وینزویلا کے ملٹری آپریشن میں بہت سے فوجی مارے گئے؛ ٹرمپ کے انکشاف نے ہلچل مچادی
اشاعت کی تاریخ: 6th, January 2026 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی بیوی سلیا فلورس کی گرفتاری کے دوران امریکی فوجی کارروائی میں "بہت سے، بہت سے" کیوبائی ہلاک ہوئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق کیوبا کے حکام نے بھی تصدیق کی ہے کہ وینزویلا میں امریکی حملے اور صدارتی محل میں آپریشن کے دوران 32 کیوبائی شہری مارے گئے۔
کیوبائی حکام نے واضح کیا کہ مارے گئے افراد فوجی نہیں بلکہ کیوبائی شہری تھے اور وہ مادورو کے صدارتی کمپاؤنڈ میں موجود تھے۔
کیوبا کی وزارت خارجہ نے ان ہلاکتوں کو عالمی قوانین اور انسانی حقوق کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ہلاکتیں بلاجواز اور قابل افسوس ہیں۔
قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اعتراف کیا کہ کارروائی کے دوران "بہت سے، بہت سے" کیوبائی ہلاک ہوئے مگر انہوں نے اسے "شاندار" فوجی کارروائی بھی قرار دیا۔
ٹرمپ کے بیان میں واضح ہے کہ یہ کیوبائی شہری نہیں بلکہ فجی تھے یعنی یہ افراد صدر مادورو کی سیکیورٹی پر مامور محافظ ہوسکتے ہیں۔
امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مارے گئے کیوبائی افراد صدر مادورو کے کمپاؤنڈ میں تھے اس لیے یہ گارڈز بھی ہوسکتے ہیں۔
یاد رہے کہ 3 جنوری کو امریکی اسپیشل خصوصی ٹیم نے وینزویلا میں صدارتی محل میں گھس کر بیڈروم سے نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو حراست میں لیا۔
امریکی اہلکار وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ کو گھسیٹتے ہوئے بیڈ روم سے کمپاؤنڈ میں لائے اور ہیلی کاپٹر میں بٹھا کر سمندر میں منتظر بحری جہاز پر لے گئے۔
یہ بحری جہاز وینزویلا کے صدر اور خاتون اوّل کو سیکیورٹی حصار میں امریکا لے گیا جہاں دونوں کو اگلے روز نیویارک کی عدالت میں پیش کیا گیا۔
عدالت نے نکولس مادورو پر منشیات دہشتگردی، کوکین کی سپلائی اور امریکا کے خلاف سازش جسے جرائم عائد کیے۔
نکولس مادورو نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مجھے گرفتار نہیں بلکہ اغوا کیا گیا اور میں اب بھی وینزویلا کا صدر ہوں۔
ان کی اہلیہ نے بھی عدالت میں الزامات کو بے بنیاد اور جھوٹا قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ محض سیاسی مقدمات ہیں جن کا مقصد وینزویلا کے وسائل پر قبضہ کرنا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نکولس مادورو وینزویلا کے اور ان بہت سے
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔