یکم شعبان 1447 ہجری 21 جنوری 2026 کو ہونے کا امکان، محکمہ موسمیات
اشاعت کی تاریخ: 7th, January 2026 GMT
ویب ڈیسک:محکمہ موسمیات نے شعبان کے چاند سے متعلق پیش گوئی جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ یکم شعبان 1447 ہجری بروز بدھ 21 جنوری 2026 کو ہونے کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق شعبان کا نیا چاند 19 جنوری 2026 کو رات 12 بج کر 52 منٹ پر پیدا ہوگا، تاہم 19 جنوری کی شام کراچی سمیت ملک کے کسی بھی حصے میں چاند نظر آنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
محکمے کا کہنا ہے کہ غروبِ آفتاب کے وقت چاند کی عمر 17 سے 18 گھنٹے کے درمیان ہوگی، جبکہ اتنی کم عمر میں چاند کا نظر آنا ممکن نہیں ہوتا۔ رویت کے لیے چاند کی عمر کم از کم 19 گھنٹے سے زائد ہونا ضروری سمجھی جاتی ہے۔ غروبِ آفتاب کے وقت چاند کی عمر تقریباً 17 گھنٹے 40 منٹ ہوگی۔
ملک میں سیمنٹ کی بوری سستی ہوگئی
محکمہ موسمیات کے مطابق سندھ میں چاند غروبِ آفتاب کے بعد 32 سے 33 منٹ تک افق پر موجود رہے گا جبکہ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں یہ دورانیہ 30 سے 31 منٹ ہوگا۔ مطلع صاف یا جزوی طور پر ابر آلود ہونے کے باوجود چاند نظر آنے کے امکانات نہیں ہیں۔ 29 رجب کو بھی ملک بھر میں چاند نظر آنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اس حوالے سے رویت ہلال کمیٹی کو تفصیلی رپورٹ ارسال کر دی گئی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: محکمہ موسمیات میں چاند
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔