ میں ایران نے اسرائیل اور خلیجی خطے میں واقع امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ بعد ازاں اپریل میں جنگ بندی عمل میں آئی۔

دوسری جانب اسرائیل کو غزہ میں جاری جنگ کے باعث بین الاقوامی سطح پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ جنوبی افریقہ نے اسرائیل کے خلاف بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں نسل کشی کا مقدمہ بھی دائر کر رکھا ہے۔

مجوزہ بل کو قانون بننے کے لیے پہلے ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی سے منظوری حاصل کرنا ہوگی، جس پر جون کے اوائل میں غور متوقع ہے۔ اس کے بعد اسے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں سے منظوری درکار ہوگی۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ اس تجویز کو کمیٹی کے ریپبلکن چیئرمین مائیک راجرز اور سرکردہ ڈیموکریٹ رکن ایڈم اسمتھ نے مشترکہ طور پر پیش کیا ہے، جس کے باعث اسے دونوں بڑی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔ تاہم حالیہ رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی عوام، خصوصاً ڈیموکریٹس اور بعض ریپبلکن حلقوں میں اسرائیل کے لیے مزید فوجی حمایت کی مخالفت بڑھ رہی ہے۔

امریکا کئی دہائیوں سے اسرائیل کی فوجی معاونت کا سب سے بڑا ذریعہ رہا ہے۔ 2008 سے امریکی قانون واشنگٹن کو اسرائیل کی ’معیاری عسکری برتری‘ برقرار رکھنے کا پابند بناتا ہے تاکہ خطے میں کوئی بھی حریف ملک عسکری اعتبار سے اس پر سبقت حاصل نہ کر سکے۔

سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں طے پانے والے موجودہ معاہدے کے تحت امریکا اسرائیل کو سالانہ تقریباً 3.8 ارب ڈالر کی فوجی امداد فراہم کرتا ہے، جبکہ یہ دس سالہ معاہدہ 2028 تک نافذ العمل ہے۔

یہ بھی پڑھیے صدارت کے بعد وزارت عظمیٰ: اسرائیل میں بیحد مقبول ہوں، وزیراعظم کا انتخاب لڑوں گا، ڈونلڈ ٹرمپ کا ’عندیہ‘

1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد سے اب تک وہ امریکی غیرملکی امداد کا سب سے بڑا وصول کنندہ رہا ہے۔ افراطِ زر کو مدنظر رکھا جائے تو امریکا کی مجموعی امداد 300 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، جس کا بڑا حصہ اب فوجی معاونت پر مشتمل ہے۔

تاہم اب اس تعلق کی نوعیت تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے حال ہی میں کہا تھا کہ ان کا ملک آئندہ دس برسوں میں امریکی فوجی امداد پر انحصار ختم کرنا چاہتا ہے کیونکہ اسرائیل اب ایک بالغ اور خودمختار عسکری قوت بن چکا ہے۔

ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کی دفاعی صنعتوں کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون اور مشترکہ ٹیکنالوجی پروگرام اسی حکمتِ عملی کا حصہ ہو سکتے ہیں، جن کے ذریعے مالی امداد کی جگہ صنعتی اور تکنیکی شراکت داری کو فروغ دیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان